ایمن آباد(ویب ڈیسک )پاکستان کےپنجاب میں سیالکوٹ کے قریب واقع ایمن آباد کی تاریخ برفی سے بہت پرانی ہے۔مغل بادشاہ بھی جب کبھی یہاں سے گزرتے تو ایمن آباد میں ضرور قیام کرتے تھے،باباگرو نانک نے اپنے روحانیت اور ہمدردی کے پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنے سفر کے دوران ایمن آباد کا بھی دورہ کیا۔ایمن آباد میں سکھوں کے تین مقدس مقامات ہیں جن میں گرودوارہ روہڑی صاحب، گرودوارہ چکی صاحب اور گرودوارہ بھائی لالو صاحب ہے۔گوردوارہ روہڑی صاحب کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ گرو نانک نے یہاں مراقبہ اور غور و فکر میں کافی وقت گزارا۔۔ سکھ روایات کے مطابق جب گرو نانک ایمن آباد گئے تو ان کی ملاقات بھائی لالو سے ہوئی جو ایک عام سے بڑھئی تھے مگر بعد میں سکھ مذہب میں ایک اہم شخصیت بن کر سامنے آئے۔
قیام پاکستان سے پہلے اس علاقے میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی اور ان کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھا۔قیام پاکستان سے پہلے جب انڈیا اور پاکستان ایک ہی تھے اس وقت تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی مقدس عبادت گاہوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور ایمن آباد میں واقع سکھ مذہب کے بانی گورونانک دیو جی کا گرودوارہ روہڑی صاحب بھی اس کی ایک مثال ہے جس کی تعمیر میں سکھوں کے علاوہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے بھی اپنی مالی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔اس گرودوارے کی نگرانی کرنے والے سریندر سنگھ نے اس کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ سکھ مذہب کے بانی گرونانانک جب پہلی اداسی میں سکون کی تلاش میں اس جگہ پر آئے تھے تو انھوں نے ریت اور کنکر (روہڑی) بچھا کر عبادت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت بابا گرونانک اس جگہ پر آئے تھے تو یہ ایک ویران جنگل تھا اور یہاں بیٹھ کر انھوں نے عبادت کرنے کے ساتھ گھاس وغیرہ کھا کر گزارا کیا تھااس گرودوارے کی تعمیر میں اس وقت جس نے سب سے زیادہ حصہ ڈالا تھا وہ اس وقت کا ایک ہزار روپیہ تھا جو آج کے دور کے مطابق ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے اس میں دوسرے نمبر پر گوجرانوالہ کے ایک ٹرانسپورٹر سردار نہال سنگھ بھی شامل تھے جنھوں نے اس وقت گرودوارے کی تعمیر میں پانچ سو روپیہ دیا تھا۔محکمہ اوقاف کے مطابق جس جگہ پر بابا گرونانک عبادت کیا کرتے تھے اس کو تو اس وقت کے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے محفوظ کرلیا تھا لیکن اس کی تزئین و آرائش کا کام سنہ 1997 میں شروع کیا گیا تھا جو آج تک جاری ہے۔اس گرودوارے کے ساتھ تالاب بھی ہے جو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور ابھی بھی اس کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام جاری ہے۔گرودوارہ روہڑی صاحب کے نگران سردار سریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بیساکھی کے اس میلے کا سکھ مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکھوں کی بیساکھی کا تہوار حسن ابدال پنجہ صاحب کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ایمن آباد میں سکھوں کے لیے ایک اور مقدس جگہ موجود ہے اور اسے گرودوارہ چکی صاحب کا نام دیا گیا ہے۔
سردار سریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ سکھ مذہب کی روایات کے مطابق ’بابا گرونانک کو جب یہاں پر قید کیا گیا تو انھوں نے ایسا کچھ پڑھا جس سے وہاں پر لگی ہوئی چکیاں خود اپنے آپ ہی چل پڑیں اور وہاں کی سکیورٹی پر موجود افراد نے اس بارے میں اس وقت کے بادشاہ کو آگاہ کیا،بابا گرونانک کے ساتھ ساتھ 30 ہزار قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا۔سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے اس جگہ پر بیٹھ کر چکی پیسی تھی جس کی وجہ سے اس گرودوارے کا نام گرودوارہ چکی صاحب رکھا گیا ہے۔
گرودوارہ چکی صاحب سے کچھ فاصلے پر بابا گرونانک کے چاہنے والے بھائی لالو کا گھر بھی ہے جسے لالو بھائی کا گرودوارہ کا نام دیا گیا ہے۔سردار سریندر سنگھ سکھ مذہب کی تاریخ میں درج ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب بابا گرونانک بھائی لالو کے گھر پر آئے اور کہا کہ انھیں بھوک لگی ہوئی ہے لہذا اگر گھر میں کچھ کھانے کو ہے تو دے دیں جس پر بابا گرونانک کو بتایا گیا کہ ان کے گھر میں تو باجرے کے آٹے کی سوکھی روٹی پڑی ہوئی ہے جس پر گھر والوں کو کہا گیا کہ وہ سوکھی روٹی ہی لے آئیں سریندر سنگھ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسی روز اس گاؤں کے بڑے زمیندارملک بھاگو کے گھر پر دعوت تھی اور انھوں نے بابا گرونانک کو بھی کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا لیکن بابا گرونانک ان کے گھر نہیں گئے اور وہ بھائی لالو کے گھر پر آگئے۔جب گاؤں کے زمیندار کو اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ تیار کیے گئے مختلف پکوان اٹھا کر اور لوگوں کو اکھٹا کرکے بھائی لالو کے گھر پر آ گئے اور تکبرانہ انداز میں کہا کہ ایک غریب آدمی کی اس کے سامنے کیا اوقات ہے۔سردار سریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’روایت ہے کہ سکھ مذہب کی تاریخ کے مطابق بابا گرونانک نے ایک ہاتھ میں بھائی لالو کی باجرہ کے آٹے سے بنی ہوئی روٹی کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ میں زمیندارکے گھر سے بنے ہوئے دیسی گھی کے پوڑے۔ انھوں نے کہا کہ بھائی لالو کی باجرے کی روٹی سے دودھ نکل رہا تھا جبکہ زمیندار کے گھر سے بنی ہوئی دیسی گھی کی روٹی سے خون نکل رہا تھا۔روایات کے مطابق جس جگہ پر بابا گرونانک نے بیٹھ کر باجرے کے آٹے کی بنی ہوئی روٹی کھائی تھی اس جگہ کو محکمہ اوقاف نے محفوظ کرلیا ہے۔ایمن آباد لاہور سے تقریبا 50 کلو میٹر دور ہے اور ایک گھنٹے کی مسافت سے سکھ یاتری ایمن آباد پہنچ جاتے ہیں۔



