(پہلی قسط)بلوچستان سونے کی چڑیا،جغرافیائی،معدنی دولت سے مالا مال
چین، افغانستان اور سنٹرل ایشیاءکے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان ،ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں تک سڑکوں کی تعمیرجاری
لاہور:(رپورٹ:محمد قیصرچوہان)دنیا کے چند خوبصورت ترین اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔اگر ہم بات کریں بلوچستان کی توبلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے حوالے سے سب سے چھوٹا صوبہ ہےیہ بے پناہ معدنی دولت سے مالا مال ہے۔
تین لاکھ47 ہزارمربع کلو میٹر رقبے پر محیط پاکستان کا یہ بڑا اور خوبصورت صوبہ زیادہ تر بے آب وگیاہ پہاڑوں،تاحد نظر پھیلے ہوئے صحرائوں، ریگستانوں اورخشک وبنجر میدانی علاقوں پر مشتمل ہے،اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔اس کی 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے جبکہ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔
قابل کاشت اراضی کل رقبے کا صرف 6 فیصد ہے۔بلوچستان ملک کے تقریباََ44 فیصد رقبے پرمشتمل ہے،مگراس کی آبادی ملک کی کل آبادی کا صرف ساڑھے 6فیصد ہے۔ اس کا صدر مقام کوئٹہ ہے یہ شہر اپنی تاریخی، ثقافتی و تہذیبی حیثیت سے ایک خاص مقام رکھتا ہے افغان سرحد کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں صوبے کے باقی شہروں کی نسبت زیادہ ہیں۔
قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے بلوچستان کی ڈیپ پورٹ گوادر سے صرف 45ناٹیکل میل کی دوری پر عمان کی ریاست واقع ہے جبکہ 150 ناٹیکل میل کی دوری پر آبنائے ہرمز ہے کہ جو دنیا کی مصروف ترین بحری تجارتی گزر گاہ ہے کہ جہاں سے صرف تیل کی دنیا کو سپلائی ایک تہائی سے زیادہ ہوتی ہے۔بلوچستان کی ڈیپ بندرگاہ گوادر جلد ہی ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے۔ یہاں سے چین، افغانستان اور سنٹرل ایشیاءکے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان ،ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں تک جانے کے لیے سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔

گوادر کی بندر گاہ خلیج فارس ،بحیرہ عرب ،بحر ہند ،خلیج بنگال اور اسی سمندری بیلٹ میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہے کہ جس میں 50ہزار ٹن سے لیکر ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے۔بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جہاں پر معدنیات بھی دیگر صوبوں سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔

ویسے تو بلوچستان صرف دو لفظوں پر مشتمل ہے؛ یعنی”بلوچ” اور "ستان”، جس کے لفظی معنی بلوچوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ بلوچ، بلوچستان کے دھرتی کے قدیم ترین باسی ہیں۔ تاریخ دان ہمیشہ بلوچ لفظ کے الگ الگ معنی لکھتے تھے۔ کچھ نے تو بلوچوں کو ترکمانی کہا۔ کچھ نے عربی کہا اور کچھ نے ترکی کا مجموعہ کہا۔ حتیٰ کہ سکندر اعظم کے کئی فوجیوں کے بلوچ اقوام سے تعلق کا ذکر بھی بیشتر کتابوں میں درج ہے۔
بلوچستان ریگستان اور پہاڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ بلوچستان کی سرزمین کب آباد ہوئی تھی اور کب بلوچ لوگ یہاں آباد ہوئے، یہ کوئی نہیں جانتا ہے اور نہ ہی کتابیں یہ بتا سکتی ہیں کہ بلوچ کون ہیں اور کہاں سے آئیں ہیں؟۔بلوچوں کی آپس کی لڑائی بھی سیکڑوں سالوں تک چلتی رہی۔ اسی وجہ سے بلوچوں کی نقل مکانی بھی عام سی بات ہے۔ بلوچوں نے پاکستان کے مختلف کونوں میں اپنے اپنے گھر بسائے ہیں۔ بلوچستان کی سرزمین جس طرح دنیا بھر میں سی پیک کی وجہ سے مشہور ہے، اسی طرح بلوچستان کی سر زمین خزانوں سے بھری پڑی ہے جسے نکال کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے مگر ان پر آج بھی کچھ استحصالی گروہ قابض ہیں۔ تاریخی طور پر بلوچستان ہمیشہ کبھی روشنی اور کبھی اندھیرے میں رہا ہے۔ بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات کی رقم بلوچستان میں خرچ کی جائے تو آج بلوچستان جنت نظیر سے کم نہ ہو۔سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کو سونے کی چڑیا سمجھا جاتا ہے مگر اصل سونا تو بلوچستان کی معدنیات ہیں۔
ان معدنیات میں سونا، چاندی، لوہا، کرومائیٹ، تانبا، گیس، چونا، عمارتی پتھر، ایگرو کرومائیٹ، جپسم، سنگ مرمر اور کئی قسم کی دھاتیں موجود ہیں۔ جو ہر سال سرکاری خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کرتی ہیں۔ بلوچستان کو اللہ نے بے شمار دولت سے مالا مال کیا ہے۔ بلوچستان میں معدنیات کے بے شمار ذخائر موجود ہیں۔ خاران میں راسکوہ کے مقام سے کرومائیٹ، تانبا، گندھک، گرینائٹ اور جپسم کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اسی طرح خاران میں کانڑی کے مقام پہ تیل کے بھی آثار دیکھے گئے ہیں۔ جب کہ سینڈک کے مقام پر بڑے پیمانے پر تانبا، لوہا، چاندی دریافت ہوئے ہیں۔ یہ معدنیات چند گھنٹوں میں بلوچستان کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ بلوچستان کے مغرب میں واقع مکران خاران اور چاغی کے پہاڑی سلسلے شامل ہیں جب کہ مشرق میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔

یہ پہاڑ تمام قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ مگر ماضی کی حکومتوںکی عدم توجہی کی وجہ سے یہاں پر پائی جانے والی معدنیات نے صوبے کی قسمت نہیں بدلی۔بلوچستان میں پائی جانے والی معدنیات دو قسم کی ہیں۔ ایک دھاتی اور دوسری غیر دھاتی۔ ملک بھرمیں نو زون میں معدنیات کی پیداوار موجود ہیں جن میں پانچ زون بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی معدنیات دنیا کی قیمتی معدنیات میں شمار کی جاتی ہے۔ ان معدنیات سے آج بھی لاکھوں بلین ڈالرز زرمبادلہ کمایا جا رہا ہے۔ اب تک بلوچستان میں پچاس مختلف اقسام کی معدنیات دریافت ہو چکی ہیں۔ یہ معدنیات تمام دنیا کی 26 فیصد بنیادی توانائی اور چالیس فیصد بجلی کی ضرورت پوری کرتی ہیں۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی نظریں سی پیک کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی معدنیات کی وجہ سے یہاں لگی ہوئی ہیں۔ جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق بلوچستان کے پانچ مقامات پر سونے اور تانبے کے 78کروڑ ٹن ذخائر موجود ہیں۔
بلوچستان میں ریکوڈک میں تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ جہاں سے سالانہ دو لاکھ ٹن تانبا اور سالانہ اڑھائی لاکھ اونس سونا نکالا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کر لیتے ہیں تو نہ صرف بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدل جائے گی بلکہ پاکستان کو مجموعی طور پر بے شمار فوائد ہوں گے اور ہم اپنی معیشت کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد1948 میں ہی جیولوجیکل سروے آف پاکستان کا دفتر کوئٹہ میں قائم کردیا گیا تھا۔ اور اس محکمے کو سارے پاکستان کے ارضیاتی سروے اور معدنی وسائل کو ڈھونڈنے کا کام سونپا گیا تھا۔



