انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

2026 ء تلخیاں کم کرنے کا سال

 

آج سال کا آخری دن ہے۔ ہم نئی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ 2026 میں داخل ہو رہے ہیں۔ 2025 ایک بڑا ہنگامہ خیز سال رہا۔ اس سال کا سب سے بڑا واقعہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ تھی، جس نے پاکستان کی قسمت بدل کر رکھ دی۔ پاک بھارت معرکے کے بعد پاکستان کی اہمیت دوچند ہو گئی۔ دنیا میں پاکستان پر دروازے کھلنے لگے، لوگ پاکستان سے تعلقات بڑھانے لگے، جبکہ اس جنگ نے بھارت کو بے نقاب کر کے رکھ دیا۔ آج بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔

دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے۔ آج دنیا پاکستان سے سائبر وار کی تکنیکس سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے تمام اہم ممالک پاکستان کو اہمیت دے رہے ہیں۔ عالمی معاملات میں پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے، اور عالمی ادارے پاکستان کی صلاحیتوں کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کا نیا میکنزم وجود میں آیا۔ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی گئی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔ 2025 سزاؤں کا سال بھی رہا۔

افغانستان کے ساتھ حالات کشیدہ ہوئے۔ دہشت گردی پر پاکستان نے ٹھوس موقف اپنایا۔ افغانستان کے ساتھ تلخیاں بڑھیں اور نوبت جنگی کیفیت تک جا پہنچی۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی۔ پاک بھارت سرحدیں سیل کر دی گئیں، تجارت منقطع ہو گئی، جو تاحال برقرار ہے۔ افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات کا بھی سامنا رہا۔ 2025 میں 1600کے قریب دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان دہشت گردی کی زد میں رہے۔ اکوڑہ خٹک میں دہشت گردی کے واقعے میں مولانا حامد الحق شہید ہوئے۔ پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر اور بنوں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ پاکستان میں پہلی بار دہشت گردوں نے ٹرین اغوا کر لی اور بڑی تعداد میں مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

سیاسی طور پر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو تبدیل کر کے سہیل خان آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ قومی اسمبلی میں پیکا ایکٹ کی منظوری ہوئی، اور اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سزاؤں کے باعث عوامی نمائندگی سے محروم ہو گئے، اور ان کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حکومتی امیدواروں کی جیت کی صورت میں حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

پنجاب میں ایک مذہبی جماعت کے خلاف بھرپور ایکشن ہوا۔ پنجاب میں پولیس کی بالادستی کا راج رہا۔ انتظامی اختیارات کے ذریعے حکومتوں کی رِٹ مضبوط ہوئی۔ مجموعی طور پر 2025 سیاسی ابتری کا سال رہا۔ سیاسی تلخیوں میں اضافہ ہوا۔

پاکستانیوں کو 2025 میں بھی سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا رہا۔ بے روزگاری اور مہنگائی کا دور دورہ رہا۔ بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد بڑھی۔ ویزا اور سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود اس سال آف لوڈ کیے جانے والوں کا بھی ریکارڈ قائم ہوا۔ پاکستانیوں نے بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کا بھی ریکارڈ قائم کیا۔ ایف آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق 52 ہزار پاکستانی مختلف ملکوں میں بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ ہوئے۔

پاکستان نے سیاسی و معاشی ابتری کے باوجود دفاعی شعبے میں کامیاب تجربے کیے۔ سال کے آخر میں حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے تحریک انصاف کو خود مذاکرات کی پیشکش کی۔ تحریک انصاف کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا اختیار دیا گیا، لیکن مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی، اور معاملہ جوں کا توں نئے سال میں داخل ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 2025 کا پورا سال اڈیالہ جیل میں گزارا۔

نیا سال نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ 2026 کو ہمیں سیاسی تلخیاں کم کرنے، معاشی بحالی اور عوامی اعتماد کی بحالی کا سال قرار دینا چاہیے۔ حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے معاشی سرگرمیاں بحال ہوں۔ ملک میں استحکام کے لیے درگزر کا راستہ اپنایا جائے۔ عام لوگوں کے دکھ کم کرنے کے لیے مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ معاشرے میں ہر قسم کی سرگرمیوں کا ازسرِ نو آغاز کار ہوسکے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button