پاکستانتازہ ترینکالم

سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کی بحالی

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور صوبہ خیبرپختونخوا کے زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا) پاکستان کے انتظامی نقشے پر کئی دہائیوں تک انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس کے حوالے سے ایک خاص حیثیت کے حامل رہے۔ آئین پاکستان کی شق 247 کے تحت ان علاقوں میں پارلیمنٹ کے قوانین کا نفاذ صدرِ مملکت کی منظوری سے مشروط تھا۔ نہ صرف یہ علاقے آئینی لحاظ سے "خصوصی” گردانے جاتے تھے، بلکہ ان کی معاشی اور انتظامی ساخت بھی باقی پاکستان کے دیگر علاقوں سے مختلف تھی۔

تاہم 2018ء میں 25ویں آئینی ترمیم پچیسویں کے ذریعے ان علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا گیا جس کے نتیجے میں یہاں کے شہریوں کو وہی حقوق و ذمہ داریاں حاصل ہوئیں جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو حاصل تھیں۔ اس انضمام کے بعد قانونی اور مالیاتی نظام کا اطلاق بھی یہاں ممکن ہوا، جن میں ٹیکس نظام بھی شامل تھا۔

انضمام کے بعد 2019ء میں خیبرپختونخوا حکومت اور خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے سیلز ٹیکس کو ان علاقوں میں بھی لاگو کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ تاہم سابقہ فاٹا و پاٹا کے صنعت کاروں، خاص طور پر گھی اور اسٹیل ملز کے مالکان نے اس پر شدید اعتراضات کیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان علاقوں کی معاشی حالت ابھی تک نازک ہے اور کاروباری ادارے مکمل ضم شدہ معیشت کا حصہ نہیں بن سکے۔
اسی تناظر میں پشاور ہائیکورٹ نے 2023 میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا جسے حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
13 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو بحال کر دیا۔ عدالت نے گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکمِ امتناع بھی جاری کیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

یہ فیصلہ بظاہر ایک عبوری نوعیت کا ہے، مگر آئینی اعتبار سے اس کا اثر دور رس ہے۔ یہ نہ صرف ریاست کے مالیاتی اختیارات کے تسلسل کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی توثیق کرتا ہے کہ انضمام کے بعد تمام قوانین ان علاقوں میں بھی قابلِ اطلاق ہیں، سوائے ان کے جو صراحتاً استثناء رکھتے ہوں۔

اس فیصلے کی وجہ سے کاروباری برادری میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ اسٹیل اور گھی صنعت سے وابستہ ادارے اس فیصلے پر نظرثانی چاہتے ہیں کیونکہ ٹیکس عائد ہونے سے ان کی مسابقتی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹیکس کے نفاز سے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ سیلز ٹیکس کے نفاذ سے خیبرپختونخوا حکومت کو محصولات میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے، جو انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
اس فیصلے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا موقف مضبوط ہوتا ہے کہ وہ فاٹا و پاٹا کے شہریوں کو نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی دھارے میں بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ فیصلہ فی الحال وقتی ہے اور حتمی نہیں ہے کیونکہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ آئینی بینچ کی جانب سے آئندہ سماعت میں یہ طے کیا جائے گا کہ سیلز ٹیکس کا مکمل اطلاق آئینی و قانونی اعتبار سے درست ہے یا نہیں۔ دوسری طرف، کاروباری حلقے حکومت سے ایسے ٹیکس ریلیف اقدامات کی توقع رکھتے ہیں جو ان کی معاشی بقاء کے لیے ضروری ہوں۔

سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کی بحالی محض ایک مالیاتی فیصلہ ہی نہیں بلکہ یہ پاکستان میں آئینی یکسانیت، ریاستی خودمختاری اور معاشی انضمام کا اہم سنگِ میل بھی ہے۔ اگرچہ اس کے کچھ فوری منفی اثرات ہو سکتے ہیں، مگر طویل المدتی تناظر میں یہ فیصلہ انضمام شدہ علاقوں کو ترقی اور شفاف مالیاتی نظم و نسق کی طرف لے جانے کا باعث بنے گا۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button