زندگی کو بدلنا بہت آسان ہے بس آپکو اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ جس دن آپ اپنی سوچ بدل لیں گے اس دن آپکی تقدیر بدل جائے گی ۔اچھی قسمت کا دوسرا نام مثبت سوچ ہے۔ یاد رکھیں سوچ کو بدلنا کوئی معمولی بات نہیں جب کوئی انسان اپنی سوچ بدلتا ہے تو اس سوچ کو بدلنے سے اس کا رویہ بدلتا ہے جب رویہ بدلتا ہے تو انسان کا عمل کرنے کا انداز بدل جاتا ہے اور جب عمل کرنے کا انداز بدلتا ہے تو نتائج بدل جاتے ہیں ۔ بچپن میں جب ہاتھی کے بچے کے پاؤں میں زنجیر باندھی جاتی ہے تو وہ اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسے توڑ نہیں پاتا اور اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ میں اس زنجیر کو کبھی نہیں توڑ سکتا اور جب جوانی میں پہنچنے کے بعد وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس زنجیر کو ایک جھٹکے سے توڑ سکے تو وہ اس زنجیر کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں اس زنجیر کو توڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر اس موقع پر ہاتھی کو اپنی طاقت پر یقین ہو جاتا اور وہ اپنی سوچ کو بدل لیتا تو اس کا رویہ بدل جاتا اور جس وقت اسکا رویہ بدلتا تو اس کا عمل کرنے کا انداز بھی بدلتا اور جب عمل کرنے کا انداز بدلتا تو ہاتھی خود کو اس زنجیر سے آزاد کروا لیتا۔
جسمانی لحاظ سے جنگل کا سب سے بڑا جانور ہاتھی ، لمبائی میں سب سے بڑا زرافہ ، دوڑنے میں سب سے تیز رفتار چیتا، چالاکی میں لومڑی ہے۔ یہ سب خصوصیات شیر میں نہیں پائی جاتیں مگر پھر بھی وہ جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ اس میں ایک خوبی ایسی ہے جو کسی اور میں نہیں ہے اور وہ ہے شیر کے سوچنے کا منفرد انداز۔جب شیر اور ہاتھی کا سامنا ہوتا ہے تو شیر یہ سوچتا ہے کہ میرا کھانا آگیا ہے اور ہاتھی یہ سوچتا ہے کہ شکاری آگیا یہ مجھے چیڑ پھاڑ دے گا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اگر ہاتھی شیر کے اوپر پاؤں رکھ دے تو شیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اگر میں آپ سے کہوں کے گلی کے باہر سے 100 ہاتھی گزر رہے ہیں تو آپ پُرسکون بیٹھے رہیں گے لیکن اگر میں یہ کہوں کہ گلی کے باہر سے ایک شیر گزر رہا ہے تو ممکن ہے کہ آپ دروازے بند کر کے کرسیوں کے نیچے گھس جائیں۔ لہذا اپنی سوچ کو بدلیں شیر بنیں اور دنیا پر چھا جائیں ۔
زندگی کو بدلنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر سے لوگوں کا خوف نکال دیں۔ دینا کا سب سے بڑا روگ کیا کہیں گے لوگ۔اگر آپ لوگوں کی خاطر اپنی جان بھی قربان کر دیں تو لوگ آپ سے کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس سے سب لوگ خوش ہوں لہذا لوگوں کو خوش کرنا چھوڑ دیں اور اپنے رب کو خوش کریں۔ لوگ کیا کہیں گے یہ ایک ایسی منفی سوچ ہے جو انسان کے اندر سے اللہ تعالیٰ کا خوف نکال کر لوگوں کا خوف ڈال دیتی ہے۔ ایک شخص جتنی مرضی واک کرے جتنی مرضی اچھی خوراک استعمال کرے وہ خود کو صحت مند نہیں رکھ سکتا جب تک اس کی سوچ منفی ہے۔
اپنی سوچ کو بدلیں مثبت اور بڑی سوچ اپنائیں زندگی ان لوگوں کو محدود نتائج دیتی ہے جن کی سوچ محدود ہوتی ہے۔ غیر معمولی شخص بننے کے لیے غیر معمولی سوچ اپنانا ضروری ہے۔ سب جیسا سوچو گے تو سب جیسے ہی بنو گے۔ منفرد بننے کے لیے مفرد سوچنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اپنی زندگی تو بدلنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنی سوچ بدلنے کو تیار نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ناکام ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی زندگی سادہ مگر خیالات بلند ہونے چاہیے



