دل چاہتا ہے کچھ ایسا لکھوں جو معاشرے پر چھائی ہوئی خود غرضی کی تاریکی کیلئے شمع کی مثل ہو مگر ان احمقوں کی لاپرواہی سے دل گھبرا جاتا ہے جو لطف و مہربانی کو کمزوری،درگزر اور عفو کو بزدلی اور غرور و نخوت کو عظمت کی علامت سمجھتے ہیں۔
ان دولت مندوں سے میری روح اکتا جاتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ سورج،چاند،ستارے صرف انھی کی خاطر طلوع و غروب ہوتے ہیں۔مجھے ان لیڈروں سے بیزاری سی ہوتی ہے جو قوم کی آرزوؤں کے ساتھ کھیلتے اور قوم کی آنکھوں کو طلائی غبار اور کانوں کو مترنم الفاظ سے بھر دیتے ہیں اور ہمدردی و شفقت کے دو میٹھے بول بھی اس وقت تک قوم کی جھولی میں نہیں ڈالتے جب تک قوم اس کی قیمت اپنے دل سے ادا نہ کر دے۔
قارئین!میں گھبراہٹ،اکتاہٹ اور بیزاری کے باوجود اسی کشمکش میں ہوں کہ کیا لکھوں؟وہی جلے بھنے بوسیدہ قسم کے سیاسی بیانات لکھوں یا وہی دل سوز کرپشن کے قصے کہانیاں لکھوں؟جرم،حادثات،سانحات اور ظلم و جبر کی داستانیں لکھوں یا قیامِ دنیا سے لیکر اب تک کے وہی پرانے نازک حالات لکھوں؟غریب آدمی کا ایک بوند پانی کیلئے ترسنا لکھوں یا دولت مندوں کے شوق کیلئے پانی کا بے دریغ ضیاع لکھوں؟مظلوم کی بے بسی لکھوں یاں ظالم کا جبر لکھوں؟انصاف کو زرداروں کا محکوم لکھوں یا انسانی بے بسی کا یہ عالم کہ اپنی جنت سنوارنے کیلئے دوسروں کی زندگیاں جہنم بنانا لکھوں؟امیر کی شکم سیری لکھوں یا غریب کا کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ کر روٹی کے ٹکڑے ڈھونڈنا لکھوں؟۔
ایسے بدتر حالات میں کچھ بھی لکھوں بے سود ہو گا کیونکہ جب وحشت وبربریت کا طوفان معاشروں کا رخ کر لے تو تہذیب و تمدن کے محلات نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔ایسے حالات میں صرف دو چیزیں وحشت وبربریت کے طوفان سے انسانی اقدار کا دفاع کر سکتی
ہیں،پہلی”محبت”جسے زبان جہالت میں کمزوری جبکہ دوسرا”احساس”جسے بزدلی سمجھا جاتا ہے۔جبکہ یہ دو چیزیں معاشرے میں امن کو فروغ دے کر اسے تہذیب و تمدن کا گہوارہ بناتی ہیں۔
ایک مرتبہ میرا گزر طوائفوں کے اس بازار سے ہوا جہاں دن کے اجالے میں جانے سے بھی لوگ بدنام ہو جاتے ہیں۔مجھے زور کی بھوک لگی تھی۔اس بازار میں ایک دال چاول والے پر نظر پڑی میں وہیں رکا اور ایک پلیٹ دال چاول کا آرڈر دیا۔دوکاندار نے ایک پلیٹ مجھے تھما دی،جسے میری طمع آلود نگاہوں نے بھوک مٹانے کیلئے ناکافی سمجھا۔میں نے وہی پلیٹ دوکاندار کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا بھائی!ڈبل پلیٹ بنا دو یہ چاول میری بھوک مٹانے کیلئے ناکافی ہیں۔
دوکاندار مسکراتے ہوئے بولا۔صاحب!پہلے سنگل پلیٹ کھا لیجئے اگر بھوک نہ مٹے تو مزید لے لیجئے گا۔خیر میں نے کھانا شروع کئے اور آخری لقمے تک میری بھوک مٹ چکی تھی۔میں نے تشکر آمیز نگاہوں سے دوکاندار کی طرف دیکھا اور کہا، کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟دوکاندار بولا! ضرور پوچھئے صاحب۔میں نے کہا بھائی میرے اصرار پر اگر آپ ڈبل پلیٹ مجھے بنا دیتے،بھلے میں وہ ختم نہ کر پاتا مگر نفع تو اس میں آپ ہی کا تھا۔اپنا نفع چھوڑ کر میرا احساس کرنے کی وجہ جان سکتا ہوں؟۔
وہ بولا صاحب!مجھے اپنے ہم جنسوں سے محبت ہے اور احساس محبت کا دوسرا نام ہے۔میں جب جب مخلوق کا احساس کرتا ہوں،بدلے میں خدا میرا احساس کرنا منافع اور اضافے سمیت میری جھولی میں ڈال دیتا ہے۔اسکی زبان موتی اگلتی رہی اور میں چن چن کر اپنی جھولی میں ڈالتا رہا۔بالآخر الوداعی نگاہوں سے میں نے اسکی طرف دیکھا اور انسان کو عزت و بزرگی ملنے والا ایک ایسا نسخہ لئے وہاں سے لوٹ آیا جو انسان کو دن کے اجالے اور رات کی خاموشی و سکون سے لطف اندوز کرے اور انسان زندگی کے داہنے پہلو میں جگہ پائے۔



