انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ جنگ بندی برقرار، شہر سے ملبہ ہٹانے کا عمل شروع: امریکہ کے 200فوجی اسرائیل پہنچ گئے

شہر شرم الشیخ میں آج جنگ بندی سے متعلق امن کانفرنس کی تیاری مکمل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع

غزہ، عمان، واشنگٹن (ویب ڈیسک ) اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، غزہ شہر سے ملبہ ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا، جبکہ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں امریکہ کے 200فوجی اسرائیل پہنچ گئے ہیں ، حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کا سلسلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے قبل شروع کر دیا جائے گا، اسرائیل نے بھی فلسطینی قیدیوں کو رہائی سے قبل 2جیلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جبری طور پر بے گھر کئے گئے فلسطینی اپنی اشیا سے لدے ٹرکوں پر سوار ہو کر مصری اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے وسطی غزہ کی پٹی میں وادی غزہ کے قریب ساحلی سڑک کے ساتھ ساتھ غزہ شہر کی جانب جا رہے ہیں۔ غزہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلسطینی صرف ملبہ دیکھنے واپس لوٹے ہیں۔2سالہ جنگ کے بعد غزہ شہر میں ملبہ ہٹانے کے لئے بلڈوزروں نے کام شروع کر دیا ہے، جبکہ دسیوں ہزار جبری طور پر بے گھر فلسطینی شمالی غزہ کے تباہ شدہ شہروں اور قصبوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔
بلڈوزر کے آپریٹر علی العطار نے کہا کہ غزہ میں تباہی کی سطح واقعی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سڑکیں صاف کرنے میں ہی کم از کم ایک مہینہ لگے گا تاکہ لوگ ان علاقوں تک پہنچ سکیں، بلڈوزروں کی حالت بھی خراب ہے، جو مشین میں چلا رہا ہوں، اس سے تیل رس رہا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو جتنے بلڈوزر موجود ہیں، اس سے کم از کم 20گنا زیادہ کی ہمیں ضرورت ہے۔ غزہ حکام کے مطابق اقوام متحدہ کی تازہ فضائی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ صرف غزہ شہر میں تقریبا 41ہزار رہائشی یونٹس تباہ ہو چکے ہیں۔ شہر میں 80لاکھ مکعب میٹر ( تقریبا 283ملین مکعب فٹ) ملبے کے برابر ہے۔ دریں اثنا غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں امریکہ کے 200فوجی اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیل پہنچنے والے امریکی فوجی غزہ میں داخل ہوئے بغیر وہاں موجود مصر، قطر اور ترکیی کے فوجیوں کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ادھر مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کی تیاری مکمل ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے، جبکہ برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر بھی شرکت کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو رہائی سے قبل 2جیلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جو حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے، اس معاہدے کے تحت غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔ مصر کے صدارتی دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی آج سہ پہر کو شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس کی سربراہی کریں گے جس میں 20سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ، مشرق وسطیٰ کے امن اور استحکام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا اور خطے میں سلامی و استحکام کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنن یاہو اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں تاہم حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے کہا ہے کہ حماس اس میں شریک نہیں ہو گی کیونکہ اس نے قطری و مصری ثالثوں کے کے ذریعے اس پورے عمل میں حصہ لیا ہے۔ غزہ معاہدے کے حوالے سے واضح پیشرفت ہو جانے کے باوجود اب بھی ثالثوں کے سامنے طویل المدتی سیاسی حل نکالنے کے لیے مشکل صورت حال موجود ہے جس کے لیے ضروری ہو گا کہ مسلح حماس غزہ کی گورننس سے الگ ہو جائے۔
حسام بدران کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں کافی مشکلات اور پیچیدگیاں موجود ہیں جبکہ ایک اور رہنما نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق اسرائیل غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرے گا اور مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی فورسز پر مشتمل کثیر ملکی فورس اس کی جگہ لے گی، جو اسرائیل میں امریکہ کے کمانڈ سینٹر کے تعاون سے کام کرے گی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ غزہ کی بحالی کئی نسلوں کے بعد دیکھنا ممکن ہوگی۔ اقوام متحدہ ماہر نے کہا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ کی پٹی میں خیمے اور عارضی رہائش بھیجنے کی اجازت دینی چاہیے، کیوں کہ بے گھر فلسطینی جب شمالی غزہ کے تباہ شدہ علاقوں میں واپس جا رہے ہیں تو انہیں اپنے گھر اور محلے ملبے کے ڈھیر کی صورت میں مل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے مناسب رہائش، بالا کرشنن راج گوپال نے کہا کہ شمالی غزہ کے ان علاقوں میں، جہاں سے اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئی ہیں، لوگ واپس جا کر صرف ملبہ ہی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ نفسیاتی اثرات اور صدمات بہت گہرے ہیں، اور یہی ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں جب لوگ شمالی غزہ واپس جا رہے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطی، اسٹیو وٹکوف نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی کے دورے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ وہ وہاں گئے تھے تاکہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل کی عملداری کی تصدیق کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکیورٹی، انسانی امداد، اور تنازعات سے بچا کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ موصول ہوئیں، مستقل عزم کے ساتھ، امن اب بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ادھر اسرائیل سے فریڈم فلوٹیلا کے 45ارکان رہا ہو کر اردن پہنچ گئے۔ یہ بات اردن کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے 9کشتیوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا کے قافلے کے ارکان کو گزشتہ ہفتے حراست میں لیا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button