تبصرہ نگار :عقیل انجم اعوان 
کاروباری ،سماجی و سیاسی شخصیت اور مفکر و دانش ور زبیر احمد انصاری ہمارے عہد کے اُن نادر انسانوں میں سے ہیں جنہوں نے کاروبار کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اپنی فکری گہرائی، علمی بصیرت اور روحانی وابستگی کو برقرار رکھا۔ اُن کی شخصیت صرف ایک کامیاب تاجر یا سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک ایسے دانشور کی ہے جو مادیت کے سمندر میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو فکری روشنی دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُن کی تحریروں میں یہ احساس نمایاں ہے کہ کاروبار صرف منافع کا نام نہیں بلکہ خدمتِ خلق، دیانت اور خدا ترسی کے اصولوں پر قائم ایک ذمہ داری ہے۔

اُن کی کتاب ’’ میں ،اللہ اور سائنس‘‘ اسی فکری جہت کا تسلسل ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اُن کے وسیع مطالعے اور علمِ کائنات پر گرفت کی غماز ہے بلکہ ایک روحانی مکاشفہ بھی ہے جو عقل اور ایمان کے درمیان پل بناتی ہے۔زبیر احمد انصاری نے اس تصنیف میں ایک ایسا موضوع چھیڑا ہے جسے جدید دنیا اکثر دو متضاد زاویوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ایک طرف سائنس ہے جو تجربے، مشاہدے اور منطق پر یقین رکھتی ہے دوسری طرف ایمان ہے جو یقین، وجدان اور الہام پر قائم ہے۔ لیکن انصاری صاحب بڑی خوبصورتی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ دونوں دشمن نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اُن کے مطابق سائنس دراصل اللہ کی تخلیق کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش ہے جبکہ ایمان اُن رازوں کی حکمت پر یقین کا نام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سائنس خلوصِ نیت سے سوال کرتی ہے تو جواب ہمیشہ اللہ کے وجود کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
کتاب کے ابتدائی ابواب میں زبیر احمد انصاری نے کائنات کی تخلیق پر غور کیا ہے۔ وہ قرآن کی آیات اور جدید سائنس کی دریافتوں کو ایک ہی فکری دھارے میں سمو دیتے ہیں۔ وہ بگ بینگ تھیوری کو بطورِ مثال پیش کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ قرآن نے چودہ سو سال قبل سورۂ الانبیاء میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آسمان اور زمین ایک اکائی تھے جنہیں اللہ نے پھاڑ کر جدا کر دیا۔ اُن کے نزدیک یہ محض مذہبی تعبیر نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے جسے انسان نے صدیوں بعد دریافت کیا۔ زبیر احمد انصاری کا طرزِ استدلال علمی بھی ہے اور وجدانی بھی۔ وہ اعداد و شمار، سائنسی مثالیں اور فلسفیانہ دلائل کے ساتھ ساتھ روحانی بصیرت کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل انسان کے لیے چراغِ راہ ہے مگر روشنی اُس وقت تک بیکار ہے جب تک دل کے اندر یقین کا تیل موجود نہ ہو۔ اُن کی تحریر میں ایک ایسا توازن پایا جاتا ہے جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے نہ وہ سائنس کو مذہب کے تابع بنا کر اُس کی اہمیت گھٹاتے ہیں اور نہ ایمان کو عقل کے تابع کر کے اُس کی روح کمزور کرتے ہیں۔کتاب ’’ میں ،اللہ اور سائنس‘‘ کے ایک باب میں وہ انسانی ذہن کی ساخت پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسانی دماغ جس قدر پیچیدہ اور منظم ہے اُس کا محض اتفاق سے پیدا ہو جانا ناممکن ہے۔

وہ جدید نیورولوجی اور بایولوجی کے حوالے دیتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی شعور، احساس اور عقل محض مادّی عمل نہیں بلکہ روحانی نظم کا حصہ ہیں۔ اُن کے نزدیک انسان کا وجدان اس کے خالق کی موجودگی کی گواہی دیتا ہے بالکل ویسے جیسے سمندر کی ہر موج اُس ہوا کی خبر دیتی ہے جو اسے حرکت میں لاتی ہے۔زبیر احمد انصاری نہ صرف ایک مفکر بلکہ ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں۔ لیکن اُن کے نزدیک بزنس محض دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت داری، انصاف اور خدمتِ انسانی کے اصولوں پر قائم ایک عبادت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کاروبار میں اللہ کا خوف اور انصاف کی روح شامل ہو وہی حقیقی کامیابی ہے۔ اُن کی تجارتی کامیابی دراصل اُن کے ایمان کی پختگی کی آئینہ دار ہے۔ اُنہوں نے عملی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ اگر تجارت اللہ کے احکامات کے مطابق کی جائے تو دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔ اُن کی شخصیت میں ایک عجیب توازن پایا جاتا ہے۔ ایک طرف کاروباری ذہانت کی تیزی ہے اور دوسری طرف روحانی سکون کی گہرائی۔اُن کے نزدیک سائنس اور کاروبار دونوں اُس وقت با برکت بنتے ہیں جب ان کا مرکز انسان کی خدمت اور خدا کی رضا ہو۔ اسی سوچ نے اُنہیں ایک مختلف مقام عطا کیا ہے۔ وہ بزنس کے میدان میں بھی علم اور اخلاق کے ترجمان ہیں اور تحریر میں بھی۔ اُن کی تحریریں یہ سبق دیتی ہیں کہ کامیابی کا اصل مفہوم صرف مالی استحکام نہیں بلکہ ذہنی سکون اور روحانی اطمینان ہے۔کتاب ’’میں ،اللہ اور سائنس‘‘ میں وہ مادیت پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق جب انسان نے اپنی عقل کو خدا کا نعم البدل سمجھنا شروع کیا تو علم برکت سے خالی ہو گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سائنس نے انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا مگر دل کی گہرائیوں سے اُس کے خالق کا احساس چھین لیا۔

وہ انسان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ علم اگر عاجزی پیدا نہ کرے تو وہ غرور بن جاتا ہے اور غرور علم کی موت ہے۔ اُن کے الفاظ میں سائنس اُس وقت تک روشنی ہے جب تک وہ انسان کو اپنی محدودیت کا احساس دلاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ خالق کی جگہ لینے کی کوشش کرے وہ اندھیرے میں بدل جاتی ہے۔زبیر احمد انصاری نے اپنی کتاب میں مغربی مفکرین کے نظریات پر بھی تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ڈارون، فریڈ، نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے مفکرین نے اپنی عقل کی حد تک سچائی کو تلاش کیا لیکن اُن میں سے اکثر نے اُس حقیقت کو نظرانداز کر دیا جو ان تمام قوانین کے پیچھے کارفرما ہے ۔۔۔ یعنی خالقِ حقیقی۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس نے جو کچھ دریافت کیا ہے وہ اللہ کے وجود کی تائید کرتا ہے تردید نہیں۔ اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے روشنی کی خبر دیتا ہے تو کائنات کی ترتیب خود خالق کے وجود کا ثبوت ہے۔کتاب کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ مصنف نے قرآنِ مجید کو سائنس کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ آیات کو سائنسی زاویے سے بیان کرتے ہوئے قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ کتابِ ہدایت صرف عبادت کے لیے نہیں بلکہ کائنات کی تفہیم کے لیے بھی نازل ہوئی۔ اُن کے مطابق قرآن ہی پہلی کتاب ہے جس نے انسان کو مشاہدے، تحقیق اور تجربے کی دعوت دی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان جب تک قرآن کو فکری رہنمائی کے طور پر استعمال کرتے رہے دنیا میں اُنہوں نے علم و سائنس کے میدان میں قیادت کی اور جب ایمان کو صرف رسموں تک محدود کر دیا تو زوال اُن کا مقدر بن گیا۔زبیر احمد انصاری کے اسلوب میں ایک غیر معمولی ادبی لطافت ہے۔ وہ محض معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ قاری کے دل میں ایک جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ اُن کی تحریر میں علم کی سختی اور ایمان کی نرمی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ کبھی وہ فلسفے کی زبان میں بات کرتے ہیں تو کبھی صوفیانہ لہجے میں۔ اُن کی عبارتوں میں فکر کی خوشبو، محبت کا لمس اور خدا کی تلاش کا اضطراب موجود ہے۔ اُن کے جملے قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتے رہتے ہیں جیسے کوئی دعا آسمان سے اُتر کر دل کے نہاں خانوں میں جگہ بنا لے۔اگر انصاری صاحب کی شخصیت کو دیکھا جائے تو اُن کی زندگی خود اُن کے نظریات کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔
اُنہوں نے کاروبار کی دنیا میں بھی وہی اصول اپنائے جنہیں وہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں۔ دیانت، انصاف، خلوص اور ایمانداری اُن کی تجارتی پہچان ہیں۔ اُن کے نزدیک کامیاب تاجر وہ نہیں جو زیادہ دولت کمائے بلکہ وہ ہے جو اپنے کاروبار کے ذریعے معاشرے میں اعتماد اور خیر پیدا کرے۔ اُن کی گفتگو میں ہمیشہ ایک مقصدیت جھلکتی ہے وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل سائنس کو سیکھے مگر خدا کو نہ بھولے، دولت کمائے مگر ضمیر کو زندہ رکھے، ترقی کرے مگر انسانیت سے وفا بھی کرے۔ میں ،اللہ اور سائنس محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے۔ یہ کتاب انسان کو مادیت کے اندھیروں سے نکال کر یقین کی روشنی میں لے جاتی ہے۔ زبیر احمد انصاری نے ثابت کر دیا کہ جدید سائنس دراصل قرآن کی صداقت کی نئی تشریح ہے۔ اُنہوں نے ایمان اور علم کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو نہایت محبت اور منطق کے ساتھ پُر کیا۔ اُن کی تحریر میں ایک دانشور کی ذہانت بھی ہے اور ایک عابد کی سادگی بھی۔ وہ سائنس کے پیچیدہ سوالات کا جواب علم سے نہیں بلکہ یقین سے دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ایمان وہ روشنی ہے جس کے بغیر علم ادھورا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زبیر احمد انصاری ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جنہوں نے عمل اور علم کو یکجا کر کے ایک نئی فکری سمت دی ہے۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ اگر انسان اپنی پیشہ ورانہ کامیابی کو روحانی بصیرت سے جوڑ لے تو وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو رہتا ہے۔ اُن کی کتاب ’’میں ،اللہ اور سائنس‘‘ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری خزانہ ہے ایک رہنمائی ہے اور ایک دعوتِ فکر ہے کہ علم اور ایمان ایک ہی روشنی کے دو زاویے ہیں۔زبیر احمد انصاری کا یہ کارنامہ ہماری فکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اُنہوں نے سائنس کو خدا سے جوڑا نہ کہ خدا کو سائنس سے جدا کیا۔ اُن کی تحریر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب علم جھک کر خالق کے حضور سر تسلیم خم کر دیتا ہے تب ہی وہ سچائی کے قریب پہنچتا ہے۔ اور شاید یہی پیغام اس پوری کتاب کا حاصل ہے ۔



