فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے پولیس سٹیشن کی حوالات میں بند تین سگے بھائیوں کو قتل اوراِن کے ایک کزن کو مخالفین نے زخمی کردیا۔ مقتولین کاتعلق سکھیرا برادری سے تھا جبکہ مبینہ قاتلوں کا تعلق کھرل برادری سے بتایا جارہا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولین کو پولیس نےقتل اور دہشت گردی کے مقدمہ میں گرفتار کیااور ملزمان کی دیرینہ دشمنی کی وجہ اورمحفوظ رکھنے کیلئے سٹی کی بجائے تھانہ صدر تاندلیانوالہ میں بند کیا تھالیکن علی الصبح پانچ چھ نامعلوم ملزمان تھانہ کی عقبی دیوار سے سیڑھی کے زریعے دیوار پھلانگ کر تھانہ میں داخل ہوئے ،اور حوالات میں بند ملزمان کوفائرنگ کرکے قتل کردیا، اور پھر موقع سے فرار بھی ہوگئے۔ بہرکیف آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دیکر رپورٹ بھی طلب کرلی ہے
انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی انٹیلیجنس سپیشل برانچ فیصل علی راجہ ہیں ۔ فیصل راجہ ایماندار اور سخت گیر افسر ہیں انکی انکوائری ہمیشہ جامعہ اور میرٹ پر ہوتی ہے کیونکہ ان کے سامنے کوئی سفارش نہیں چلتی خواہ کوئی انکا باس ہی سفارش کر دیں
اس لئے پنجاب پولیس کے افسران اور ماتحت ان کی پیشہ ورانہ خوبیوں اور ایمانداری سے تنگ ہیں
کسی دورمیں بھارتی چینل سٹار پلس کےڈرامے دنیا بھرمیں اردو اورہندی بولنے اورسمجھنےوالوں میں بہت مقبول تھے، مگر پھر پاکستان کے ٹی وی چینلز نے اُن کےمقابلےمیں ڈرامے تیارکیے اور بھارتی ڈرامہ انڈسٹری کو پچھاڑ دیا۔بات کرنےکامقصد یہ ہےکہ پولیس اتنی دودھ کی دھلی نہیں ہے، کہ ملزمان دیوار پھلانگ کرآئے اور تین بندے مارکرچلے گئے۔ اِن دنوں سوشل میڈیا پر گجرات میں ہونیوالے اصل پولیس مقابلے کی ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ چچا بھتیجا اورانکے دوساتھیوں نے سات سوسےزائد پولیس ملازمین کو قریباً سولہ گھنٹے الجھائے رکھا، اور بالآخر ہیلی کاپٹرزکی مدد سے ان چاروں کو پولیس نے موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ مطلب اصلی مقابلے اور ’’مقابلے‘‘ میں یہ فرق ہوتاہے۔ ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت نے چند روزقبل ایک تقریب کے دوران کہاکہ پہلے لوگ پولیس کوساتھ ملاتے تھے اب ڈائریکٹ جج کو اپنےساتھ ملا لیتے ہیں۔ مگر سب سے آسان طریقہ پولیس کو ساتھ ملانے کاہے، اِس کام میں اگرچہ خرچ زیادہ ہوتاہے ، کیونکہ پولیس افسران نے بعدمیں انکوائریاں بھی بھگتنا ہوتی ہیں اور میڈیا کا بھی سامنا کرنا پڑتاہے، مگر متعلقہ پارٹی چھوٹی موٹی ایف آئی آر کے نتیجے میں آسانی سے بچ نکلتی ہے۔
سب لوگ جانتے ہیں کہ ہماری پولیس کے جرائم پیشہ افراد سے بل واسطہ یا بلواسطہ مراسم ہوتے ہیں اگر ناراضگی ہو جائےتو اسے خطرناک مجرم بناکر پیش کرتی ہے، اِس پرقانون کی کتاب کی تمام دفعات لگادیتی ہے، ان گنت مقدمات درج کردیتی ہے اورپراپیگنڈا کرکے اِس کومعاشرےکا ناسور قرار دے دیاجاتا ہے، اورپھر اچانک وہی شخص پولیس افسران کا مہمان بن جاتا ہے اور تب پولیس اسکے گُن گاتے ہیں ، پولیس کےاوصاف کے اتنی گردان کرتاہے کہ پولیس افسران خود شرمندگی محسوس کرتےہیں کہ یہ خصوصیات اُن میں کہا ںسےآ گئیں۔ لہٰذا اب تو نیچے سے لیکر اوپرتک تمام افسران کسی بھی معاملے میں پھنستے ہیں تو وہ ایسے افراد کی منت سماجت کرتے ہیں کہ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،ہماراموقف بھی افسران و لوگوں کے سامنے لیکرآئو۔ اب وہی شخص پولیس کیلئے رول ماڈل بنا ہوا ہے، اور اعلیٰ افسران سے ایوارڈ بھی وصول کرتاہے، اِس لئے جو افسران اِس پرمقدمات درج کرتےتھے، آج شاید اُن سےکہیں زیادہ اُس شخص کو پولیس کےمحکمے میں پذیرائی مل رہی ہے۔
تاندلیانوالہ کے پولیس اسٹیشن میں ملزمان نے اپنے مخالفین کو قتل کردیا، وسائل سے مالامال پنجاب پولیس کے تمام افسران لاعلم رہے، ڈیڑھ گھنٹے کے بعد کنٹرول کو اطلاع کی گئی جس کے بعد افسران موقع پر پہنچے، پولیس نے ملزمان کو سٹی تاندلیانوالہ کی بجائے اسی تھانے میں تھانہ صدر کی حوالات میں بند کر کے محفوظ بنانے کی ناکام کوشش کی ملزمان کو اس حوالات کا کیسے علم ہوا جہاں صرف تین بھائی اور انکا کزن بند تھا پولیس کے انٹیلی جنس سورسز سب ناکام رہے ۔اب ماتحت عملے کو سزا ملے گی اور افسران بچ جائینگے۔ پولیس اسٹیشن پر اس حملے میں ملوث ملزمان اور انکے سہولت کاروں کا سراغ یقیناً جلد مل جائیگا لیکن اس واقعہ نے ثابت کیا ہے کہ جب تھانے ہی کسی کیلئے محفوظ نہیں تو تھانوں کے باہر عوام کتنی محفوظ ہوگی؟ پنجاب کی بہادر پولیس جو انتظامات کرتی ہے ،ہمیشہ وہ فی الفور جنگل میں آگ کی طرح سب کو معلوم پڑجاتے ہیں۔ دراصل پنجاب کے بعد سندھ میں پولیس مقابلوں کا ایک ہی سکرپٹ چل رہا ہے، پولیس ملزمان کو نشاندہی کے لئے لیکر جاتی ہے تو ملزمان کے ساتھیوں کو اس بارے علم ہو جاتا ہے اور وہ پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں جس سے پولیس کی حراست میں انکے اپنے ہی ساتھی مارے جاتے ہیں لیکن پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہتے ہیں۔
سالہا سال سے پنجاب پولیس پر اربوں روپے کے فنڈز لٹائے جارہے ہیں، تھانوں پر اربوں روپے لگائےجارہےہیں،ترقیاں ایسے دی جارہی ہیں جیسے کوئی نیاز تقسیم کرتا ہے۔ اسی لئے تو2024ء کو پنجاب پولیس میں ریکارڈ پروموشنز کا سال قرار دیاجارہا ہے کیونکہ اِس ایک سال کے دوران 4 ہزار5 سو سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو اگلے عہدوں پر ترقیاں دی گئی ہیں۔ ترقی ملنے کے بعد 12 ڈی ایس پی ،92 انسپکٹرز،394 سب انسپکٹرز،131 ٹریفک وارڈنز، 887 اے ایس آئز،857 ہیڈ کانسٹیبلز، 1730 کانسٹیبلزسمیت درجہ چہارم کا سٹاف بھی شامل تھے جو اگلے عہدوں پر ترقی پاگئےہیں۔ لیکن سوال یہ ہےکہ کیا پولیس افسران اور ملازمین نے اپنارویہ بدلا؟ ہرگز نہیں بدلا اور نہ ہی وہ پرانا پولیس مقابلوںکا سکرپٹ بدلا ہے۔ ’’قائد انقلاب‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری کہا کرتے تھے کہ ’’چہرےنہیں نظام بدلو ‘‘
آخر میں پٹارے سے ایک گرما گرم خبر: پی ٹی آئی قیادت، رہنمائوں اور فعال کارکنوں کیخلاف پچھلے دو اڑھائی سال متحرک رہنے والے پولیس افسران اِن دنوں ملک سے باہر جانے کا سوچ رہے ہیں، جوں جوں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی خبریں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں، اِس سردموسم میں اِن افسران کے ماتھے پر پسینہ چمکتا نظر آرہاہے۔ اورشنید ہےکہ کئی افسران تعلیم، فیملی مسائل اور ایسی نجی وجوہات کو گرائونڈ کےطورپر استعمال کرکے بیرون ملک جانے کیلئے پر تول رہے ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



