پاکستانتازہ ترینجرم-وسزافن اور فنکار

والد کا انتقال نہیں قتل ہوا تھا: جگن کاظم

وہ میری زندگی کا بدترین اور سب سے تکلیف دہ دور تھااس دوران لوگوں کی حقیقت جاننے کاموقع ملا:اداکارہ

 

لاہور:( کلچرل رپوٹر )پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف میزبان اور اداکارہ جگن کاظم نے اپنے والد کے قتل اور بچپن کے تلخ تجربات پر پہلی بار تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے ماضی کی کئی یادیں شیئر کی ہیں۔

جگن کاظم نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے والد سید عباس کاظم کے قتل اور والدہ کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات سمیت بچپن کے مشکل حالات پر کھل کر بات کی۔

ان کے والد سید عباس کاظم سرکاری ٹی وی کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اکتوبر 2002ء میں انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ جگن کاظم نے بتایا کہ میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب مجھے والد کے انتقال کی خبر ملی، میں اس وقت کینیڈا میں تھی۔

مجھے ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا اور کہا گیا کہ آپ کے دادا انتقال کر گئے ہیں، مین اپنے والد کو دادا کہہ کر پکارتی تھی، اس وقت میری عمر 21 سال تھی۔ والد کے ساتھ میرا تعلق ہمیشہ بہت پیچیدہ رہا، تاہم ان کی موت کی خبر نے مجھے شدید صدمہ پہنچایا، ابتداء میں مجھے یقین ہی نہیں آیا اور میں نے فون کرنے والے کو ڈانٹ کر کال منقطع کر دی، لیکن بعد میں دوبارہ رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ والد کا انتقال نہیں بلکہ قتل ہوا تھا۔

وہ وقت میری زندگی کا بدترین اور سب سے تکلیف دہ دور تھا، اس دوران لوگوں کی حقیقت جاننے اور زندگی کے کئی تلخ پہلو دیکھنے کا موقع ملا۔ والد نے مجھے زندگی کے بہت سے سبق سکھائے، میں اس بات کا افسوس بھی کرتی ہوں کہ والد بہت جلد دنیا سے چلے گئے اور انہیں اپنی بیٹی کی کامیابیاں دیکھنے اور ان پر فخر کرنے کا موقع نہیں ملا۔

جب مجھے صدارتی ایوارڈ ملا تو اس موقع پر مجھے اپنے والد بہت یاد آئی، میں نے دل ہی دل میں اپنے والد سے کہا کہ دادا! آپ سمجھتے تھے کہ میں کچھ نہیں کر سکتی۔میں نے بچپن میں اپنے والد کا ایک جارحانہ اور سخت پہلو بھی دیکھا تھا، تاہم دنیا کے لیے وہ ایک دوستانہ اور غیر معمولی شخصیت تھے جو بہت سے لوگوں کا خیال رکھتے تھے۔

میں اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتی ہوں کیونکہ انہوں نے مجھے جنم دیا، میں بچپن میں انتہائی شرارتی، ضدی اور باغی مزاج کی بچی تھی۔میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی، ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتی تھی اور وہ تمام سرگرمیاں کرتی تھی جو عام طور پر لڑکوں سے منسوب کی جاتی ہیں۔

آج بھی میں دوستی یا رشتوں میں جنس کی بنیاد پر فرق نہیں کرتی، انسان اور اس کے ساتھ تعلق زیادہ اہم ہے۔17 سال کی عمر میں زندگی کے تجربات کی وجہ سے مجھ میں کچھ پختگی آئی تاہم اس سے پہلے میں انتہائی مشکل اور باغی بچی تھی اور والدہ کی جانب سے دی جانے والی بیشتر ہدایات کو مسترد کر دیا کرتی تھی۔جگن کاظم نے اپنے والدین کی طلاق کو بھی اپنے مشکل رویے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button