پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ٹرانس جینڈرز پارٹی کیس،مقدمہ کا اخراج چیلنج،تقریب کے ایجنڈے کے جائزے کا فیصلہ

گلبرگ کے نجی سٹوڈیو میں شوٹنگ کی آڑ میں عریاں پرفارمنس کی گئی،تقریب کے خفیہ ایجنڈے کی تفتیش جاری، ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف نہیں،قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دینگے:ڈی آئی جی فیصل کامران

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لاہور پولیس نے متنازع ’ٹرانس جینڈر ڈانس پارٹی‘ پر درج مقدمہ کے اخراج کے فیصلے کو چیلنج کرنے اور ایجنڈکے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پنجاب حکومت کی مدعیت میں لاہور کے تھانہ نصیر آباد میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھاکہ اس پارٹی کی وائرل ہونے والی ’قابل اعتراض ویڈیوز سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے‘ اور ’اس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں آئے۔‘

ایف آئی آر میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے 50 سے 60 افراد کو نامزد کیا گیا جس میں پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 292 اور 292 اے کے تحت ’فحش مواد کی تشہیر، پرنٹنگ اور سیکشن 294‘ جیسی دفعات لگائی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق اس پارٹی کا اہتمام یکم اگست کو کیا گیا تھا، تاہم اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان کو حراست میں لیا گیا،پولیس مقدمہ کے اخراج کے فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کرےگی۔

 

ڈی آئی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق شہر میں کسی بھی تقریب جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، اس کے لیے پولیس کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔

فیصل کامران کے مطابق لاہور کے علاقے ’گلبرگ میں ایک نجی سٹوڈیو کو 12 گھنٹے کے لیے کرائے پر حاصل کیا گیا۔ وہاں شوٹنگ اور پرفارمنس کی آڑ میں عریاں قسم کے لباس اور قابل اعتراض پرفارمنس کی گئیں۔

ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ’سٹوڈیو کے مالک کو علم ہونا چاہیے تھا کہ وہاں کسی قسم کی سرگرمی ہو رہی ہے۔ اگر اُسے علم نہیں تھا تو وہ بعد میں بھی پولیس کو آگاہ کر سکتے تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی تقریبات کا کیا کوئی خفیہ ایجنڈا تھا، اس کی تفتیش جاری تھی۔

ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پولیس ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن ملکی اقدار اور قوانین کی خلاف ورزی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button