لاہور (بیورو چیف) — وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے لاہور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں سکروٹنی اینڈ سرچ آپریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن کے اندر اسلحہ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ پنجاب سرینڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025ء کے تحت صوبے بھر میں غیر قانونی اسلحہ جمع کرانا لازم ہوگا، جبکہ 10 لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ اسلحہ کی از سر نو جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی دشمنی یا تحفظ کے بہانے غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
آئی جی پنجاب کے مطابق اسلحہ اسمگلنگ روکنے کے لیے صوبائی بارڈر چیک پوسٹس پر جدید سکینر نصب کیے جا رہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی بھرتی اور تربیت بھی پولیس نگرانی میں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں کرائم ریٹ میں نمایاں کمی آئی ہے، قتل کی وارداتیں 1300 سے کم ہو کر 800 رہ گئی ہیں جبکہ ڈکیتی اور راہزنی میں 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سپیشل سیکرٹری ہوم فضل الرحمان نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال قید اور 10 سے 30 لاکھ روپے تک جرمانے ہوں گے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہر حال میں قائم رکھی جائے گی اور پولیس شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔



