کالے جادوسے خواتین بانجھ،ساس ،بہومیں جھگڑاعام(تیسری قسط)
لاہور:(رپورٹ،محمد قیصر چوہان)ہندو مذہب میں کالی ماتا (کالی دیوی) ایک بربادی اور تباہی کی دیوی سمجھی جاتی ہے اس کا مندر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں واقع ہے اور اسے کالی گھاٹ بھی کہا جاتا ہے۔کالی دیوی اصل میں درگا دیوی کے پسینے سے پیدا ہونے والی سات دیویوں میں سے ایک ہے جبکہ دیگر دیویاں شیراں والی دیوی ، ویشنو دیوی ، لکشمی دیوی ، سرسوتی دیوی ، اورسنتوشی دیوی ہیں۔کالی دیوی ایک کالے سیاہ رنگ کی عورت ہے جو آٹھ ہاتھ رکھتی ہے ایک میں تلوار دوسرے میں انسانی سر اور دیگر ہاتھوں میں بھی مختلف ہتھیار ہوتے ہیں اس کے گلے میں انسانی کھوپٹریوں کا ہار اور بدن پر انسانی چہروں اور بازﺅں کا زیر جامہ ہوتا ہے اس کی آنکھیں سرخ ،گالوں اور سینے پر انسانی خون لگا ہوتا ہے جبکہ ایک انسانی لاش کے اوپر یہ کھڑی ہوتی ہے۔
کالی ماتا کے ماننے والے اس کے چرنوں میں قربانی پیش کرتے ہیں جبکہ قدیم دور میں انسانوں کی قربانی بھی بھینٹ کی جاتی تھی اگرچہ اب بھی بنیاد پرست ہندووں کا یہی عقیدہ ہے اور وہ چھپ چھپا کر ایسا کام کرتے رہتے ہیں۔بھارت میں کئی لوگ ان دیوی دیوتا کے چرنوں میں انسانی بچوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔گائے،بھینس، بکرے یا بکری کے دست یعنی شانے کی ثابت ہڈی کالے جادو اور سفلی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ قصاب ہمیشہ اس پتلی اور چپٹی ہڈی کو گوشت الگ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔اس کے علاوہ عموما بکری کے دل پر بھی کٹ لگا دیتے ہیں کیونکہ ثابت دل پر عمل چلتا ہے اسی طرح کمہار کبھی بھٹی سے اتارا گیا تازہ برتن کبھی حوالے نہیں کرے گا اور اسے پکاکر ہی فروخت کرے گا۔
سفلی اور کالا جادوکرنے والے لوگ جان پہچان کے کمہاروں سے کور برتن لے جاتے ہیں جبکہ کمہار کے کام میں استعمال ہونے والا دھاگا بھی کالے علم میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ دست کی ہڈی عموما محبوب کو تابع کرنے یا مختلف کو برباد کرنے کےلئے استعمال ہوتی ہے ۔
بعض اسے عورت کی کوکھ باندھنے کےلئے بھی استعمال کرتے ہیں چند عملیات میں عورت کو کوکھ باندھنے کےلئے تلے پر عمل کر کے اسے کنویں، دریا یا سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ کالے جادو اور سفلی عمل میں کسرت سے استعمال ہونے والی اشیاءدرج ذیل ہیں ۔ گگل ،ماش کی دال ،انڈے ،سپاری ،ناریل ،زعفران،دھتورا، مور کے پر، کیز کے پھول، شہد،آک کا پودہ، کوے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی آنکھ اور دم، الو کی بیٹ ، انسانی ناخن، جانوروں اور انسانوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں، سیندور،لونگ، سوئیاں، ہینگ، کسی خوبصورت عورت کے بال جو تازہ تازہ مری ہو اور انسانی کھوپڑی وغیرہ۔
انسان جب حد سے زیادہ تعیش پسند اور مادہ پرست ہو جائے تو کچھ چیزیں اس کی فطرت میں خود بخود در آتی ہیں، مثلاً خود غرضی، احسان فراموشی، لالچ، حسد، کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسوں کے حصول کی خواہش، اور ان سب کے علاوہ میڈیا کا اثر، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک پلاننگ کے تحت معاشرے سے سادگی، حیا، وقار اور رکھ رکھائو کا جنازہ نکالا جا رہا ہے زیادہ دور نہیں بس چالیس پچاس سال پیچھے نظر دوڑا لیں، امیر سے امیر اور غریب سے غریب گھرانوں میں بھی ایک وقار، تمدن، رکھ رکھائواور تہذیب چھلکتی تھی۔
اپنے اپنے ماحول اور خطے کے مطابق ہر ایک بساط بھر وضع دار اور انٹلیکچوئل ہوا کرتا تھا، پھر کیا ہوا کہ اس میڈیا نے عورتوں کو کپڑوں، زیورات کی نمائش، ساس بہو کے جھگڑوں کے پیچھے لگا دیا اور گھر اجاڑنے، مشترکہ خاندانی نظام کے خاتمے کے وہ وہ طریقے پڑوسی ملک کے ڈراموں کے ذریعے سکھائے جانے لگے جو کسی کو معلوم نہ ہوتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملکی میڈیا بھی اسی لپیٹ میں آ گیا، مردوں کو انھی عورتوں نے پیسے کا پجاری اور ہوس کا غلام بنا دیا ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی اس خواہش نے انتشار اور افراتفری پیدا کر دی ہے۔
رشتوں میں خود غرضی اور حسد در آیا، پھر بات جعلی پیروں سے ہوتی ہوئی دوسرے مذہب کے عاملین کے آستانوں اور ٹونوں تک جا پہنچی، فلاں دیورانی اپنے رشتے داروں میں سے بہو لانا چاہتی ہے کیسے روکا جائے؟ وہ جیٹھ زیادہ کما رہا ہے میرا میاں کیوں نہیں، تعویذ لائوکہ اس کا کاروبار تو ٹھپ ہو، خوامخواہ زیورات سے لدی رہتی ہے، ہر روز نیا سوٹ، فلاں ہمسائی کا شوہر اس محکمے میں اعلی افسر کیوں ہے؟ اس کزن کے بچے اتنا اچھا کیوں پڑھ لکھ گئے؟ کہاں سے آئیں یہ غلاظتیں، اتنی نفرت، وہ خاندانی نجابت کہاں گئی؟ کہاں کہاں پر کرپشن اور غیر ذمہ داری کا رونا رویا جائے، حرام کا پیسہ حرام میں ہی جاتا ہے سو جادو، تعویذات پر خرچ ہونے لگا ہے ،معاشرے خود بخود ایسی چیزوں کو جگہیں دینے لگتے ہیں، یہی ہمارے ہاں بھی ہوا ہے، غیر محسوس طریقے سے۔ میں نے اعلیٰ خاندانی رئیسوں، سیاسی خانوادوں کی بیگمات اور گھر کی خواتین کو ان جادوگروں اور ٹونے کرنے والوں سے تعلقات نبھاتے سنا ،پڑھا اور دےکھا بھی ہے۔ ایسی آکسفورڈ اور کیمبرج کی پڑھائی کا کیا فائدہ جو آپ کو دین دے سکے نہ دنیا اور نہ ہی آپ کو اس جادو اور سفلی علم جیسی جہالت سے چھٹکارا دلا سکے۔ملک بھر میں دن بدن بڑھتے ہوئے حسد کی وجہ سے کالے جادو کے ذریعے خواتین کو بانجھ بنانے کا مکرہ دھندا عروج پرگیا ہے۔
دریں اثنا کالے جادو کے حوالے سے پہلی قسط19اگست2025 بروزبدھ جبکہ دوسری قسط 20اگست 2025کوناظرین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کوwww.cnnurdu.comپروزٹ کیا جاسکتا ہے آج 22اگست 2025بروز جمعہ اس سلسلے کی تیسری قسط پیش کی جارہی ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



