پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

لاہور پریس کلب ، مادری زبانوں کے عالمی دن پر پنجاب فیسٹیول

پروین ملک ،الیاس گھمن ، مدثر اقبال بٹ ،امجد سلیم منہاس ، افضل ساحر،پروفیسر کلیان سنگھ، اداکار راشد محمود ، ایم پی اے فرح شاہ ،بھارتی سکھ وفد کی شرکت

لاہور:(بیوروچیف)لاہور پریس کلب میں مادری زبانوں کے عالمی دن پر پنجاب فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔سیکرٹری زاہد عابد نے افتتاح کیا اور پنجابی دانشوروں کے پروگرام میں پنجابی زبان کو رائج کرنے کا مطالبہ بھی کیا، لاہور پریس کلب کی آرٹ ،کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن پر دوسرا سالانہ پنجاب فیسٹیول دھوم دھام سے منایا گیا۔

لاہور پریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد اور ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی نے میلے کا افتتاح کیا جبکہ زاہد عابد نے پنجابی زبان کی ترقی کیلئے نثار عثمانی ہال میں ہونے والے پروگرام میں خطاب بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب تک گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی بولنا شروع نہیں کریں گے تب تک پنجابی زبان فروغ نہیں پائے گی حکومت کو چاہیے کہ وہ باقی صوبوں کی طرح پنجاب کے سکولوں میں پنجابی زبان پڑھائے۔

دیگر پنجابی دانشوروں میں پروین ملک ،الیاس گھمن ، مدثر اقبال بٹ امجد سلیم منہاس ، ارشد اقبال ارشد‘ افضل ساحر،پروفیسر کلیان سنگھ کلیان اور اداکار راشد محمود نے خطاب کیا۔سٹیج سیکرٹری سینئر صحافی سعید اختر اور علی عثمان باجوہ تھے۔

بلوچستان حکومت کی سابق ترجمان اور موجودہ ایم پی اے فرح شاہ نے نہ صرف فیسٹیول میں پنجابی کتابوں کوسراہا بلکہ تمام رنگا رنگ سٹالز بھی دیکھے اور صوفیانہ کلام پر ولید کامران کا رقص دیکھ کر اسے خوب داد دی۔

بھارتی پنجاب سے سکھوں کے وفد میں 18 افراد نے بھی شرکت کی جن میں زیادہ تر رائٹر خواتین بھی شامل تھیں۔دیپتی نے اپنی نئی کتاب پاکستانی رائٹرز کو بطور تحفہ دی۔

پریس کلب نے مہمانوں کے لئے پرتکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا جس میں پنجاب کی روایتی ڈش ساگ اور مکھن نمایاں تھے۔کلب کے صحن میں جہاں کتاب میلہ سجا تھا وہاں مصنوعی روایتی کھانوں کی دکانیں بھی سجی تھیں۔ایک طرف پنجابی نوجوان پگڑیاں پہنے پنجاب کے لوک رقص میں مصروف تھے تو دوسری طرف راوینز نے بھی اپنا ڈیرہ سجا رکھا تھا صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری جوکہ اسلام آباد یونین کے الیکشن کیلئے مصروف ہیں ان کی کمی کو ان کے بھائی سینئر صحافی رئیس انصاری جو کہ راوینز بھی ہیں انہوں نے میلہ میں شرکت کر کے پورا کیا ‘راوینز کے ڈیرہ پر ندیم شیخ پیش پیش تھے۔

کینیڈا سے آئے ہوئے سکھ دانشور پریتھی پال سنگھ اور کچھ سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب سے خصوصاََ میلہ میں شرکت کی۔ پنجابیوں کے ڈیرہ پرچودھری عرفان بھنڈر اور ان کے ساتھیوں نےروایتی لباس اور پگڑیاں پہن کر ڈھول کی تھاپ پر اور لوک گیتوں پر بھنگڑا ڈالا۔

پنجابی شاعری کی صنف بولیاں گانے والے نذر عباس نے کلب کے صحن میں اپنے رنگ بکھیرے۔شوبزکے رنگ میلے کے سنگ میں گلوکار عباس جٹ ، عینی طاہرہ ،استاد سعادت علی خان،انمول فاطمہ کے گیتوں پر پنڈال مسحور ہوا۔

ظفر لوہارکے فوک گیتوں اور بابا ولایت کے اکتارے اور جوڑی نے پنجاب کی لوک موسیقی کو زندہ کیا۔حسنین بابا گروپ اور منظور ملنگ کی ہیر گائیکی پر حاضرین دیر تک سر دھنتے رہے۔

اوپن ائیر تھیٹر ناٹک "اکھیاں والیو”پیش کیا گیاجس کے اداکاروں کی ہر ادا پر داد ملی۔اس کے لکھاری ولیم پرویز تھے۔اسے عامر نوازنے ماس فاونڈیشن کی جانب سے پیش کیا اور اختتام پر دیر تک تالیاں گونجتی رہیں۔

آخری پروگرام مشاعرہ تھا جس میں نامور شعرا نے شرکت کی۔ بابا نجمی کی زیر صدارت ہونے والے اس مشاعرہ میں عباس مرزا، ارشد منظور، افضل ساحر، ویر سپاہی، نصیر احمد، صابر علی صابر،صغیر احمد صغیر، صابر ناز، حکیم ارشد شہزاد اور اصغر بھٹی‘، احمد نعیم ارشد کے علاوہ بہت سے دیگر شعرا نے بھی کلام سنایا۔

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد عابد نے میلے میں شرکت پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور میلے کو کامیاب بنانے پرایکٹ کمیٹی چیئرمین امجد عثمانی شہزاد فراموش اور سعید اختر کی کاوشوں کو سراہا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button