انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

اسرائیل کا ایران پر حملہ محض دفاعی ردعمل نہیں

عقیل انجم اعوان

کوئی بھی جنگ اُس وقت تک مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی جب تک اس کے مقاصد واضح نہ ہوں۔ جب تک اہداف کا تعین نہ کیا جائے اور جب تک ان اہداف کے حصول کے لیے ایک ٹھوس حکمتِ عملی نہ اپنائی جائے، جنگ محض تباہی لاتی ہے اور آخرکار تھک ہار کر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اسرائیل نے ایران کے خلاف جو فضائی مہم شروع کر رکھی ہے، اسے نہ صرف امریکی بلکہ بعض یورپی حکومتوں کی خاموش حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ صرف ایک معمولی عسکری جھڑپ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی گہرے اور پیچیدہ مقاصد کارفرما ہیں جن کا دائرہ محض میزائلوں یا ایٹمی تنصیبات تک محدود نہیں۔ظاہر یہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے متحرک ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تل ابیب کے عزائم کہیں زیادہ دوررس اور خطرناک ہیں۔ اسرائیل دراصل ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو تہران کو ان عرب ممالک کی صف میں لے آئے جنہوں نے اسرائیل سے تعلقات استوار کر لیے ہیں اور جو فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر صرف رسمی بیانات دے کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب دنیا غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والی نسل کشی پر محض علامتی احتجاج تک محدود ہو گئی ہے۔

یہ جنگ محض ایک دفاعی ردعمل نہیں بلکہ اس کا ایک بڑا مقصد دنیا کی توجہ غزہ میں جاری بربریت سے ہٹانا بھی ہے۔ جہاں اسرائیلی فوج نے نہ صرف اندھا دھند بمباری کی بلکہ خوراک اور ادویات تک بند کر دی گئیں۔ اجتماعی فاقہ کشی کی ایسی بھیانک مثال شاید ہی تاریخ نے دیکھی ہو۔ یہی انسانی المیہ یورپی اتحادیوں کو کسی حد تک بے چین کرنے لگا تھا، اگرچہ وہ اب تک اسرائیل کو سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرتے آئے ہیں۔ لیکن بھوک اور قحط جیسے مظالم نے کچھ ہلچل ضرور پیدا کی ہے۔

ادھر امریکہ کی موجودہ حکومت تو کسی ابہام کے بغیر اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی کھلی پشت پناہی کر رہی ہے۔ یہی وہ حکومت ہے جو "غزہ ریویرا منصوبے” کی داعی ہے۔ یعنی دو ملین فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے زبردستی نکال کر کسی غیر متعین مسلم ملک میں دھکیل دیا جائے تاکہ غزہ کے ساحل پر لگژری ہوٹلوں اور تفریح گاہوں کی تعمیر ممکن بنائی جا سکے۔ یہ منصوبہ ظلم کی ایک نئی جہت ہے جو صرف زمین ہتھیانے تک محدود نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی شناخت اور تہذیب کو مٹانے کی سازش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی بمباری کی بنیاد وہ یرغمالی بھی نہیں رہے جو حماس نے اکتوبر 2023 کے واقعے میں قید کیے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف وہ سودے نہ ٹھکراتے جو ان یرغمالیوں کی رہائی کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ وٹکوف کے قریبی تعلقات ٹرمپ خاندان اور کرپٹو کاروبار سے وابستہ افراد سے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار ایسے مواقع ضائع کیے جو امن کا دروازہ کھول سکتے تھے۔ دوسری جانب سینکڑوں فلسطینی اب بھی اسرائیلی جیلوں میں کسی عدالتی کارروائی کے بغیر قید ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں خود بھی یرغمال ہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس جو دو ہزار سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ بتایا جاتا ہے، وہ کتنے عرصے تک کارگر رہے گا؟ ایران نے اب تک بے شمار حملے سہے ہیں، لیکن ساتھ ہی جوابی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی میزائلوں نے کئی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں اہم فوجی تنصیبات اور کمانڈ سینٹر شامل تھے۔

سابق اسرائیلی وزیراعظم اور فوجی سربراہ ایہود باراک نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے ایران کا جوہری پروگرام محض چند ہفتے پیچھے گیا ہے۔ اگر امریکہ بھی براہ راست مداخلت کرے تو بھی یہ التوا چند ماہ سے زیادہ نہ ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ساڑھے تین سو سے چار سو کلوگرام تک ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے۔ جسے معمولی آلات کے ذریعے نوے فیصد تک لے جا کر ایک خام ایٹم بم تیار کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران کی اہم جوہری تنصیبات پرانی کانوں کے اندر زیرِ زمین واقع ہیں جہاں تک اسرائیلی طیاروں کی رسائی ممکن نہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس سے اسرائیل کی عسکری قیادت بھی باخبر ہے مگر انکار کی ہمت نہیں رکھتی۔ ایہود باراک نے واضح کیا کہ مکمل تباہی ممکن نہیں۔ صرف جزوی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی جزوی کامیابی اگر دانشمندی سے بروئے کار لائی جائے تو ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ غزہ میں جاری جنگ بند کرے اور سعودی عرب سمیت پورے خطے میں امن کے لیے کوشش کرے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ امن وقت طلب اور مشکل عمل ہے۔ مگر یہی ایک راہ ہے جو اسرائیل کو عالمی تنہائی سے بچا سکتی ہے۔

باراک نے اس امر پر زور دیا کہ اسرائیل کی فضائی مہم اب امریکہ کی لاجسٹک امداد کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ تل ابیب کو چاہیے کہ وہ اب یہ کہے کہ ہم اپنا کام کر چکے۔ اب آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ یہ دراصل اس امر کا اعتراف ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے ایرانی فوجی قیادت کو نشانہ بنانا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ اندرونی خلفشار کا عکس بھی ہے۔جہاں تک ایران میں حکومت کی تبدیلی کا سوال ہے تو باراک نے صاف کہا کہ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب امریکی بری افواج ایران کی سرزمین پر اتاری جائیں۔ یہ آپشن نہ صرف غیر عملی ہے بلکہ خود امریکہ کے لیے تباہ کن بھی ہو گا۔ انہوں نے کوریا، ویتنام اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دے کر واضح کیا کہ زمینی چڑھائی کا انجام ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ کوئی امریکی صدر، بشمول ٹرمپ، یا امریکی عوام اس مہم جوئی کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے۔

درحقیقت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے والا معاہدہ تو 2015 میں اوباما انتظامیہ کے تحت ہو چکا تھا۔ جس کے تحت ایران نے افزودگی روک دی تھی۔ لیکن 2018 میں صدر ٹرمپ نے اسے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اس کے بعد سے ایران نے نہ صرف اپنی افزودگی دوبارہ شروع کی بلکہ اب وہ ہتھیاروں کی حد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیلی مہم درحقیقت جوہری ہتھیاروں کو روکنے کی نہیں بلکہ ایران کو اپنی مرضی کے سامنے جھکانے کی کوشش ہے۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ اس تصادم میں بالآخر بالا دستی کس کی ہو گی؟ اسرائیل کو امریکہ اور یورپ کے جدید ہتھیاروں، لاجسٹک نیٹ ورکس اور فوجی ذخائر تک رسائی حاصل ہے۔ اس کا جدید فضائی نظام ایران کے پرانے اور محدود فضائی ڈھانچے پر برتری رکھتا ہے۔ جبکہ ایران کی فضائی قوت اور دفاعی صلاحیتیں محدود اور قدرے فرسودہ ہیں۔ تو بظاہر اسرائیل کو برتری حاصل ہے۔

مگر کیا جنگ صرف اسلحے سے جیتی جاتی ہے؟ ایران نے گزشتہ چند برسوں میں جو حکمت عملی اپنائی ہے اس میں اس نے خود کو ایک مزاحمتی ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ اس کے پاس دو ہزار بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ذخیرہ کب تک چلے گا اور اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ایران کسی تیسرے فریق کے ذریعے ثالثی کی جانب بڑھے گا؟ یا پھر وہ امریکی مفادات، حتیٰ کہ ان عرب ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا جو امریکی افواج کو اپنی سرزمین پر جگہ دیتے ہیں؟

اگر ایسا ہوا تو جنگ کا دائرہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل جائے گا۔ اس کے اثرات نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچے گا۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ سمندری تجارتی راستے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ دنیا ایک اور مہنگی اور غیر یقینی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ جب تک جنگوں کے پیچھے موجود سیاسی عزائم اور سامراجی مقاصد کا ادراک نہ کیا جائے، تب تک امن کا خواب ایک سراب ہی رہے گا۔ دنیا ایک کے بعد دوسری جنگ کی لپیٹ میں آتی رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button