کچھ شامیں زندگی کا حاصل ہوتی ہیں وہ ساری زندگی آپ کےساتھ بستی ہیں چاہےآپ ان شاموں کو بسر کر چکے ہوں مگر ان کی یادیں آپ کے دل دماغ کے نہال خانوں میں برپا رہتی ہیں ، ایسی ہی چند شامیں ہیں جو ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر گزری تھیں ، میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بطور محقق کام کرتا اور ان کا سوشل میڈیا اکائونٹ ہینڈل کرتا تھا۔

اکثر صبح کو مگر زیادہ تر شام کو انکے گھر جاتا تھا میں ایف ایم ریڈیو 103 میں رپورٹر تھا پروگرام بھی کرتا تھا انکے ہفت روزہ ،ہم شہری، میں فیچر رائٹربھی تھا ساتھ روز نامہ آج کل میں کالم نویس تھا ، روزنامہ آج کل، ایف ایم 103 کے دفاتر اور ڈاکٹر مبشر کا گھر سب لاہور کی پرانی پوش بستی گلبرگ میں دو یا تین سٹرکوں کے فاصلے پر تھے یوں میری رسائی بہت آسان تھی ۔
ڈاکٹر صاحب کے گھر کیا نابغہ روزگار ہستیاں جلوہ افروز ہوتی تھیں ، آئی اے رحمان حسین ،نقی حسن ،جعفرزیدی، خالد محبوب لڈو عدنان عادل، فرخ سہیل گوئندی ،جاوید اقبال معظم ،کامران اسلام سب کسی نہ کسی روز شام کو آجاتے تھے مگر خالد محبوب لڈو روز شام کو آتے تھے ڈاکٹر صاحب سے ہر گھنٹے بعد چائے کی فرمائش کرتے سردیوں میں 3 سے 6 بجے تک اور گرمیوں میں 5 سے 8 بجے تک محفل برپا رہتی۔
ڈاکٹر صاحب کا ملازم کبھی چائے کے ساتھ سموسے نمک پارے اور جلیبیاں رکھ دیتا اور اہل دانش گفتگو جاری رکھتے ، یہ ملازم کی صوبداید تھی کہ وہ چائے کے ساتھ کس دن کیا رکھے داکٹر صاحب نے کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی ، خالد مجبوب لڈو لاہور کے ترقی پسند حلقوں میں نمایاں نام تھے بطور محقق انہوں نےپہلے ڈاکٹر مظفر کے پپلز فرنٹ کے لئے کام کیا پھر حسن جعفر زیدی کے ساتھ مل کر 12 کتابوں پر کام کیا آخر میں ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ بھی وابستہ رہے ۔
لڈو صاحب بطور ریسرچر ہی معروف تھے حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں اکثر مضامین پڑھتے تھے مگر کبھی ان مضامین کو کتابی صورت میں شائع نہیں کرایا ڈاکٹر مبشر حسن کے بھائی داکٹر شبر حسن کا طویل کام آپ بیتی کی صورت میں ریکارڈ کیا مگر وہ بھی کتابی صورت میں شائع نہ ہوا ، خالد محبوب لڈو ریلوے میں نوکری کے بعد ایک سکول سے بطور پرنسپل بھی وابستہ رہے۔
انکا علم ،مشاہدہ اور مطالعہ بہت زیادہ تھا مگر افسوس کہ اس علم کو کتابی صورت میں شائع نہ کرا سکے یوں انکی رحلت کے بعد بہت سا معیاری کام قارئین تک نہ پہنچ سکا مجھے یاد ہے ایک شام داکٹر مبشر کے گھر چائے پیتے ہوئے کہنے لگے ، حسنین ایک افسانہ میرے دماغ میں ہے جو ادھورا ہے کسی شام تم کو سنائوں گا تم اسے پایہ تکمیل نہ پہنچا دینا مگر دو تین بار میرے اصرار کے باوجود وہ افسانہ نہ سنا سکے یوں وہ افسانہ بھی ادھورا رہا ، بقول ساحر ، وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہوممکن ،اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا



