پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

میاں بیوی کے درمیان بنیادی دستاویز نکاح نامہ:سپریم کورٹ

دوسال بعد طلاق دی، کیاخاتون نے گن پوائنٹ پرشادی کرلی تھی:جسٹس سید منصور علی شاہ کے ریمارکس

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے میں نے زندگی میں غلطیاں کی ہونگی تاہم وکیل اِ ن پر انحصار نہیں کرسکتے۔

جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میاں بیوی کے درمیان بنیادی دستاویز نکاح نامہ ہوتا ہے اور اسی سے چیزیں آگے چلتی ہیں، اگر خاتون کی وجہ سے رخصتی نہیں ہورہی تواسے نتائج بھگتنا ہوں گے اور اگر مردکی وجہ سے نہیں ہورہی تواسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اگر دھوکہ ہواتودوسرے دن طلاق دے دیتے، دوسال بندہ کدھرتھا،خرچ دینے سے کیسے انکارکرسکتے ہیں، کیا شوہراتنے کمزورتھے کہ اپنی اہلیہ کودیکھ بھی نہیں سکتے تھے، کیا پریشانی تھی، شادی کیوں کی، دوسال بعد طلاق دی، کیاخاتون نے گن پوائنٹ پرشادی کرلی تھی۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نےکہا خاتون دوسال گھر بیٹھی رہی، کیا وہ نقصانات کے ازالہ کادعویٰ کرتی یا خرچ کاہی دعویٰ کرتی، جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے امبرین اکرم کی جانب سے اسداﷲ خان اور، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد اوردیگر کے خلاف رخصتی کے بغیر نکاح کے دوسال بعد طلاق دینے کے معاملہ پر بیوی کوخرچ نہ دینے کے حوالہ سے درخواست پرسماعت کی۔

جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھاکس بنیاد پر کہہ رہے ہیں رخصتی کے بغیر کچھ حقوق حاصل نہیں ہوتے ۔ وکیل کاکہنا تھا شادی کے وقت کے لڑکی کی عمر چھپائی گئی ، لڑکے کی عمر 29سال اور لڑکی کی35سال تھی۔عدالت کاکہنا تھااِس کیس میں رخصتی کیوں تاخیر کاشکارہوئی، وکیل عام باتیں نہ کریں بلکہ ریکارڈ سے بات کریں، دوسال شوہر کہاں تھا،چار ماہ کے قریب رخصتی تاخیر کاشکار ہوئی۔

وکیل کاکہنا تھا مئوکل کو طلاق دینے کافیصلہ کرنے میں دوسال لگ گئے جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا مزید سماعت 8جولائی بروزمنگل کو کریں گے، مدعا علیہ کے وکیل شواہد دکھائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button