قدرتی آفات انسان کے بس میں نہیں ہوتیں۔ بارشیں، سیلاب، زلزلے اور طوفان دنیا کے ہر حصے میں آتے ہیں۔ لیکن جہاں ایمانداری اور دیانت داری موجود ہو، وہاں یہ آفات وقتی نقصان پہنچاتی ہیں اور قومیں جلد سنبھل جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر آفت کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ نقصان پانی نے زیادہ کیا یا بے ایمانی نے؟ اور ہر بار جواب یہی ملتا ہے کہ ہمارا ملک پانی سے نہیں، بلکہ بے ایمانی سے ڈوبا ہے۔

قدرتی آفات یا انسانی غفلت؟
پاکستان میں مون سون کی بارشیں نئی نہیں۔ دریاؤں کا بپھرنا اور ندی نالوں کا بھر جانا بھی غیر متوقع نہیں۔ لیکن جب یہ پانی انسانی بستیوں کو بہا لے جاتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بستیوں کو پانی کے راستے میں کس نے بسایا؟ کس نے زمینوں کے کاغذات پر دستخط کیے؟ کس نے حفاظتی بندوں کے بجٹ میں خرد برد کیا؟

ہر بار یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ فنڈز آتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہتے ہیں۔ کاغذوں میں مضبوط ڈیم، جدید اسپیل ویز اور حفاظتی پشتے بن جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت میں صرف کمزور مٹی کے تودے باقی رہ جاتے ہیں، جو پہلی بارش میں بہہ جاتے ہیں۔
بے ایمانی کا کلچر

یہ بے ایمانی کسی ایک طبقے یا کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی۔ سیاست دان اقتدار کے لیے اصول بیچتے ہیں۔ بیوروکریسی کک بیکس اور کمیشن کے بغیر فائل آگے نہیں بڑھاتی۔ ٹھیکیدار کم معیار کا سامان استعمال کر کے اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ میڈیا خاموش رہتا ہے یا ریٹنگ کے لیے صرف شور مچاتا ہے۔ عام عوام بھی بجلی چوری سے لے کر ٹیکس چوری تک ہر موقع پر اپنی چھوٹی چھوٹی بے ایمانی کو معمولی سمجھ کر کرتے ہیں۔

ہم نے دیانت کو کمزوری اور بدعنوانی کو کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرتی آفات ہمارے لیے صرف عذاب نہیں، بلکہ کرپشن کا کاروبار بن گئی ہیں۔
ریلیف نہیں، ریلیف کا کاروبار

جب بھی ملک میں کوئی بڑی آفت آتی ہے، حکمران ریلیف فنڈز کے اعلانات کرتے ہیں، غیر ملکی امداد آتی ہے، لاکھوں ڈالر اور اربوں روپے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ لیکن چند ماہ بعد متاثرہ علاقے وہی کے وہی ہوتے ہیں۔ خیموں میں رہنے والے لوگ پناہ کے منتظر رہتے ہیں، لیکن حکمرانوں کے محلات مزید بڑے ہو جاتے ہیں۔

پچھلے سیلاب کے بعد اربوں روپے کے فنڈز کہاں گئے؟ کتنے اسکول دوبارہ بنے؟ کتنے ہسپتالوں کی بحالی ہوئی؟ کتنے متاثرین کو مستقل گھر دیے گئے؟ جواب خاموشی ہے۔ کیونکہ ریلیف کے نام پر امداد کا سب سے بڑا حصہ حکمرانوں، بیوروکریسی اور مافیاز کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔



