پاکستان، امریکہ اور چین کے فاصلے کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے ، بلاول بھٹو
ڈونلڈ ٹرمپ ’’ ڈیل میکر‘‘، ان کی لیڈرشپ میں پاکستان کلیدی علاقائی چیلنجز سے نبردآزما ہوسکتا ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی
میونخ (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی تنا کے درمیان پاکستان امریکہ اور چین کے مابین فاصلے کم کرنے میں کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جرمنی میں میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران ڈوئچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں پاکستان کے تاریخی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ اگر آپ ہمیں کسی کیمپ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو ہم خود کو ایک مصالحت کار اور ثالث کے طور پر دیکھنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تقسیم کو وسعت دینے کے بجائے خلیج کو پاٹنے کا خواہاں ہے۔
بلاول نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ’’ ڈیل میکر ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی لیڈرشپ میں پاکستان کلیدی علاقائی چیلنجز سے نبردآزما ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی حریف ہونے کے باوجود پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کے لیے چین کے حریف کے طورپر امریکی حمایت ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے چین کے ساتھ پاکستان کے مستحکم تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک سے بھی تعلقات قائم رکھے۔ سکیورٹی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پاکستان کے موجودہ چیلنجز کا سبب افغانستان سے امریکی انخلا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) اور داعش جیسے گروہ طاقتور ہوئے۔
بلاول بھٹو نے جارحیت پسندی کے خلاف ماضی میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اتفاق رائے پر زور دیا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 1970ء کی دہائی کے اوائل میں کلیدی مصالحت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور چین کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔1971 ء میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطہ کاری کو ممکن بنایا۔ بعدازاں صدر یحییٰ خان نے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور چینی حکمران چون این لائی کے درمیان پیغام رساں کا کردار ادا کیا۔
پاکستان نے جولائی 1971ء میں امریکی قومی سلامی کے مشیر ہنری کیسنجر کے بیجنگ کے خفیہ دورے کا اہتمام کیا۔ سرکاری طور پر ہنری کسنجر پاکستان کے دورے پر تھے مگر بیماری کے بہانے وہ بڑی خاموشی سے اسلام آباد سے چین پرواز کرگئے تھے۔ ہنری کسنجر کے دورے سے امریکی صدر نکسن کا 1972ء کا انتہائی اہم دورہ چین ممکن ہو پایا، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات کی ابتدا ہوئی۔



