لاہور،اسلام آباد (بیوروچیف سے ،ویب ڈیسک )سینٹ نے پیکا ترمیمی بل 2025 اور ڈیجیٹل نیشن بل 2025 منظور کر لیے، صحافیوں نے احتجاجاً ایوان بالا سے واک آؤٹ کیا۔
رانا تنویر حسین نے محسن نقوی کی جانب سے پیکا ترمیمی بل منظوری کیلئے پیش کیا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، اپوزیشن ارکان طیش میں آگئے، احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے واک آؤٹ کر دیا۔
وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا بل کا تعلق اخبار یا ٹی وی سے نہیں، صرف سوشل میڈیا کو ڈیل کرے گا،یہ بل قرآنی صحیفہ نہیں، اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
شبلی فراز نے کہا یہ قانون برائے اصلاح نہیں، قانون برائے سزا ہے اور ہم اس کے لیے استعمال نہیں ہوسکتے۔
اے این پی کے ایمل ولی خان نے وزیر قانون کی نشست پر پہنچ کر احتجاج کیا، جے یوا ٓئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے ڈیجیٹل نیشن بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا یہ بل مکمل طور پر مسترد کریں، یہ صوبوں کے امور میں مداخلت ہےبعد ازاں سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔

دریں اثنا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی کال پر صحافی برادری نے متنازع پیکا ترمیمی بل کیخلاف کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے، صحافی رہنمائوں نے پیکا میں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیا،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے متنازع پیکا ترمیمی بل کیخلاف ہنگامی اجلاس 29جنوری بروزبدھ کو طلب کرلیا۔

میڈیا ورکرز آرگنائزیشن نے ڈیوس روڈ سے صدر ایم ڈبلیو او عدنان شوکت اور اصغر خان کی قیادت میں ریلی نکالی جوپریس کلب کے احتجاجی پنڈال میں پہنچی، ریلی میں جنرل سیکرٹری طاہر علی منصف ، عرفان علی ، محمد طاہر، مشتاق خان ، آصف کھوکھر محمد ہارون خاور گلزار، حافظ شاہد ، فاروق سعید، خاقان متین ،احمر حمید، یعقوب قصوری ،صداقت رسول سمیت میڈیا ورکرز کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر چیئرنگ کراس اور پریس کلب کے سامنے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، اپوزیشن لیڈ ملک احمد خان بھچر،جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے رانا عظیم ،صدر پی یو جے میاں شاہد ندیم،جنرل سیکرٹری پی یو جے قاضی طارق عزیز،سابق صدر لاہور پریس کلب اعظم چودھری،معین اظہر ،نائب صدر لاہور پریس کلب صائمہ نواز
صدر ایمرا آصف بٹ، رہنما پی ٹی آئی عالیہ حمزہ، اراکین پنجاب اسمبلی شیخ امتیاز محمود،سرفراز ڈوگر،فرخ جاوید مون ،طیب سندھو،راشد سندھو،نعیم مصطفیٰ،عامر سہیل،بابر ڈوگر،شاداب ریاض ،اشرف مجیدسمیت سینئر صحافیوں،سیاستدانوں،وکلاء،سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی ۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈ ر ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا جس طرح بانی پی ٹی آئی ڈٹ گئے ہیں آپ بھی ڈٹ جائیں، ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں ۔
سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے رانا محمد عظیم کا کہنا تھا ہفتہ کے روز چیئر نگ کراس سے ایوان وزیر اعلیٰ تک ریلی نکالی جائے گی جبکہ 14 فروری کو پارلیمنٹ ہائوس جائیں گے۔
لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے میں سی پی این ای، ایمنڈ، پی بی اے، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، اے پی این ایس،پی یوجے، لاہورپریس کلب ،ایم ڈبلیو او،پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی ، ایسوسی ایشن فوٹوجرنلسٹس آف لاہور، کیمرہ مین ایسوسی ایشن ،وکلا برادری ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، پاکستان کسان اتحاد ، ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن ، انقلابی پارٹی ، پنجاب ٹیچرزایسوسی ایشن ، حقوق خلق پارٹی ، پنجاب پروفیسر زایسوسی ایشن ، میڈیا ورکرز ایسوسی ایشن ، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ، تاجر برادری ، جمعیت علماءاسلام ،ملی مسلم لیگ، پرائیویٹ نرسنگ کالج ایسوسی ایشن سمیت سیاسی سماجی تنظیموں اور ان کے نمائندوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پی بی اے کےنمائندے نوید کاشف نے کہا صحافی اپنے حقوق کیلئے متحد ہیں، اے پی این ایس کے صدر امتنان شاہد نےکہاشعبہ صحافت پر قدغن لگانے کیلئے پیکا ایکٹ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
اسلام آبادمیں پی ایف یو جے نے زنجیریں پہن کر احتجاج کیا اور ڈی چوک پر دھرنا دیا،ڈی چوک میں لگی خاردار تاریں لگنے سے پی ایف یو جے کی ریلی میں شریک متعددصحافی زخمی ہو گئے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر بھی صحافی برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔



