پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

پولیس کی مبینہ سرپرستی،کلورکوٹ جرائم کا گڑھ،متاثرین کا احتجاج

تاجرچوری سامان کی برآمدگی کیلئے خوار،ڈی پی او کی کھلی کچہری میں درخواست گزاری پر ڈی ایس پی نصراللہ،عملہ کی دھمکیاں،وزیر اعلیٰ،آئی جی سے نوٹس کا مطالبہ،تحقیقات جاری ہیں:پولیس

کلورکوٹ:(ویب ڈیسک )تحصیل کلور کوٹ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بن گئی۔کلورکوٹ میں شہری اور تاجربرادری نے الزام لگایا ہےکہ پولیس کی ناقص کارکردگی اورمبینہ طورپر جرائم پیشہ افراد کو تحفظ دینے کی وجہ سے جینا اجیرن ہوچکا ہے ،وارداتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔

تاجر برادری نے الزام لگایا ہے کہ ڈی ایس پی نصراللہ مبینہ طور پر سائلین سے بدکلامی کرتے ہیں ،انصاف کیلئے آنے والوں کو دھکے دیئے جاتے ہیں جبکہ دادرسی کی بجائے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

پولیس تقریبا اڑھائی ماہ قبل اڈہ کلول حدور پولیس چوکی میبل شریف مارکیٹ میں تاجر راشد محمود کی موبائل شاپ میں چوری سمیت علاقہ میں ہونے والی درجنوں وارداتوں کا تاحال سراغ نہ لگا سکی ۔

تاجرراشد محمود نے تھانے میں متعدددرخواستیں گزارنے کے باوجود شنوائی نہ ہونے اور عملہ کے عدم تعاون پر ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق اعوان کی کلور کوٹ میں کھلی کچہری میں التجا کی جس پر ڈی پی اوبھکر شہزاد رفیق اعوان نے فوری ایکشن کے احکامات جاری کئے ۔

ڈی پی اوبھکر کی کھلی کچہری میں پیش ہونا تاجر کا جرم بن گیا تاحال چوکی انچارج فرحان تاجر کو ڈی پی او کی کھلی کچہری میں درخواست گزاری پر ذلیل وخوار کررہا ہے اور براہ راست دھمکیاں بھی دے رہا ہے ۔

تاجر کا کہنا ہے کہ پولیس اصل ملزم کی بجائے ایک اور فرد کو نامزد کررہی ہے چوکی انچارج اور تفتیشی اے ایس آئی بھی نامزد ملزم کی پشت پناہی اور اس کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

ڈی ایس پی نصراللہ کو تاجرنے چوکی انچارج اور متعلقہ عملہ کے رویہ اورعدم تعاون کا بتایا گیا تو وہ سیخ پا ہو گیا گالیاں دیتے ہوئے نکال دیا ،ڈی ایس پی نے صحافیوں کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ رپورٹ کیا تو تمہاراانجام اچھا نہیں ہوگا۔

تاجربرادری اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز،آئی جی عثمان انور اوردیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے ۔

دریں اثنا پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ ترجیح ہے شکایات پر فوری نوٹس لیتے ہیں،تحقیقات جاری ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button