یہ بات تو پوری قوم جان چکی ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے۔کمیٹی میں موجود دونوں اطراف کے ممبروں کی فہرست بھی میڈیا کے ذریعے عوام جان چکی ہے۔عوامی حلقے اس بات کو لیکر کشمکش کا شکار ہیں، آیا یہ مذاکرات کامیاب ہو پائیں گے یاں نہیں۔دونوں اطراف کے کمیٹی ممبران کے بیانات سے تو بضاہر یہی لگتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے مگر اس کے برعکس حقیقت کچھ اور نظر آ رہی ہے۔ان دونوں مخالف جماعتوں کا اچانک مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانا بے وجہ نہیں ہے اسکے پیچھے کچھ خوف اور کچھ مفادات ہیں جبکہ دو رکاوٹیں بھی کھڑی ہیں۔ایک رکاوٹ حکومت کی طرف سے جبکہ دوسری رکاوٹ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کھڑی ہونے کو تیار ہیں۔پہلے ہم خوف اور مفاد کی بات کرتے ہیں۔ایک خوف و مفاد حکومت کو ہے خوف یہ کہ ملک اس وقت کسی بھی قسم کے حکومت مخالف مظاہروں کا متحمل نہیں ہے۔حکومت کی ساری توجہ ملک کو درست سمت لے جانے پر ہے تاکہ کارکردگی کی بنا پر اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سنبھال سکے اور مستقبل میں ہونے والے الیکشن میں اچھی پوزیشن حاصل کر کے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنا سکے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا مفاد یہ ہے کہ کسی بھی طرح عمران خان کو باہر لایا جائے کیونکہ تحریک انصاف کے لیڈران یہ بات بخوبی جان چکے ہیں کہ عمران خان کے بغیر عوام کو سڑکوں پر نکالنا انکے لئے قدرے مشکل ہے اور خوف اس بات کا ہے کہ ایسے نازک حالات میں جبکہ اسٹیبلشمنٹ انکے سخت مخالف ہے کسی بھی قسم کا احتجاج یا دھرنا وقت اور طاقت دونوں کا ضیاع ہے۔تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے عتاب سے بچنا چاہتی ہے اور پارٹی پر لگا اسٹیبلشمنٹ مخالف لیبل اتارنا چاہتی ہے۔
ان دونوں جماعتوں کے اسی خوف اور مفادات نے انھیں مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا ہے۔مگر یہ بات ان دونوں جماعتوں کے علم میں ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں اطراف سے رکاوٹیں کھڑی ہونے والی ہیں۔حکومت کی جانب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے جو ان مذاکرات کی ہرگز حامی نہیں ہے۔تحریک انصاف نے جس طرح نوجوان نسل کی اسٹیبلشمنٹ مخالف ذہن سازی کی اور اسٹیبلشمنٹ کی عمارتوں پر حملے کے ذریعے انکی املاک کو نقصان پہنچایا،اسٹیبلشمنٹ اس سانحہ کو نظر انداز کر کے مذاکرات کی حامی ہرگز نہیں ہو سکتی اور بالفرض اگر حامی ہو بھی جائے تو اسٹیبلشمنٹ کو اپنے شہداء کے ورثاء کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسٹیبلشمنٹ کو ایک خدشہ اس کے علاؤہ بھی ہے وہ یہ کہ اگر اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کی حمایت کرتی ہے تو دوسری سیاسی جماعتوں کے اندر چھپی اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ امڈ کر باہر آ جائے گی اور مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میدان عمل میں اتر کر نو مئی جیسا سانحہ کر گزرے گی۔لہذا ان خدشات کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ مذاکرات میں رکاوٹ کھڑی کرے گی۔
قارئین! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کون ہو گی؟ کیونکہ ہر دور کی موجودہ حکومت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ضرور موجود ہوتی ہے۔جس کے ذریعےا سٹیبلشمنٹ حکومت پر پریشر بنائے رکھتی ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں ن لیگ کے مقابلے میں بی ٹیم تحریک انصاف تھی مگر شہباز شریف کے دور حکومت میں ن لیگ کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کوئی دوسری سیاسی جماعت نہیں بلکہ خود ن لیگ ہی رہے گی۔
اب بات کرتے ہیں تحریک انصاف کی جانب سے کھڑی ہونے والی رکاوٹ کی، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عوام میں عمران خان کی مقبولیت کی وجہ کارکردگی نہیں فقط شریف خاندان کی مخالفت ہے۔وہی خاندان جس کے متعلق عمران خان اپنی ہر تقریر میں چور ڈاکو کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عوام کی ذہن سازی کرتے رہے۔اس بیانیے کی وجہ سے عمران خان عوام میں مقبول ہوتے چلے گئے۔حالیہ الیکشن میں عمران خان اور انکے سیاسی حواریوں نے ن لیگ کے خلاف یہ بیانیہ بنایا کہ ن لیگ الیکشن چوری کر کے جیتی ہے اور یہ الیکشن اسٹیبلشمنٹ نے چوری کر کے ن لیگ کو دیا۔عوام نے ن لیگ کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرے بازی بھی شروع کر دی۔اب عوام کو یہ دونوں بیانئے دینے کے بعد اگر تحریک انصاف بقول انکے چور ڈاکووں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہے تو تحریک انصاف کو عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عین ممکن ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بنک بھی کافی حد تک کم ہو جائے اور مقبولیت میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ادھر تحریک انصاف کے کارکنان کو ملٹری کوٹ سے سزائیں مل رہی ہیں اور یہاں تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی حمایتی جماعت کے ساتھ مذاکرات طے کرنے جا رہی ہے۔تحریک انصاف کے منہ میں چھپکلی ہے،نا نگل سکتے ہیں نہ ہی تھوک سکتے ہیں۔تحریک انصاف کے سامنے عوام کی صورت میں ایسی آہنی رکاوٹ کھڑی ہے جسے اگر عبور کرتی ہے تو مقبولیت اور ووٹ بنک دونوں جاتے ہیں اور اگر عبور نہیں کرتی تو پوری حکومتی مشینری اور اسٹیبلشمنٹ بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے سامنے کھڑے ہیں۔
سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



