انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاک،بنگلہ دیش تعلقات بحالی،معرکہ حق سے بھارتی تکبر خاک،وجودکوبھی خطرہ

1971 کی جنگ کے حوالے سے فرضی قصے کہانیاں بے نقاب، بنگالی بھارت کی نفسیاتی بالادستی سے آزاد ،، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، چین، ایران، افغانستان بھی بھارت کا ساتھ چھوڑچکے:رپورٹ

لاہور:(رپورٹ/میاں حبیب) وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار نے حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے اور وہاں کی تمام اعلی قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان ملاقاتوں سے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے دو بچھڑے بھائی مدتوں بعد ملے ہوں جیسے دو بھائی ناراض ہو کر بٹوارہ کرنے کے بعد اکھٹے ہوئے ہوں 1971 میں جب پاکستان دولخت ہوا تو پوری قوم بہت مایوس تھی بنگلہ دیش کا قیام دشمن کی مکروہ سازش تھی یہ بڑا گہرا گھائو تھا جس کا درد آج تک محسوس ہو رہا ہے چونکہ بنگلہ دیش کی آزادی میں بھارت کا بنیادی کردار تھا اس لیے بنگلہ دیش کی زیادہ تر حکومتیں بھارت کے زیر اثر رہیں۔

بھارت نے بنگالیوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بو کر ہمیشہ کے لیے پاکستان کو ایک دشمن ریاست کے طور پر پیش کیا اور پھر ایک ریاستی پالیسی کے طور پر پاکستان کو ایک دشمن ملک سمجھ کر پاکستان کے خلاف نفرت کی بنیاد پر سیاست رچائی گئی 1971 کی جنگ کے حوالے سے افواج پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے فرضی قصے کہانیاں بنا کر پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا جاتا رہا بھارت بنگلہ دیش کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہماری خلوص نیت سے کی گئی پیشکشوں کو ٹھکرایا جاتا رہا اور بنگلہ دیش بڑی دیر تک بھارت کی طفیلی ریاست بنا رہا ۔

پاکستان سے ہمدردی رکھنے والے محب وطن بنگالیوں کو پھانسی کی سزائیں دی گئیں پھر وقت نے پلٹا کھایا بنگلہ دیش کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو جب اس بات کی سمجھ آئی کہ ان کے بڑوں کو کس طرح بھارت نے استعمال کرکے پاکستان کے خلاف سازش کی ہے تو ان میں تبدیلی کی خواہش جنم لینے لگی اور بالآخر سٹوڈنٹس وہاں انقلاب لے آئے اب بنگلہ قوم انڈیا کے خلاف نفرت کی انتہائوں کو چھو رہی ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا اعادہ کیا جا رہا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت شروع ہو چکی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے متعدد پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں پاکستان طلبہ کو سکالر شپ دے رہا ہے سرکاری سطح پر ویزہ فری کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ عوامی سطح پر بھی ویزوں میں آسانی پیدا کی جا رہی ہے۔

بھارت کا بنگلہ دیش میں عمل دخل بہت کم ہو گیا ہے اور بنگالی بھارت کی نفسیاتی بالادستی سے آزاد ہو چکے ہیں پرویز مشرف کے دور میں ہمیں دہلی میں ہونے والی سارک کانفرنس میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے ہمراہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہماری ملاقات بنگالی صحافیوں سے ہوئی ہمیں اس وقت اندازہ ہوا کہ بنگلہ قوم میں بڑی بیزاری پائی جاتی ہے اور وہ اپنی حکومتوں سے انڈیا کی بالادستی کے معاملہ میں ناراض ہیں بنگالی صحافیوں نے کھل کر عوامی جذبات کا اظہار کیا اسی طرح حج کے دوران بھی ہماری بنگالی بھائیوں سے گپ شپ رہی مدینہ منورہ میں ہم جس ہوٹل میں ٹھرے ہوئے تھے وہاں کچھ بنگالی بیوروکریٹ بھی قیام پذیر تھے۔

ان سے بھی گپ شپ میں ہمیں احساس ہوا کہ وہ لوگ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن وہاں کی بعض سیاسی قیادتوں، بھارت نواز اسٹیبلشمنٹ اور انتظامی لابی کے خوف نے اس سوچ کو دبا رکھا ہے، بھارت کی وجہ سے پورے خطے کے ممالک آج بھی ترقی کے ثمرات سے بہت دور ہیں حتی کہ سکھوں کو بھی سمجھ آ چکی ہے کہ 1947 میں بھارت نے انھیں استعمال کر کے خون خرابہ کروایا اور وہ اپنے اس کردار پر نادم دکھائی دیتے ہیں لیکن بھارت کے دل میں کینہ بھرا ہوا ہے وہ نہ صرف پاکستان کو تسلیم نہیں کر پا رہا۔

قیام پاکستان کے وقت لگنے والے زخم اور بنگلہ دیش کی علیحدگی کا دکھ دوتین نسلوں کے بعد مندمل ہو چکا ہے صرف نشان اور یادیں رہ گئی ہیں پاکستان حال کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہتا ہے امن کا خواہاں ہے سب کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن بھارت آج بھی دشمنی کی آگ میں جل رہا ہے۔

آج بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، چین، ایران، افغانستان سب بھارت کو چھوڑ چکے ہیں بھارت خطے میں تنہا ہو چکا ہے لیکن ضد پر کھڑا ہے پاکستان نے معرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کے تکبر اور اس کی سپرمیسی کی سوچ کو خاک میں ملا دیا ہے اگر بھارت نے اپنی متکبرانہ اور انتہا پسند پالیساں تبدیل نہ کیں تو بھارت زیادہ عرصہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گا دنیا بدل رہی ہے لیکن بھارت اپنی دقیا نوسی سوچ کے ساتھ کھلواڑ سے باز نہیں آ رہا۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button