انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

موسمیاتی تبدیلی،پاکستان سمیت دُنیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج

رپورٹ: محمد قیصر چوہان

ماحولیاتی آلودگی پوری دُنیا کو بڑے نقصانات سے دوچار کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر موسمیاتی تغیرات رونما ہورہے ہیں۔ دُنیا بھر کے موسموں پر اس کے انتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔ قدرتی آفات کی شرح بے پناہ بڑھ گئی ہے۔ جسم کو جھلسا دینے والی گرمی اور کڑاکے نکال دینے والی سردی کے موسموں کا دُنیا کو سامنا ہے۔ زراعت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پیداوار میں ہولناک حد تک کمی آرہی ہے۔ نت نئے امراض پیدا ہورہے ہیں۔ یہ دُنیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ تبدیلیاں عالمی ایشو ہے ان سے بچنے کے لیے پوری دنیا کو کردار ادا کرنا ہو گا ۔

بلاشبہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لیے امیر ممالک کی جانب سے کلائمٹ فنڈنگ میں اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے آنے والی آفتوں کا سب سے زیادہ شکار غریب ممالک ہیں اور فنڈنگ کے لیے کیے جانے والے وعدوں کے باوجود امیر ممالک اپنا ٹارگٹ پورا نہیں کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت پوری دنیا خصوصاً اِن تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہونے والے ترقی پذیرملکوں کیلئے تباہ کن خطرہ ہے۔ اس صورت حال کو جنم دینے میں اصل کردار ترقی یافتہ ملکوں کا ہے جو توانائی کے ایسے ذرائع کو اب تک بڑے پیمانے پر استعمال کررہے ہیں جو مضر گیسوں کے اخراج کے ذریعے زمین کے درجہ حرارت کو بڑھانے کا بنیادی سبب ہیں۔

موسمی تبدیلیوں کے باعث یکے بعد دیگرے بحرانوں سے ورلڈ فوڈ مارکیٹ میں بحران، خطوں میں خوراک کی عدم دستیابی اور مقامی آبادیوں کی نقل مکانی جیسے مسائل پیدا ہوں گے جو مستقبل میں امن اور سلامتی کے لیے خطرات بن سکتے ہیں۔ انھی وجوہات کے سبب عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سادہ اور آسان الفاظ میں اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں کلائمیٹ چینج کے نتیجے میں خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوگی، قدرتی وسائل کے حصول کے لیے ممالک اور خطوں کے درمیان مقابلہ شروع ہو جائے گا، معیشتیں شدید خسارے میں چلی جائیں گی، قدرتی آفات کے تسلسل سے مختلف خطوں اور علاقوں کے لوگ ہجرت پر مجبور ہوں گے۔یہ مہاجرین غریب ممالک سے ہجرت کرتے ہیں اور قریبی غریب ملکوں میں ہی جاتے ہیں۔

کم آمدنی والے معاشروں میں وسائل کی کمی کے باعث مناسب ڈیٹا مرتب نہیں ہو پاتا، اسی وجہ سے مہاجرین کی آڑ میں ایسے عناصر بھی دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں، جو بعد میں ان ممالک کی سیکیورٹی کے مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔ ماہرین متفق ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں 8 کروڑ سے زائدافراد بھوک و افلاس کا شکار ہیں۔اگر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو کنٹرول اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ نہ روکا گیا تو مزید تقریباً 2 کروڑ لوگ بھوک کی وادی میں چلے جائیں گے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ گرین ہائوس گیسوںکے اخراج میں اضافہ ہے جو ہر سال مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ گرین ہائوس گیسز زمین کی فضا میں موجود ایسی گیسز ہیں جو زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھاتی ہیں، جو چیز انھیں دیگر گیسوں سے ممتاز کرتی ہے، یہ ہے کہ وہ اس ہیٹ ریڈی ایشن کو جذب کر لیتی ہیں جو سیارہ خارج کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں گرین ہائوس اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ انسانوں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جن سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور یہی بڑھتا ہوا درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ ہے۔ انسان کی جانب سے تیل، گیس اور کوئلے کا بڑھتا ہوا استعمال اور جنگلات کا تیزی سے کاٹا جانا ایسے عوامل ہیں، جن کی وجہ سے گرین ہائوس گیسوں کی مقدار بڑھ رہی ہے اور زمین کی سطح کا درجہ حرارت بھی۔ یہ درجہ حرارت کس رفتار سے بڑھ رہا ہے اس کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ اب تک دنیا کا مجموعی درجہ حرارت تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو در پیش سب سے بڑا چیلنج ہے، گو پاکستان کا کلائمیٹ چینج میں ایک فیصد بھی حصہ نہیں، لیکن ہم کلائمیٹ چینج سے پانچویں سب سے زیادہ متاثر ملک ہیں۔ پاکستان کو 2010 سے لیکر 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا۔ایک اندازے کے مطابق 70 ارب ڈالرسے زائد کا نقصان اُٹھانا پڑا۔درحقیقت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت آتی جا رہی ہے، موسمی اثرات کی وجہ سے فصلوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں کلائمیٹ پر بڑی تیزی کے ساتھ اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سر فہرست ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں ایک حقیقت ہیں اور ان کا اثر پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔ پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے، ان تبدیلیوں کے براہ راست زد میں ہیں، مگر حکومتوں کی ترجیحات میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ کہیں نظر نہیں آتا۔

پچھلے چند برسوں میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بار بار ایسی آفات رونما ہوئی ہیں، مگر ہر بار حکومت اور ضلعی انتظامیہ ایک جیسی بے بسی کا مظاہرہ کرتی ہے۔حکومتوں کی یہ بھی ناکامی ہے کہ آفات سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے کوئی طویل المدتی اقدامات نظر نہیں آتے۔

موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں عالمی ایشو ہے ان سے بچنے کے لیے پوری دنیا کو کردار ادا کرنا ہو گا تاہم اس سے پہلے کہ پانی کی کمی کے باعث صورتحال قحط سالی تک پہنچ جائے۔ پاکستان کو فوری طور پر اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا۔ بھارت سے اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لیے پوری تیاری کے ساتھ متعلقہ عالمی فورمز سے رجوع کرنے کے ساتھ مجوزہ آبی ذخائر کی جلد تکمیل کرنا ہوگی۔ بڑے ذخائرکی تعمیر کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ان کی تعمیر جاری رہے، ان کے ساتھ چھوٹے ذخائر پر توجہ دی جائے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے حکومت سنجیدگی کے ساتھ اس کے مخالفین کو تعمیر پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے۔

کالا باغ ڈیم کی تعمیر آبی قلت کے حوالے سے ممکنہ ناگفتہ بہ حالات کو دیکھتے ہوئے بلا تاخیر تعمیر کے آغاز کی متقاضی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کس قدر واضح اور شدید ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران ملک کے درجہ حرارت میں سالانہ 0.63 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پاکستان کے ساتھ لگنے والے بحیرہ عرب کے ساحلوں پر پانی کی سطح سالانہ ایک ملی میٹر کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

موسمیات اور آب و ہوا کے ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ آنے والے برسوں میں ان اثرات کے تیزی سے بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق موسمیاتی واقعات، ماحولیاتی انحطاط اور فضائی آلودگی، یہ تینوں عوامل مل کر 2050تک پاکستان کے جی ڈی پی میں 18 تا 20 فیصد تک کمی کا سبب بن سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات لوگوں کے طرزِ رہائش اور ان کے ذرایع معاش پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والے عوامل میں حصے دار نہیں ہیں، نہ ہی ان کا ان تبدیلیوں میں کوئی براہ راست عمل دخل ہے۔ اس کے باوجود ان ممالک کو ان تبدیلیوں کے اثرات و نتائج کو تسلیم کرنا اور ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ پاکستان اس وقت کر رہا ہے۔ پاکستان سمیت کئی خطوں میں تیز اور بے موسم کی بارشیں، ریکارڈ برف باری، ہوا میں نمی کے تناسب کا معمول سے زیادہ بڑھنا یا کم ہونا، کہیں زیادہ سردی پڑنا یا زیادہ گرمی پڑنا یہ سب موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کا ایک بین الحکومتی ادارہ ہے، جس کا کام انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں سائنسی معلومات کو آگے بڑھانا ہے۔اس ادارے نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی شدت اور بن موسم بارشوں نے پاکستان کی زرعی پیداوار کو شدید طور پر متاثر کیا ہے اور اس نوعیت کے موسمی واقعات کی تعداد مستقبل میں بڑھ سکتی ہے اور اگر یہ بڑھی تو پاکستان جو پہلے ہی غذائی تحفظ کے لحاظ سے شدید خطرے کا شکار ہے، مزید مسائل میں گھر جائے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک قیمتوں میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے برسوں میں اہم غذائی اور نقد آور فصلوں جیسے گندم، گنا، چاول، مکئی اور کپاس کی کاشت میں نمایاں کمی کی پیشگوئی کر چکا ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمیں بے حد محتاط ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب ہم نہیں ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آ جانے کی وجہ سے ان سے بچنا ہم پر لازم ہو چکا ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کے لیے تو واویلا یقینا جاری رکھنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہر فرد کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنے حصے کا کردار بھی ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمی معاملات کے ماہر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں اور مشینوں کا استعمال کم کرنا، پیدل چلنا، ورزش کرنا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا انفرادی سطح پر ایسے اقدامات ہیں، جن کے ہمارے ماحول اور موسموں پر مجموعی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

گلیشیئرز دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کے لیے لائف لائن ہیں، ان گلیشیئرز سے دنیا کو 70فیصد تازہ پانی ملتا ہے، پاکستان میں سات ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جس سے دریائے سندھ کا 60سے 80فیصد پانی دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان کی زراعت کا 90فیصد پانی یہاں سے میسر آتا ہے اور 24کروڑ عوام کی خدمت کر رہا ہے، 1960ءکے مقابلہ میں گلیشیئرز میں 23فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اس کے نتیجہ میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، تیزی سے پگھلتے ہوئے ان گلیشیئرز سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں تین ہزار سے زائد جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں۔ پاکستان کو گلیشیئرز مانیٹرنگ پروگرام، ارلی وارننگ سسٹم، پانی کے ذخیرہ کرنے کے متبادل حل سمیت دیگر اقدامات کے لیے درکار امداد کی ضرورت ہے۔پاکستان ان قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے، گلیشیئرز، بنی نوع انسان اور کرہ ارض کے مستقبل کے تحفظ کیلئے تمام ممالک کو متحد ہو کر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button