ساٹھ باسٹھ سال کی ایک خاتون ہیں، پنجابی کے پرانے فلمی گانوں پر اپنے خوش شکل باریش شوہر کے ارد گرد منڈلاتے ہوئے ریل بناتی ہیں۔یقینا نوجوانی میں خوبصورت رہی ہوں گی۔اب بھی اچھی دکھتی ہیں۔مجھے پنجابی فلمی گانے پسند ہیں اس لئے دیکھ لیتا ہوں ۔ایک بٹ صاحب ہیں ۔ان کی عمر بھی لگ بھگ ساٹھ سال ہی ہوگی۔ان کی بیگم بھی پرانے فلمی نغموں پر ان کے ساتھ پرفارم کرتے ہوئے ریل بناتی ہیں۔پہلی خاتون چلبلی سی بن کر اداکاری کرتی ہیں، دوسری خاتون اچھلتی کودتی نہیں۔ایک 76، 77 سال کے بزرگ ہیں۔رنگ سرخ و سفید ،دانت ٹوٹے ہوئے ، ٹوٹے دانت کے ساتھ جو باقی ہیں وہ مزید نمایاں ہوتے ہیں۔رمتا سنگھ کے گانوں پر ایسے باکمال ایکسپریشن دیتے ہیں کہ داد دیئے بنا آدمی رہ نہیں سکتا۔جانے ساری عمر اداکاری کی حسرتیں چھپائے کیسے گزاری۔اب موقع ملا تو جوہر کھلے ۔ماضی کی نامور ہیروئن نشو بیگم بھی ریل بنا رہی ہیں۔اپنے دور کے فلمی گانوں پر وہ اپنی قوت و ہمت کے مطابق پرفارم کرتی ہیں۔ایک اور بزرگ خاتون ہیں وہ ’’گندلاں دا ساگ تے مکھن مکئی‘‘ پر پرفارم کر رہی تھیں۔ دیہاتی عورت جس کو گہری لپ سٹک اور گالوں پر غازے کے سوا شائد میک اپ کا پتہ نہیں۔ایک خاتون ہیں پائوں میں جوتی نہیں، ایسا نہیں کہ’’ جدوں ہولی جہی لیناں میراناں ‘‘ پر ناچنے کے لئے جوتی اتاری ہے،پائوں پر جمی میل اور پھٹی ایڑیاں بتا رہی ہیں کہ اس کی تقدیر کی جلد ہی سیاہ ہے۔کچے گھر کی دیواروں پر غربت کا دھواں سیاہی بڑھا رہا ہے ۔پتہ نہیں کس نے اس کو ناچنے کا راستہ دکھایا،اس کی ویڈیو بنائی ۔نو ہزار لوگ دیکھ چکے ہیں۔یہی خاتون ایک 70 برس کے بزرگ کے ساتھ ’’ ’’تیرے خواب تے خیال رہندے میرے نال نال ‘‘ پر رقص کر رہی ہے۔شائد یہ اس کا شوہر ہے۔ میں گانے سنتا ہوں، کئی گانے ساتھ گنگنا بھی لیتا ہوں ۔مجھے لگتا ہے کہ یہ بزرگ لوگ ہماری یادگار موسیقی کی از سر نو ترویج کے لئے بڑا کام کر رہے ہیں۔لوگ ان کی ریلز پر کمنٹ سیکشن میں جا کر تبصرہ کرتے ہیں۔اکثر تنقید کی جاتی ہے۔ان کو عمر کا طعنہ دے کر حیا کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔کچھ لوگ قرآن و حدیث سے اقتباسات پیش کرکے ان کو تائب ہونے کا کہتے ہیں۔کچھ انہیں ماں جی کہہ کر داد دیتے ہیں۔کچھ ان کے خدو خال پر بازاری لہجے میں بات کرتے ہیں۔ شروع میں دیکھا تو مجھے بھی ایسے ہی خیال آئے ۔مجھے لگا کہ یہ عورتیں اور مرد بے حیائی پھیلا رہے ہیں۔مجھے لگا کہ پاکستانی سماج کو ان کی ریلز نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔میرے لئے سماج کا مطلب بڑھتی عمر کے لوگوں کی گھروں میں قید اور اولاد کے رحم و کرم پر زندہ رہناتھا۔ان لوگوں نے میرے تصورات کے برعکس کام کیا تھا۔میری طرح بہت سے لوگ ان سے ناراض ہوئے ہوں گے۔کچھ نے تو اشتعال محسوس کیا ہوگا۔میں سوچ رہا ہوں ان کی اولاد کہاں ہے اور کیا محسوس کرتی ہو گی؟ یہ لوگ کیا دین سے دور ہیں، کیا سماج کی عمومی اقدار سے لاتعلق ہو گئے ہیں یاپھر انہیں بے حس سماج نے یہ احساس دلایا ہے کہ بڑھاپے میں بقا کی خاطر انہیں نوجوانوں جیسا رومانس دکھانا ہے؟یہ رومانس اور موسیقی سماج کے بڑے طبقے کی فرسٹریشن کو تسکین دیتی ہے اس لئے ان ریلز کو دیکھنے والے لاکھوں ہیں۔ میرے کچھ دوستوں کا خیال ہے میں بلا وجہ اس معاملے میں حساس ہو رہا ہوں ۔ان کے خیال میں پورے پاکستان میں ایسے بزرگ جوڑوں یا معمر ٹک ٹاکر وں کی تعداد دو سو سے زیادہ نہیں ہوگی۔ان کی رائے میں سماج میں کھاڑے، تھیٹر اور دیہاتی بیٹھکوں کا ایک ادارہ رہا ہے جہاں ہیر خوانی ،مرزا جٹ،ماہیہ اور بولیاں گانے والے موجود تھے۔چند دہایاں پہلے تک فلمی نغمے گانے والے بھی ہوتے تھے،ٹک ٹاک نے صرف میڈیا تبدیل کیا ہے۔جہاں بھری جیب والے میلے ٹھیلوں میں فنکاروں پر روپے اڑاتے تھے اب وہ یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پر ان کی قدر افزائی کرتے ہیں۔میں کیا کروں مجھے پھر بھی اس کے پیچھے ایک ٹریجڈی نظر آتی ہے۔جانے میں آرٹ کے اس پہلو میں ہمیشہ دکھ کا گوشہ کانٹے کی طرح چبھتا محسوس کیوں کرتا ہوں۔ پاکستان اس وقت سوچ ،سیاسی نظریات اور معاشی و سماجی اقدار میں ٹوٹ پھوٹ کے دور سے گزر رہا ہے۔بظاہر سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود اس کی حالت جنگ عظیم دوم کے بعد تباہ حال معاشروں جیسی نظر آتی ہے۔دوسری جنگ عظیم بے شمار تنازعات اور تباہی کا وقت تھا لیکن ان معاشروں کے فنکاروں نے افراتفری اور تباہی کے درمیان، فنون لطیفہ نے انسانی تجربے کو حاصل کرنے، سکون فراہم کرنے اور امید پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران فن، ادب اور موسیقی پر تبدیلی کے اثرات مرتب ہوئے جو فنکاروں کی تخلیقی لچک اور صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے جنہوں نے ہنگامہ آرائی کا احساس دلانے اور خوبصورتی اور بامعنی لمحات کو تاریک ترین وقت میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، بہت سے فنکاروں نے خود کو انتہائی مشکل حالات میں پایا ۔وہمقبوضہ ملک میں، حراستی کیمپوں میں اور موت کے کیمپوں میں رہے۔اس زمانے کی مصوری کے نمونوں، فکشن ،شاعری اور ڈراموں کو دیکھیں تو ان کے کام ایک طاقتور "تخلیق کی خواہش” کا ثبوت ہیں۔ اس طرح کے تخلیقی جذبے کو اپنے تحفظ کے اظہار سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، نازک وقت میں بقا کی جبلت۔ فنون لطیفہ کسی شہر کی شناخت کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یہ اس کی ثقافت، تاریخ، تنوع اور اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔ ثقافتی اظہار، عوامی فن، تہوار، آرٹ کے موضوعات، سماجی تبصرے، اور تعلیم کے ذریعے،لاہور،کراچی ،پشاور اور کوئٹہ جیسے شہر ایک الگ شناخت بنا سکتے ہیں جوان کے مکینوں اور مہمانوں، دونوں کے ساتھ لپٹی رہتی ہے۔دیسی فن دیسی ثقافت اور شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسے اکثر مقامی ورثے کو محفوظ رکھنے اور فروغ کے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹی کے گھگو گھوڑے ہڑپہ سے نکلے اور ہم نے اپنے بچپن میں ان پر خواب سوار کئے۔پاٹے خان کوئی حریت پسند کردار تھا جو پُتلی بن کر ہمارے درمیان زندہ ہو گیا۔مرزا ایک بے باک جوان تھا جو صاحباں کے بھائی خان شمیر کے ہاتھوں مارا گیا لیکن ایک مخصوص گیت میں ڈھل گیا۔یہ جو نٹ ، بھانڈ اور تونبا بجانے والے تھے ایک ایک کر کے سماجی تحقیر کے ہاتھوں مرتے گئے،یا پھر مار دیئے گئے ۔اب گھر گھر میں لوگ ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، کپڑے اتار کر ریٹنگ لے رہے ہیں۔حکومتوں اور معاشرے پر قابض طبقات نے فنکار کو مار دیا ہے۔ معاشرہ اسی لئے اب بے چہرہ ہے، کہیں اس کا عکس نظر آبھی جائے تو اس پر مسکراہٹ نہیں ہوتی۔ہم اب موسیقی اور رقص کے قدر دان نہیں تماشبین بن چکے ہیں۔ہم دل بہلانے کوریلز میں ناچ گانا دیکھتے ہیں،معلوم نہیں فن کا دوغلے سماج سے یہ انتقام ہے یا پھر جبری طور پر سماج کو بدلنے کی کوششوں کا نتیجہ ۔
سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



