یہ صدی روشنیوں کی صدی ہے۔ اسکرینوں کی چمک، ڈیجیٹل تصویروں کی جھلک، وائرل ویڈیوز کی دوڑ اور مصنوعی زندگیوں کا ہجوم۔ مگر ان روشنیوں کے پیچھے جو تاریکی چھپی ہے وہ صدیوں پرانی ہے۔ وہ تاریکی جس میں عورت کی آواز دبائی جاتی ہے اس کے خواب کچلے جاتے ہیں اور اس کے انکار کو گناہ بنا کر اس کے وجود کو سزا دی جاتی ہے۔ یہ کہانی کوئی نئی نہیں۔ یہ ہر دور میں دہرائی گئی ہے نئے چہروں، نئے انداز مگر ایک ہی انجام کے ساتھ۔ثنا یوسف صرف ایک ٹک ٹاکر نہیں تھی۔ وہ ایک لڑکی تھی، ایک بیٹی، ایک بہن، ایک دوست، ایک مکمل انسان، جو صرف اتنا چاہتی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے جی سکے اپنی پسند سے سانس لے سکے اور اپنی آواز سے پہچانی جا سکے۔ مگر وہ اسی آزادی کی قیمت چکا بیٹھی۔ ایک گولی نے اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ لیکن اس گولی کی نوک پر صرف ایک انگلی نہیں تھی بلکہ ایک پورا سماج، ایک زہریلی سوچ، ایک پدرشاہی نظام کھڑا تھا۔ثنا کو گولی نے نہیں مارا اس سماج نے مارا جو عورت کے جینے پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ سوچ جس نے مرد کو یہ سکھایا کہ انکار برداشت کرنا کمزوری ہے اور’’نہیں‘‘ سننا مردانگی پر حملہ۔ وہ نظام جس نے غیرت کے نام پر قتل کو معاف کرنے کے جواز پیدا کیے۔ وہ ماحول جہاں عورت کا بولنا گستاخی، اس کا انکار بغاوت اور اس کا خواب دیکھنا بے حیائی تصور کیا جاتا ہے۔ہم نے ایک بار پھر وہی سوالات سنے،کیا وہ حد سے بڑھ گئی تھی؟کیا اس کا لباس بولڈ تھا؟کیا اس نے کسی کی عزت پامال کی؟ گویا ثنا خود اپنی موت کی ذمہ دار تھی۔ یہی تو اصل ظلم ہے کہ ہر بار ہر قتل کے بعد قاتل سے پہلے مقتولہ کا کچا چٹھا کھولا جاتا ہے۔ اس کی نیت، اس کا لباس، اس کے خواب، اس کے تعلقات سب پر انگلی اٹھتی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جو ہم نے صدیوں کی تہذیب سے سیکھا ہے؟اگر ہم غور کریں تو یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم تسلسل ہے۔ قندیل بلوچ کے قتل پر بھی یہی کہا گیاوہ حد سے بڑھ گئی تھی۔ نور مقدم کے ساتھ جو ہوا اس پر بھی لوگوں نے کہاوہ خود کیوں ملی؟ اور اب ثنا۔ ہر بار نئی عورت، نیا واقعہ، مگر وہی پرانے جملے، وہی گھسے پٹے جواز، وہی قاتل کے لیے ہمدردی اور مقتولہ کے لیے الزام۔یہ محض واقعات نہیں یہ عورت کشی کی ایک منصوبہ بند لڑی ہے۔ ایک ایسی جنگ جس میں عورت کا جسم میدان ہے اور مرد کی انا ہتھیار اور جب یہ انا ٹکرا جائے کسی عورت کے انکار سے تو پھر نتیجہ وہی ہوتا ہے خون، خاموشی اور لاش۔یہ وہ سماج ہے جہاں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ سہم جاتے ہیں۔ جہاں بچپن میں اسے چپ رہنا سکھایا جاتا ہے،سر جھکا کر جینا،زیادہ مت ہنسو،اکیلی مت نکلو۔ ہم لڑکی کو زندگی کے بجائے خوف دیتے ہیں۔ اختیار کے بجائے حدود، خواب کے بجائے شرم اور پھر تعجب کرتے ہیں کہ کیوں عورتیں مر رہی ہیں؟ کیوں وہ بولنے سے ڈرتی ہیں؟ کیوں انکار نہیں کرتیں؟ یا اگر کریں تو کیوں قتل ہو جاتی ہیں؟ثنا کا قتل کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا۔ یہ برسوں کی ذہنی تربیت، صدیوں کی ثقافتی زنجیروں اور ادارہ جاتی غفلت کا فطری نتیجہ تھا۔ وہ مرد جس نے ٹریگر دبایا اس کی انگلی میں وہ طاقت سماج نے دی تھی۔ جس ریاست نے اسے بندوق خریدنے دی جس تعلیمی نظام نے اسے عورت کو کم تر سکھایا جس مذہبی بیانیے نے اس کی مردانگی کو تقدیس دی اور جس قانون نے پہلے بھی قاتلوں کو رہا کیا۔ یہ سب قاتل ہیں۔کیا ہمارے تھانے ان مظلوم عورتوں کے لیے کھلے ہیں؟ جہاں ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کو ریکارڈ بھی کیا جائے؟ جہاں پولیس اہلکار ان کے لباس پر تبصرے کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کریں؟ کیا ہماری عدالتیں اتنی مضبوط ہیں کہ قاتل کو وقت پر سزا دیں؟ کیا ہمارا میڈیا اتنا باوقار ہے کہ وہ کسی عورت کی موت کوریٹنگ کی بجائےعدالت کا سوال بنائے؟ جواب نفی میں ہے۔میڈیا اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ جب وہ ثنا کی موت کوٹک ٹاکر کا قتل کہتا ہے تو وہ اس کی انسانی شناخت کو مسخ کرتا ہے۔ وہ صرف اس کی ڈیجیٹل موجودگی کو اجاگر کرتا ہے اور اس کے دکھ اس کی زندگی اس کے خواب سب کو ایک لفظ ٹک ٹاکر میں قید کر دیتا ہے۔ کیا کوئی بھی شخص صرف اس کی نوکری یا پیشے سے پہچانا جا سکتا ہے؟ کیا موت بھی اب کلکس اور ویوز سے ناپی جائے گی؟ہمیں زبان بدلنی ہوگی۔ ہمیں بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں اس قتل کومحبت کی ناکامی نہیں، اختیار کی جنگ کہنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مرد کی اجارہ داری کا بحران ہے عورت کی خودمختاری کا قصور نہیں۔ جب تک ہم اس مسئلے کو اس کی اصل بنیاد پدرشاہی سے جوڑ کر نہیں دیکھیں گے تب تک ہر نئی صبح کسی نئی ثنا کی آخری ہو سکتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو صرف تعلیم نہ دیں بلکہ تربیت دیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ عورت کمزور نہیں برابری کی حقدار ہے۔ محبت ایک رضامندی کا بندھن ہے جبرکی زنجیر نہیں۔ احترام وہ روشنی ہے جو مرد کو مرد بناتی ہے نہ کہ کنٹرول کی ہوس۔ جب ایک لڑکے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ عورت پر اختیار اس کی فطرت ہے تو وہ کبھی عاشق بن کر قریب آتا ہے کبھی جلاد بن کر سزا دیتا ہے۔ہمیں اسکولوں، کالجوں، جامعات، حتیٰ کہ مساجد میں بھی یہ بیانیہ بدلنا ہوگا۔ ہمیں عورت کو محض شرم و حیا کی علامت نہیں، عقل، فہم، اختیار اور آزادی کا استعارہ بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ عورت بھی انسان ہے مکمل، آزاد، باعزت۔ریاست کو چاہیے کہ وہ صرف قوانین نہ بنائے ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ صرف تحفظِ خواتین کے بل پاس کرنا کافی نہیں ان کی سچائی تک رسائی، انصاف تک پہنچ اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ پولیس کو صنفی حساسیت پر تربیت دینا ہوگی، عدالتوں کو تاخیر سے بچانا ہوگا اور معاشرتی اداروں کو عورت کے حق میں آواز بلند کرنی ہوگی۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ یہ صرف عورتوں کی جنگ نہیں یہ ایک پوری نسل کی بقا کا سوال ہے۔ اگر آج ہم نے ثنا کے خون سے سبق نہ سیکھا تو کل ہر ماں کا سینہ خالی ہوگا ہر بہن کی آنکھ اشک بار اور ہر بیٹی کی زندگی خطرے میں۔ثنا کی کہانی صرف اس کی نہیں ہم سب کی ہے۔ وہ ایک فرد نہیں ایک علامت تھی ایک احتجاج، ایک چیخ، ایک آئینہ۔ اگر ہم نے
اب بھی نہ دیکھا، نہ سنا، نہ بدلا، تو اس آئینے میں ہر چہرہ لہو آلود نظر آئے گا۔یہ ٹک ٹاک کی کہانی نہیں یہ طاقت کے زہر کی داستان ہے۔ اور جب تک ہم اسے اس کے اصل نام پدرشاہی سے پکاریں گے نہیں اس کا زہر ہر ثنا میں اترتا رہے گا ہر خواب کو روندتا رہے گا ہر عورت کو خاموش کرتا رہے گااور آخر میں، ہمیں صرف ایک سوال اپنے دلوں میں دہرانا ہےکیا یہ وہ دنیا ہے جو ہم اپنی بیٹیوں کے لیے چاہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



