غلط معلومات پھیلانا گناہ، لوگوں نے خاموشی کو جرم میں شمولیت سمجھ لیا:ایس پی شہربانونقوی
کسی قسم کا دبائو ڈالانہ رقم وصول کی،دعا کریں، محبت کریں، اور امید پھیلائیں جھوٹ نہیں، شکر کریں کہ سب کے خلاف عدالت نہیں جا رہی:انسٹا گرام پر وضاحت شیئر
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) ایس پی شہربانو نقوی نے معروف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر علی زین العابدین کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کردی ۔ایس پی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے نہ تو کسی قسم کا دباؤ ڈالا، نہ رقم کی وصولی میں کوئی کردار ادا کیا اور نہ ہی کسی غیرقانونی عمل میں ملوث رہیں۔

سی این این اردوڈاٹ کام کے موقف کیلئے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ اپنا موقف انسٹا گرام پر شیئر کردیا ہے ،تفصیلات کے مطابق
معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑی، جس کے بعد ایس پی شہربانو نقوی نے اپنی وضاحت انسٹاگرام سٹوریز کے ذریعے دی۔
ایس پی شہربانو کا کہنا تھا ’کافی غور و فکر کے بعد، جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی، تاکہ عقل و شعور غالب رہے، اور اس امید پر کہ لوگ حقائق اور تنازع میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میں نے اس تمام معاملے کو وقت دیا جو گزشتہ ایک ہفتے سے زیرِ گردش تھا۔ لیکن چونکہ ہم سب انسان ہیں اور فطری طور پر تجسس رکھتے ہیں، لوگوں نے میری خاموشی کو جرم میں شمولیت سمجھ لیا۔‘

انہوں نے لکھا ’مجھے مختلف القابات دیے گئے، کبھی پولیس کی سابقہ نمائشی شخصیت کہا گیا، اور ہر وہ شخص جو کوئی تھا یا بننا چاہتا تھا اس نے میرے کردار، ساکھ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اخلاقیات پر حملہ کیا۔‘
’کیا کسی نے کبھی کہانی کا دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت کی؟ یا یہ سوال کیا کہ کہیں میرا نام صرف خبر کو اہم بنانے کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟ُ
ایس پی شہربانو نقوی کے مطابق مبینہ اعترافِ جرم اور چیکس پولیس کے پاس کیس آنے سے پہلے دیے جا چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’میری دونوں فریقین سے ملاقات میرے دفتر میں صرف ایک بار ہوئی وہ بھی 9 مئی 2025 کو۔ اس ملاقات کے بعد، خبر سامنے آنے اور میرے خلاف بدنامی کی مہم شروع ہونے تک، میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔‘
اعترافِ جرم اور چیکس بغیر کسی پولیس مداخلت کے یکم مئی 2025 کو دیے گئے۔ معذرت نامہ کلینک کے لیٹر ہیڈ پر پولیس کے پاس کیس آنے سے پہلے اور بغیر کسی پولیس کردار کےتحریر کیا گیا۔ کسی بھی قسم کا مالی لین دین بعد میں ہوا جب میں اپنے نئے عہدے کے لیے دفتر چھوڑ چکی تھی۔

انہوں نے مزید کہا ’میں کسی بھی مالی لین دین میں کبھی شامل نہیں رہی اور شکایت صرف ایک بار سنے جانے کے بعد درج کی گئی، جس میں دونوں فریقین نے اپنے ذاتی معاہدے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘
’مجھے اکتوبر یا نومبر 2024 کے پہلے ہفتے میں ایس پی ماڈل ٹاؤن تعینات کیا جا چکا تھا اور اس کے بعد میرا اے ایس پی ڈیفنس کے دفتر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔‘
’اگر کوئی خود کو متعلقہ، مشہور یا کامیاب بنانا چاہتا ہے تو براہِ کرم میرے نام کی قیمت پر ایسا نہ کرے۔ میں نے اپنے والدین اور اس ادارے کی محبت کے لیے دن رات محنت کی ہے۔‘
اپنے بیان کے آخر میں ایس پی شہربانو نے کہا ’دعا کریں، محبت کریں، اور امید پھیلائیں جھوٹ نہیں۔ اور ان تمام سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور پیجز کے لیے جو لوگوں کو کلک بیٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو یہ احساس دلائے کہ غلط معلومات پھیلانا گناہ ہے۔ اور شکر کریں کہ میں آپ سب کے خلاف عدالت نہیں جا رہی۔‘
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لاہور کے ایک معروف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر علی زین العابدین نے پولیس افسر ایس پی شہربانو نقوی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔



