قومی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک ادارے کی تقدیر نہیں بدلتے بلکہ ایک پوری قوم کے شعور، اعتماد اور اجتماعی وقار پر گہرے سوالیہ نشان ثبت کر دیتے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی فروخت بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جسے محض مالی خسارے، انتظامی ناکامی یا نجکاری کے تکنیکی دلائل میں سمیٹ دینا تاریخ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ پی آئی اے صرف ایک فضائی کمپنی نہیں تھی، یہ پاکستان کی شناخت، ریاستی خودمختاری اور قومی صلاحیت کی علامت تھی۔
ایک وقت تھا جب پی آئی اے ایشیا کی بہترین ایئرلائن شمار ہوتی تھی۔ اس کے پائلٹس دنیا کی ایوی ایشن اکیڈمیوں میں پڑھانے کے لیے مدعو کیے جاتے تھے، اس کے انجینئرز کی مہارت مثال سمجھی جاتی تھی اور اس کی سروس کو معیار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پی آئی اے نے نہ صرف پاکستانی قوم کو فضاؤں میں باوقار مقام دلایا بلکہ کئی عالمی ایئرلائنز کے لیے ماڈل کا کردار بھی ادا کیا۔ سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے خسارے میں کیوں گئی، اصل سوال یہ ہے کہ اسے خسارے میں کس نے ڈالا؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پی آئی اے کو پیشہ ورانہ ادارہ بنانے کے بجائے سیاسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا۔ میرٹ کی جگہ سفارش، تجربے کی جگہ وفاداری اور ادارہ جاتی مفاد کی جگہ ذاتی و گروہی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ ہر آنے والی حکومت نے پی آئی اے کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا، غیر ضروری بھرتیاں کی گئیں، نااہل انتظامیہ مسلط کی گئی اور یوں ایک مستحکم ادارہ آہستہ آہستہ زوال کی طرف دھکیل دیا گیا۔
آج جب پی آئی اے کی فروخت کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں تھا؟ کیا احتساب، اصلاحات، پیشہ ورانہ مینجمنٹ اور سیاسی مداخلت کے خاتمے سے اس ادارے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کیا جا سکتا تھا؟ دنیا میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں قومی ایئرلائنز شدید بحرانوں سے نکل کر دوبارہ منافع بخش بنیں، مگر شرط یہ تھی کہ وہاں ریاست نے ادارے کو سیاست سے آزاد کیا۔
پی آئی اے کی فروخت دراصل ریاستی ناکامی کا اعتراف ہے۔ یہ اعتراف کہ ہم ایک قومی اثاثے کو سنبھالنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ یہ فیصلہ محض ایک مالی لین دین نہیں بلکہ قومی وقار کی قیمت پر کیا گیا سودا ہے۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ نجکاری کے بعد ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہو جائے گا، قومی مفادات ثانوی حیثیت اختیار کر لیں گے اور فیصلے منافع کے ترازو میں تولے جائیں گے، نہ کہ قومی ضرورت کے پیمانے پر۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کا بوجھ دراصل عام شہری کے کندھوں پر ہی پڑے گا۔ ماضی میں دیے گئے بیل آؤٹس، قرضے اور سبسڈیز عوام کے ٹیکس سے پوری کی گئیں، اور اب جب ادارہ بیچا جا رہا ہے تو فائدہ چند مخصوص حلقوں تک محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ یوں نقصان ہمیشہ کی طرح قوم کے حصے میں آئے گا۔
پی آئی اے کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ادارے بندوق یا طیارے سے نہیں، نیت، دیانت اور وژن سے چلتے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس تجربے سے سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور قومی ادارے کی باری ہوگی۔ مسئلہ پی آئی اے نہیں، مسئلہ وہ نظام ہے جو اداروں کو بننے نہیں دیتا اور بن جائیں تو انہیں بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
پی آئی اے کی فروخت ایک باب کا اختتام نہیں، بلکہ ایک کڑا سوال ہے جو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی: کیا ہم نے اپنے قومی اثاثے اس لیے بنائے تھے کہ ایک دن انہیں اپنی نااہلی کے ملبے تلے دفن کر دیں؟



