مظفرآباد(ویب ڈیسک ) آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں سیاسی، مذہبی اور پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک اہم قرارداد منظور کر لی، جس میں آئندہ انتخابات، مہاجرین کی نشستوں، آئینی اصلاحات اور مسئلہ کشمیر سے متعلق متعدد نکات شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی کانفرنس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق شرکاء نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر میں جاری جمہوری اور آئینی عمل ریاستی استحکام کی بنیاد ہے اور تمام سیاسی قوتیں جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ وقت پر منعقد کیے جائیں گے۔
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے جبکہ انتخابی عمل میں مداخلت یا اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کا قانونی اور آئینی طریقے سے سدباب کیا جائے گا۔
مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں کے حوالے سے کانفرنس نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ تاہم انتخابی نظام میں موجود بعض پیچیدگیوں کے حل کے لیے آئین اور قانون کے مطابق قانون سازی کی جا سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آئینی ترمیم کا اختیار منتخب نمائندوں اور قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے، لہٰذا کسی بھی ممکنہ آئینی تبدیلی سے قبل سیاسی جماعتوں، وکلاء تنظیموں، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت پر مبنی ایک جامع اور وسیع عمل شروع کیا جانا چاہیے۔
کانفرنس کے شرکاء نے خطے میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو ناگزیر قرار دیا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم، چار سابق وزرائے اعظم، قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم کمیٹی نے شرکت سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کو تحریری طور پر اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور رکن شوکت نواز میر کی جانب سے ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں ایسے عناصر سے مشاورت، جو مبینہ طور پر ناانصافی، بنیادی حقوق کی پامالی اور عدم مساوات پر مبنی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، استحصال کا شکار عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آل پارٹیز کانفرنس میں عدم شرکت کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ شوکت نواز میر نے امید ظاہر کی کہ حکومت سمیت دیگر ذمہ دار حلقے 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کریں گے۔



