لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ( ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 14دہشتگرد ہلاک کر دیئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ٹانک میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو موثر انداز میں نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 7خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لکی مروت میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 2خوارج ہلاک کر دیئے گئے، ہلاک خوارج سے دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔ مارے گئے خوارج فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔
علاقے میں دیگر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج کے خاتمے کے لئے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کی اور 5دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کے دوران فورسز نے موثر انداز سے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5دہشتگرد مارے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، ہلاک دہشتگرد علاقے میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دہشتگرد کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان کے علاقے سوئی میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت ایک سو سے زائد افراد نے ہتھیار ڈال دیئے۔ حکام کے مطابق مسلح افراد نے ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا تھام لیا، ریاست پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا، کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں نے اسلحہ میر آفتاب احمد بگٹی کے حوالے کیا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے کمانڈر اور تمام رہنمائوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وڈیرہ نور علی چاکرانی اور سو سے زائد ساتھیوں کا قومی دھارے میں شمولیت کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں نے پاکستان کا پرچم اٹھا کر امن کے سفر کا آغاز کیا، یہ واضح پیغام ہے کہ ریاست نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں، ہتھیار پھینک کر آئینِ پاکستان تسلیم کرنے والوں کو گلے لگانے کا عمل بھی جاری ہے، جو ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھے گا، اس کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا۔ مزید برآں صوبہ پنجاب میں کائونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 24دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشتگردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 364کارروائیاں کیں، جن میں 366مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 24دہشتگردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا۔
گرفتار دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں سے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دہشتگردوں نے مختلف شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، گرفتار دہشتگردوں کے خلاف 24مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے 9 خوارج کے مارے جانے پر سکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے قوم اور فورسز کا عزم اس فتنے کے خاتمے تک برقرار رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جرات اور پروفیشنل ازم پر فخر ہے، فتنہ الخوارج کے خلاف فورسز بڑی کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں۔



