انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترین

امریکہ ایران جنگ اور محمد بن سلمان کامدبرانہ کردار

شاہد جاوید ڈسکوی

مشرقِ وسطیٰ کی تپتی ریت پر ایک بار پھر تاریخ کے نئے نقوش ابھر رہے ہیں تاہم اس مرتبہ عالمی سیاست کا منظرنامہ یک قطبی نہیں رہا۔ طاقت کا ارتکاز بتدریج منتشر ہو چکا ہے اور مختلف علاقائی و عالمی قوتیں اپنے اپنے دائرۂ اثر کو وسعت دینے میں مصروف ہیں۔ اس بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی بساط پر مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایک مرکزی اور فیصلہ کن کردار کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے نہ صرف داخلی سطح پر ریاستی ڈھانچے، معیشت اور سماجی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیوں کا آغاز کیا بلکہ خارجہ محاذ پر بھی ایک نسبتاً خودمختار اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکہ جو ماضی میں اپنے اتحادیوں سے "ڈو مور” کے تقاضے کرتا رہا، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے اپنے ہی قریبی شراکت داروں کی جانب سے واضح طور پر NO سننے کو مل رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف عالمی طاقت کے توازن میں ایک بنیادی شفٹ کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی قوتیں اب اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو زیادہ شدت سے مقدم رکھ رہی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی بساط پر سعودی عرب کا کردار اب محض ایک روایتی اتحادی کا نہیں رہا بلکہ ایک خودمختار اور بااختیار ریاست کا تاثر نمایاں ہو چکا ہے۔ ماضی میں جہاں ریاض کو امریکی سکیورٹی چھتری کے تحت دیکھا جاتا تھا، وہیں اب اس تصور میں واضح دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اس تبدیلی کی بنیاد محض وقتی سیاسی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سٹریٹجک وژن ہے، جس میں علاقائی استحکام، معاشی تنوع اور سفارتی توازن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ایران کے حوالے سے سعودی عرب کا حالیہ جنگ کے دوران طرزِ عمل اس نئی حکمت عملی کی عملی تعبیر ہے۔ جہاں ایک طرف خطے میں کشیدگی کو بڑھانے والے عوامل موجود ہیں، وہیں ریاض نے تصادم کی بجائے مفاہمت، اور محاذ آرائی کی بجائے احتیاط کو ترجیح دی ہے۔

فضائی حدود کے استعمال سے انکار اور کسی بھی ممکنہ عسکری اتحاد یا کارروائی سے فاصلہ اختیار کرنا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ سعودی عرب اب کسی پراکسی یا بلاواسطہ جنگوں کا حصہ ہرگز نہیں بنے گا بلکہ اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وسیع تر عالمی تبدیلی کا حصہ ہے جس میں طاقت کا توازن یک قطبی سے کثیرالجہتی نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے چین، روس ، پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر اپنی سفارتی گنجائش کو وسیع کیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ کسی ایک طاقت کے اثر و رسوخ سے نکل کر ایک متوازن پوزیشن اختیار کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

یہ حکمت عملی نہ صرف اسے خطے میں ایک فیصلہ کن کھلاڑی بناتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی اہمیت کو دوچند کر دیتی ہے۔حالیہ تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریاض اب خود پالیسی ساز بن چکا ہے۔ فیصلوں کا مرکز اب صرف واشنگٹن نہیں رہا بلکہ ریاض بھی اس عالمی مکالمے میں ایک مؤثر آواز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی نظام کی آئندہ سمت کا تعین کرے گی، جہاں خودمختاری، توازن اور مفادات کی سیاست بنیادی اصول بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے انکار اور اسے فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کرنا درحقیقت سعودی خارجہ پالیسی کے ایک اہم اصولی ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ محض سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور مسئلہ فلسطین کے تاریخی و اخلاقی تناظر میں ایک واضح مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔سعودی عرب نے اس مؤقف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ خطے میں پائیدار امن کسی یکطرفہ یا عارضی مفاہمت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بنیادی تنازع یعنی فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس بیانیے سے انحراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں عرب اسرائیل تعلقات کو فلسطینی مسئلے سے علیحدہ کر کے معمول پر لانے کی کوشش کی گئی۔یہ مؤقف سعودی عرب کی اس وسیع تر حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت وہ خود کو محض ایک علاقائی اتحادی کے بجائے ایک خودمختار، اصولی اور اثرانداز عالمی کھلاڑی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں ابراہیمی معاہدے سے فاصلہ اختیار کرنا نہ صرف امریکی دباؤ کے مقابل ایک سفارتی توازن کا اظہار ہے بلکہ عالمِ اسلام میں قیادت کے دعوے کو بھی تقویت دیتا ہے، جہاں مسئلۂ فلسطین اب بھی ایک مرکزی اور جذباتی حیثیت رکھتا ہے۔

یوں یہ اقدام وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک اصولی اور طویل المدتی وژن کی عکاسی کرتا ہے،ایسا وژن جو علاقائی سیاست کو محض طاقت کے توازن کے بجائے انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کے دائرے میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
کوئی مانے یہ نہ مانے لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اورچین اس تبدیلی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے اس حقیقت کو بروقت تسلیم کیا اور اپنی شراکت داری کو وسعت دی۔یہ فیصلہ امریکہ کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ خلیج میں اس کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے۔ توانائی، تجارت اور سکیورٹی ،ہر شعبے میں متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محمد بن سلمان محض مملکتِ سعودی عرب کے ایک نوجوان ولی عہد نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں عالمِ اسلام کی ایک نمایاں اور متحرک قیادت کے طور پر ابھرے ہیں۔ داخلی سطح پر معاشی و سماجی اصلاحات کا عمل ہو یا عالمی سطح پر پیچیدہ سفارتی توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی، وہ ہر محاذ پر ایک فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کی قیادت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مؤقف پر ثابت قدم رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موجودہ عالمی نظام میں، جہاں اکثر ریاستیں بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے زیرِ سایہ فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، وہاں کسی مسلم رہنما کا خودمختار اور اصولی مؤقف اختیار کرنا نہ صرف اپنی قوم بلکہ وسیع تر امتِ مسلمہ کے لیے بھی وقار اور اعتماد کا باعث بنتا ہے۔

اسی تناظر میں، محمد بن سلمان کی شخصیت اور پالیسی اپروچ کو محض ایک ریاستی قیادت تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے ایک وسیع تر جغرافیائی و تہذیبی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں خودمختاری، ترقی اور سفارتی توازن جیسے عناصر نمایاں حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔سعودی عوام کے لیے یہ محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی وقار کا معاملہ ہے۔ جب ایک ملک بڑے فیصلے خود کرنے لگے تو اس کے عوام کے اندر خود اعتمادی بھی جنم لیتی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے بیہودہ ، غیر اخلاقی اور غیر سفارتی لب و لہجے کو اگر جذبات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ ایک بڑی تبدیلی کے خلاف مزاحمت ہے۔خلیجی ممالک کا جنگ سے انکار،سرمایہ کاری کے دباؤ،متبادل سکیورٹی آپشنز کی تلاش ، یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ امریکہ اب یکطرفہ فیصلے مسلط نہیں کر سکتا۔

اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں سب کچھ بدل رہا ہے ، اتحاد بدل رہے ہیں، ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں، اور سب سے بڑھ کرخودمختاری کا تصور مضبوط ہو رہا ہے۔سعودی عرب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف تیل کی دولت نہیں بلکہ سیاسی بصیرت بھی رکھتا ہے اور شاید یہی وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا امریکہ کے لیے سب سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔تاریخ گواہ ہےجب قومیں اپنے فیصلے خود کرنے لگیں تو عالمی طاقتوں کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button