سرحد پار سے آنیوالی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم مودی عید الاضحی ٰکے ایام میں پاکستان سے ایک بار پھر چھیڑ خانی کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو ذلت آمیز شکست کا جواب دینے کیلئے نریندر مودی کے پاس آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اب نریندر مودی دوبارہ ذلت اٹھانے کیلئے بے قرار نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لاہور سمیت صوبہ پنجاب کے بھارتی سرحد سے جڑے اضلاع میں پولیس انتہائی خفیہ آپریشنز کررہی ہے، جنگ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فرضی مشقیں کی جارہی ہیں، صرف پولیس ہی نہیں بلکہ ایلیٹ فورس، ٹریفک پولیس، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ریسکیو 1122، بم ڈسپوزل سکواڈ اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ٹیمیں بھی اِن میں حصہ لے رہی ہیں۔
اِس معاملے پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کاکہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فرضی مشقیں کی جا رہی ہیں۔پنجاب پولیس اپنی افواج کے شانہ بشانہ اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے۔ آر پی اوز، ڈی پی اوز سمیت تمام فارمیشنز سربراہان کو وار بک کے مطابق ہدایات جاری کی گئی ہیں اور تیاریوں کو مانیٹر بھی کیا جارہا ہے۔
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی ریٹائرمنٹ قریب آتے ہی حکومت انکی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے طریقہ کار کی متلاشی ہے کیونکہ حکومت چیف سیکرٹری پنجاب کی گراں قدر خدمات کے پیش نظر ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی خواہ ہے اس حوالے سے مشاورت جاری ہے دوسری جانب چیف سیکرٹری پنجاب نے پنجاب بھر میں نئے پروجیکٹ اور ترقیاتی کاموں کی ادائیگیاں روک دی ہیں تاکہ نئے آنے والے چیف سیکرٹری پنجاب یہ کام سرانجام دیں۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب جب سے قائم ہوا ،عام تاثر یہی پایاجارہا ہے کہ یہ ماورائے آئین و عدالت پولیس مقابلہ کرنے کیلئے بنایاگیا ہے کیونکہ پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے افسران اب تک تین درجن سے زائد پر پولیس مقابلے کر چکے ہیں۔ انکے مقابلوں کا طریقہ اور سکرپٹ ایک ہی ہوتا ہے کہ ملزم کو شناخت کیلئے لیجایا جارہا تھا ، اِس کے ساتھیوں نے چھڑانے کیلئے فائرنگ کی اور ملزم مارا گیا، پولیس مقابلے والے علاقے کا ایس ایچ او، ایس ڈی پی ہو اور ڈی پی او سمجھتے ہیں کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی وجہ سے اُن کی اتھارٹی ختم ہو چکی ہے، سی سی ڈی والے بندہ مارنے کے بعد تفتیش ہمارے سپرد کرکے بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔
پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے درمیان اِسی کھینچاتانی کی وجہ سے حکومت پنجاب نے ایک نیا ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا اور اِس کیلئے کام بھی جارہی ہے، جو سنگین نوعیت کے مقدمات کی جدید پیمانوں پر تحقیقات کرے اور سپیشلائز یونٹ کے طور پر کام کرے، یہ ادارہ سائبر کرائم اور اس سے جڑے جرائم کو بھی دیکھے گا۔
واضح رہے کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے افسران کا موقف ہے کہ بدنام زمانہ جرائم پیشہ کیخلاف مدعی پیروی نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ مجرم بچ نکلتے ہیں اور پھر سے جرائم کے ارتکاب میں لگ جاتے ہیں، اِس لئے اگر ان کیخلاف سخت کارروائی نہ کی جائے تو شہریوں کی بہنوں بیٹیوں کی عزتیں مخفوظ نہیں رہیں گی۔ بہرکیف یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ اِس نئے ڈیپارٹمنٹ کوجرائم پیشہ افراد کیخلاف کامیاب کارروائیوں کیلئے فیلڈ افسران کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور ہمہ وقت مشاورت میں مصروف ہوتے ہیں تاکہ اس شعبہ کی کارکردگی کے دورس نتائج نکلیں۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام سے جرائم کا گراف واقعی نیچے آیا ہے۔
کشمیر کے پہلگام فالس آپریشن اور بھارتی سفاکیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کے سیاحتی مقامات پر جانیوالے ملکی اور غیر ملکی ٹورسٹ کی حفاظت کیلئے پنجاب پولیس میں ’’ٹورازم پولیس‘‘ کے نام پر بھی ایک ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جو پنجاب بھر کے سیاحتی مقامات پر جانیوالوں کو نہ صرف خصوصی سکیورٹی فراہم کریگا بلکہ سیاحوں کے ساتھ پیش آنیوالے ناخوشگوار واقعات کو بھی بروقت روکے گا،اور چند منٹ میں ہی رسپانڈ کریگا، یہ فورس جدید آلات اور اسلحہ سے لیس ہوگی۔
پس شنید ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ،سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ اور ٹورازم پولیس کیلئے ہزاروں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں کیونکہ اِن اقدامات سے حکومت پنجاب کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔اسی تسلسل میں وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ملکہ کوہسار مری کو سیف سٹی کی کوریج میں دیدیا گیا ہے، اب مری کے اہم مقامات پر 170 جدید کیمرے نصب کئے جائیں گے، 15 ایمرجنسی بٹن اور ماحولیات پر نظر رکھنے کیلئے جدید سنسرز نصب کئے جائیں گے، مقامی پولیس کو باڈی کیم اور ڈرون بھی فراہم کردیئے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی کے تمام پہلو کور کئے جاسکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف جلد سمارٹ سیف سٹی مری کا باقاعدہ افتتاح کریں گی۔
حالیہ دنوںمیں ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران کھلی کچہریوں میں شہریوں کو موقعہ پر بروقت انصاف دینے کیلئے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، وہ سائل کی شکایت سنتے اور فوری متعلقہ افسر سے رابطہ کرکے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عام شہری ڈی آئی جی فیصل کامران اور اِن کی ٹیم سے بہت خوش ہیں کیونکہ ان کی داد رسی ہورہی ہے، سنا ہے کہ فیصل کامران نے اپنی ٹیم میں ایسے افسران و اہلکاروں کو اپنے قریب رکھا ہوا ہے جو ٹال مٹول کی بجائے فوری کارگزاری پر یقین رکھنے والے افسران ہیں۔
چند روز قبل پولیس نے جنوبی چھائونی پل سے ایک شہری مظہر یاسین نے گاڑی لیکر رفو چکر ہونے والے دوست سے پکڑوا کے اسے گاڑی سمیت چوکی کے حوالے کیا بعدازاں ایس ایچ او نے اپنے جنم دن پر بریک ڈانس کرکے مشہور ہونیوالے ایک پولیس افسر کی آمد پر اسکے اسی دوست کو سپرداری پر دیدی ،شہری ڈی آئی جی فیصل کامران کے پاس شکایت لیکر پہنچا تو ایس ایچ او نے فوری معاملے کا اعتراف کرلیا، جس پر فیصل کامران نے گاڑی ایس پی کینٹ کے دفتر میں کھڑی کرکے تحقیقات کے بعد اصل مالک کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔



