انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبارکالم

قومی ٹھیکیدار

بےلگام / ستارچوہدری

 

انتخابی جلسوں میں جب بھی کوئی سیاست دان مائیک سنبھالتا ہے تو اس کی تقریر کا سب سے روشن حصہ سڑکیں، پل، انڈرپاس، فلائی اوور، میٹرو بسیں اور اورنج ٹرینیں ہوتی ہیں۔ ایسے انداز میں یہ منصوبے گنوائے جاتے ہیں جیسے کسی قوم کی ترقی کا واحد پیمانہ یہی ہو۔

عوام سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو، ہم نے شہر کا نقشہ بدل دیا، سفر آسان کر دیا، نئی شاہراہیں بنا دیں۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا قومیں صرف کنکریٹ اور سیمنٹ سے بنتی ہیں۔۔؟ کیا مضبوط ریاست کی بنیاد سڑکوں پر رکھی جاتی ہے یا مضبوط اداروں پر۔۔؟دنیا کی تاریخ اس سوال کا جواب بہت پہلے دے چکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی پہچان ان کی بلند و بالا عمارتیں یا چوڑی شاہراہیں نہیں، بلکہ ایسے ادارے ہیں جو قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، معیاری تعلیم، قابلِ اعتماد صحت، انصاف اور میرٹ کی ضمانت دیتے ہیں۔

سڑکیں وہاں بھی بنتی ہیں، پل بھی تعمیر ہوتے ہیں، مگر وہ قومی ترقی کا نتیجہ ہوتے ہیں، مقصد نہیں۔ ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر انتخاب میں اداروں کی اصلاح، پولیس، عدلیہ، بلدیاتی نظام، تعلیم اور صحت کی بہتری پس منظر میں چلی جاتی ہے، جبکہ تعمیراتی منصوبے سیاسی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے۔۔؟ کیوں ہر حکومت اپنی توانائیاں اینٹ، بجری، سریے اور سیمنٹ پر صرف کرتی ہے، مگر اداروں کی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے سے گریزاں رہتی ہے۔۔؟ کیا یہ محض ترقی کا مختلف تصور ہے، یا اس کے پیچھے کوئی ایسی تلخ حقیقت موجود ہے جس پر بات کرنا ہماری سیاست پسند نہیں کرتی۔۔؟یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی گزشتہ کئی دہائیوں کی سیاست میں پوشیدہ ہے، اور شاید اسی جواب میں ہماری قومی زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ بھی چھپی ہوئی ہے۔۔

اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ تعمیراتی منصوبے سیاسی طور پر سب سے زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے، اس پر افتتاحی تختی لگ جاتی ہے، فیتہ کاٹ دیا جاتا ہے، تصویریں اور اشتہارات چھپ جاتے ہیں، اور اگلے انتخاب میں یہی منصوبہ ووٹ مانگنے کا ذریعہ بن جاتا ہے مگر کسی ادارے کی اصلاح کی کوئی تختی نہیں لگتی، انصاف کی فراہمی کی کوئی ربن کٹنگ نہیں ہوتی، پولیس کو غیرسیاسی بنانے یا سرکاری محکموں میں میرٹ نافذ کرنے کی کوئی رنگین تقریب منعقد نہیں ہوتی۔

اس لیے وہ کام، جو قوم کی اصل ضرورت ہوتے ہیں، اکثر سیاسی ترجیحات میں آخری نمبر پر چلے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ایک اور تلخ پہلو بھی موجود ہے۔ بڑے تعمیراتی منصوبوں میں اربوں اور کھربوں روپے کے فنڈز گردش کرتے ہیں۔ جب اتنی بڑی رقوم خرچ ہوں تو بدعنوانی، کمیشن، غیرشفاف ٹھیکوں اور مالی بے ضابطگیوں کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ بتانے کی کیا ضرورت،پینتیس،چالیس سال سے ملک میں دو پارٹیاں، جو دوخاندانوں کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں باری باری حکومت کررہی ہیں،ایک دوسری کی کرپشن،ناجائز دھندے قوم کو خود ہی بتاتے رہتے ہیں۔

دو روز قبل ہی ن لیگ کے اہم رہنما رانا ثناءاللہ نے بتایا پیپلزپارٹی نے پندرہ سال میں تین ہزار ارب کی کرپشن کی ہے اور اس سارے پیسے کی دبئی میں منی لانڈرنگ ہوئی ہے،اس سے پہلے ن لیگ نے ہی قوم کو بتایا تھا آصف زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ ہے،دوسری طرف آئیں،پیپلزپارٹی بھی ایسے ہی انکشاف شریف خاندان کے بارے کرتی رہی ہے،کئی بار پی پی رہنماؤں نے قوم کو بتایا شریف خاندان ملک کےسب سے بڑے چور ہیں،ان کے جائیدادیں چار براعظموں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

دونوں خاندانوں کیخلاف عدالتوں میں بدعنوانی ،منی لانڈرنگ کے کیس چلتے رہے۔اسی لئے سیاسی جماعتیں سیمنٹ،سریے سے آگے نہیں جاسکیں،اسی لئے ادارہ جاتی اصلاحات سب سے مشکل کام سمجھی جاتی ہیں۔ ایک آزاد اور مضبوط احتسابی نظام، غیرجانبدار پولیس، تیز رفتار عدالتی نظام، بااختیار بلدیاتی ادارے اور میرٹ پر چلنے والی بیوروکریسی صرف عوام کو فائدہ نہیں دیتی، بلکہ حکمرانوں کو بھی قانون کے دائرے میں لے آتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فرسودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والی سیاسی قوتیں اکثر اس نظام کو بنیادی طور پر بدلنے کے بجائے اسی کے اندر رہ کر اقتدار کی سیاست کو ترجیح دیتی ہیں۔ اور جب ادارے کمزور رہتے ہیں تو سڑکیں تو بنتی رہتی ہیں، مگر ریاست مضبوط نہیں بن پاتی۔
اگر کسی قوم کی ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور انڈرپاسوں سے ہوتی تو دنیا کے ہر امیر شہر میں انصاف، دیانت اور خوشحالی خودبخود پیدا ہو جاتی۔

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ قوموں کو کنکریٹ نہیں، ادارے عظیم بناتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہوں تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں بھی جلد بن جاتی ہیں، لیکن اگر ادارے ہی کھوکھلے ہوں تو چمکتی ہوئی شاہراہیں بھی قوم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتیں۔افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی باریاں بدلتی رہیں، مگر ترجیحات نہیں بدلیں۔ دہائیوں سے حکمرانی کرنے والی جماعتیں آج بھی عوام کے سامنے انہی سڑکوں، پلوں اور میٹرو منصوبوں کو اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتی ہیں، جبکہ یہ سوال بدستور کھڑا ہے کہ ہمارے چاروں صوبائی دارالحکومت آج تک شہریوں کو صاف پینے کا پانی، جدید سیوریج نظام اور عالمی معیار کی بلدیاتی سہولتیں کیوں فراہم نہیں کر سکے۔۔؟

جب بنیادی شہری ضروریات ہی پوری نہ ہوں تو ترقی کے دعوے ادھورے محسوس ہوتے ہیں۔پاکستان کو مزید سیمنٹ، سریے اور افتتاحی تختیوں کی نہیں، بلکہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو کسی شخصیت کے نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تابع ہوں؛ جہاں انصاف طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہو، احتساب انتخابی نعرہ نہیں بلکہ مستقل نظام ہو، اور قانون سازی عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے ہو، نہ کہ اگلے منصوبے کا ٹھیکہ تقسیم کرنے کے لیے۔

نیلسن منڈیلا کا فرمان ہے،سیاستدان وہ ہوتا ہے جو اگلے الیکشن کا سوچتا ہے،لیڈر وہ ہوتا ہے جو آنیوالی نسلوں کا سوچتا ہے،افسوس !! لیڈر تو کیا،ہمارے ہاں تو سیاستدان بھی نہیں ہیں،سب ٹھیکیدار ہے،قومی ٹھیکیدار۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button