
لاہور :(بیوروچیف) لاہور ہائیکورٹ نے کرائے داری سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کرائے دار اس وقت تک اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے جب تک وہ جائیداد کا قبضہ مالک کے حوالے نہ کر دے۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کوئی بھی کرائے دار تیسرے فریق کی ملکیت کا سہارا لے کر جائیداد پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔
عدالت نے دکان سے کرائے دار نہال دین کی بے دخلی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے بلقیس بیگم کی جانب سے دائر ملکیتی اعتراض کی درخواست مسترد کر دی۔فیصلے میں کہا گیا بلقیس بیگم اپنے دعوئے ملکیت کے حق میں مناسب اور قابلِ قبول شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ متعلقہ دکان پہلے ہی بے دخلی کے حکم سے خارج کی جا چکی تھی جبکہ دائر درخواست کا مقصد اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے کرائے دار کو فائدہ پہنچانا معلوم ہوتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی یا اختیاراتی خامی موجود نہیں، اس لیے اپیل خارج کی جاتی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے بعد کرائے دار نہال دین کی بے دخلی کا حکم برقرار رہے گا۔



