پاکستانتازہ ترین

عوام کو انصاف نہیں مل رہا، عید کے بعد بڑی کال دیں گے: حافظ نعیم الرحمان

امریکہ کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا تاہم ثالثی کا عمل ضرور ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی کا کارکنوں سے خطاب

پشاور، لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اے ٹی ایم کے ذریعے حکومت میں آتی ہیں، عید کے بعد ملک میں بڑی کال دینگے، موجودہ عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
پشاور میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی محض تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اصل مسئلہ پورے سسٹم کو بدلنے کا ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں میں صرف اے ٹی ایم مشینوں کی قدر ہے اور جو لوگ صرف سیٹوں کے لیے سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی میں چلے جائیں، جبکہ نظام بدلنے کے خواہشمند افراد جماعت اسلامی کا حصہ بنیں۔
انہوں نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کو مزید طاقت دینے کا کوئی فائدہ نہیں اور اے سی اور ڈی سی کو فنڈز دینے کا نظام قابل قبول نہیں، چند افراد کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے۔ پاکستان میں تعلیم کا بحران سنگین ہے، پنجاب میں ایک کروڑ جبکہ خیبرپختونخوا میں پچاس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ حافظ نعیم نے کہا کہ امریکہ کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا تاہم ثالثی کا عمل ضرور ہونا چاہئے۔ 2001ء میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا ہے جس کو سراہا جانا چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ خوار ہو چکے ہیں اور ان سے قربتیں بڑھانے کی بجائے باوقار خارجہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی کوششیں درست سمت میں ہیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی ہے جبکہ امریکہ نے اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کی۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران پچھلے چھ ہفتوں میں حکومت نے 180ارب روپے وصول کیے اور پٹرول لیوی کے ذریعے بھی اربوں روپے اکٹھے کیے گئے۔ انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی مظالم اور ٹرمپ کے خلاف کوئی واضح موقف نہیں اپنایا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اللہ کی زمین پر اس کا عدل و انصاف کا نظام قائم کریں، جماعت اسلامی میں ہر ایک شامل ہو سکتا ہے جبکہ جماعت اسلامی میں قوم پر ستی اور مسلک پرستی نہیں، زندگی گزارنے کیلئے دین کے تابع اور آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہمارا قلیتی ونگ بھی فعال اور مضبوط ہے، 24لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، عدالتی نظام تبدیل کرنا ہوگا، فوری اور مفت انصاف ہر شہری کا حق ،ہم یہ نظام لے کر آئیں گے جس سے عدالتیں عدل و انصاف کے نظام پر فیصلہ کریں۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں انصاف نہیں ملتا وہ معاشرہ آگے نہیں بڑھتا، سفارش اور دولت کے بغیر کوئی اپنا مسئلہ حل نہیں کر سکتا، معیشت، تجارت اور انصاف بھی اسلامی ضابطوں پر ہونا چاہیے جبکہ انگریز کا بنا یا بیوروکریسی نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button