اسرائیلی کابینہ کی غزہ پر قبضے کی منظوری،بمباری سےمزید 59فلسطینی شہید
اس بار فوج غزہ میں رہے گی:نیتن یاہو،عملدرآمد ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بعد کیا ہو گا،منصوبہ بلیک میلنگ :حماس
تل ابیب ، غزہ(ویب ڈیسک )اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے،حماس کے خلاف وسیع آپریشن،فلسطینیوں کی جنوب کی جانب منتقلی اور فورسز کی غیرمعینہ مدت تک تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں ووٹنگ کے ذریعے منصوبے کی منظوری دی گئی جس میں غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم اور نگرانی کا کنٹرول سنبھالنا بھی شامل ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز امریکی صدر ٹرمپ کے اگلے ہفتے دورہ مشرق وسطیٰ کے بعد کیا جائے گا، اسرائیلی فوجی عہدیداروں نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر وہ سنجیدہ ہے تو ٹرمپ کا دورہ ختم ہونے سے پہلے معاہدہ کرنے کاموقع موجود ہے، یہ موقع ضائع ہو گیا تو نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔
ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے اس منصوبے پر عمل کررہے ہیں جس میں غزہ کے شہریوں کو اردن یا مصر جیسے پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کا ذکر ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں آپریشن بہت شدید ہوگا اور غزہ کی آبادی کو ان کے تحفظ کیلئےہٹایا جائے گا، اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ فوج غزہ میں کارروائی کرے اور واپس آجائے، بلکہ اس کے برعکس ہوگا۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ حماس کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی جائیں گی اور زمین کے اوپر اور نیچے موجود تمام تنصیبات کو تباہ کیا جائے گا۔حماس نے اسرائیلی منصوبے کو سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا،حماس کے رہنما محمود مرداوی نے اسرائیلی کوششوں کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی معاہدہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک مکمل جنگ بندی، غزہ سے مکمل انخلا اور دونوں جانب سے تمام قیدیوں کی رہائی نہیں ہو جاتی۔
دریں اثنا اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر تباہ کن بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت مزید 59فلسطینی شہید اور 168زخمی ہو گئے۔



