اسلام آباد(ویب ڈیسک )اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی بہن علیمہ خان گرفتاری دینے پر تیار ہو گئیں۔اس دوران جج اور علیمہ خان کے درمیان مکالمہ بھی ہواہے، علیمہ خان روسٹرم پر آ ئیں اور کہا پنجاب پولیس نے لیٹر دیا ہے کہ میں اشتہاری ہوں، میں یہاں بیٹھتی ہوں، آپ ڈی آئی جی کو بلوائیں مجھے گرفتار کریں۔
عدالت نے ریمارکس دیئےآپ کی لیگل ٹیم کھڑی ہے، علیمہ خان نے اصرار کیا میں آپ کی کورٹ سے نہیں جاؤں گی جب تک ڈی آئی جی نہیں آتے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہااگر ڈی آئی جی اسلام آباد ہوتے تو میں بلا لیتا، یہ پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ہیں۔علیمہ خان نے کہا ابھی صرف پنجاب پولیس نے مطلوب بنایا ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، میری ایک ذمے داری ہے جو ادا کرنی ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نےکہا26 ویں ترمیم کے بعد جس چیز کی استدعا آپ نے درخواست میں نہیں کی وہ ہم نہیں کر سکتے۔ علیمہ خان نے کہا ہم آپ کی آزادی کے لیے کھڑے ہیں۔ای سی ایل سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا نام نکالنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو کے روبرو ہوئی۔
علیمہ خان کے وکیل نےکہا درخواست گزار کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ علیمہ خان اسلام آباد کے کسی کیس میں مطلوب ہیں ؟، آپ درخواست گزار کو درست معلومات نہیں دے رہے، آپ نے پولیس کو پارٹی نہیں بنایا، اپنے کلائنٹ کو مکمل معلومات دیں، ہم نے ایک ہفتے آپ کی ساری پٹیشن سنی ہے۔



