انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینکالم

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے!

چوہدری خادم حسین

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

ملکی اور صوبائی حالات تو بعض امور کی نشاندہی کا تقاضہ کرتے ہیں،لیکن حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں کہ ان کا ذکر مجبوری بن جاتی ہے۔غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیل کے جاری مظالم نے تاریخ کو مات دے دی ہے یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ زمین کے باسیوں کی نہ صرف نسل کشی کی جائے، بلکہ ان کی جائیدادیں ملبے کا ڈھیر بنا کر ان کو اس سرزمین ہی سے نکالنے کا اعلان کر دیا جائے۔

فلسطینی تو تباہ کن بمباری ہزاروں شہادتوں اور لاکھوں زخمیوں کے باوجود اپنی سرزمین چھوڑنے کے لئے تیار نہیں،لیکن طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان کی نسل مٹانے کے در پے ہیں اور یہ ہمت و استطاعت اسرائیل کی اپنی نہیں،اسے یہ ساری طاقت امریکہ نے مہیا کی اور آج بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قاتل نیتن یاہو کے بعد قصاب مودی کو اپنا دوست کہتے ہیں اور پھر یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے برصغیر کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ بندی کرائی اور ان کو تجارت کے لئے کہا،پاکستان نے ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کیا ہے تاہم مودی جنتا خفت مٹانے کے لئے ان کی بات کو رد کرتی چلی جا رہی ہے اور ٹرمپ صاحب کو بُرا نہیں لگا کہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے صدر سے ملاقات کے وقت پھر سے اپنا دعویٰ دہرا بھی دیا ہے۔

ٹرمپ صاحب اب بزعم خود گریٹ امریکہ کے دعویدار ہوتے ہوئے دنیا کے واحد طاقتور تھانیدار کے روپ میں سامنے آ رہے ہیں اور ذرا ان کی انصاف پروری ملاحظہ ہو کہ یوکریئن کے صدر سے گفتگو کی باز گشت ابھی فضاء میں موجود ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے رنگدار صدر پر ان کے منہ پر الزام لگا دیا کہ جنوبی افریقہ میں گوری اقلیت کو قتل کرا رہے ہیں اور اس سلسلے میں بعض دستاویزات بھی دکھائیں۔ جنوبی افریقہ کے صدر نے فوراً ہی تردید کی اور کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کا شکار ہے اور نسل دیکھے بغیر ناگہانی واقعات ہو رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ الزام لگاتے وقت پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو واضح طور پر نظرانداز کر گئے اور اب تک انہوں نے پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کو بھارتی اعانت کے واضح ثبوتوں کے بعد بھی مذمت کا ایک لفظ نہیں کہا اور نہ ہی وہ مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر بول رہے ہیں۔جنوبی افریقی صدر کے ساتھ ان کے ڈائیلاگ کے باعث مجھے جنوبی افریقہ کے ایک بڑے مصنف ولبر سمتھ کی کتاب وائلڈ جسٹس یاد آ گئی،جس میں مصنف نے بڑی چابکدستی سے ثابت کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان بھرپور تعاون موجود ہے اور دہشت گردی کے خلاف اور اسے کسی واردات سے قبل کچلنے کے لئے بنائے گئے عالمی ادارے کو بھی عالمی دہشت گردی کے لئے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر دنیا بھر کے ”مظلوموں“(جو ان کے نزدیک ہوں) اور انسانی حقوق کا چیمپئن ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن غزہ پر قبضے کی سازش میں مکمل شریک ہیں۔اب انہوں نے خود تو غزہ پر قبضہ کر کے اسے امریکی ریاستوں کا حصہ بنانے کی بات ترک کر دی ہے، لیکن اسرائیل کو تھپکی دی ہے کہ وہ فلسطینیوں کا قتل ِ عام جاری رکھے اور ان کو غزہ سے نکال باہر کرے۔اِس سلسلے میں دس لاکھ افرا کو لیبیا میں بسانے کی خبر بھی آ چکی ہوئی ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button