انٹر نیشنلتازہ ترین

US-Iran Conflict Escalates as Fresh Strikes Rock Middle East

امریکی اور ایرانی افواج کی جوابی کارروائیاں جاری

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے جہاں دونوں ممالک نے مسلسل دوسرے روز ایک دوسرے کے خلاف حملے کیے ہیں۔ ان تازہ کارروائیوں نے اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جنوبی ایران میں فوجی تنصیبات، نگرانی کے مراکز اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بناتے ہوئے دفاعی نوعیت کی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں سے چند گھنٹے قبل خبردار کیا تھا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں غیر ضروری تاخیر کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایرانی قیادت نے معاہدے کے لیے بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے، جس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

ایران کا خطے میں امریکی اہداف پر حملہ

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق بحرین، کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی مراکز پر میزائل حملے کیے گئے۔

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اردن میں قائم امریکی کمانڈ سینٹر پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ کویتی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی مشتبہ فضائی اہداف کو تباہ کر دیا۔

کویت نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں

ایرانی حملوں کے بعد کویت نے احتیاطی تدابیر کے تحت اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز میں صورتحال کشیدہ

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔

تاہم امریکی سینٹ کام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور شپنگ سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہیں ہوئیں۔

تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔

امریکی وزیر دفاع کا بیان

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کو سفارتی حل کے لیے متعدد مواقع دیے گئے تھے، تاہم تہران نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کی اہم تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران کا دوٹوک مؤقف

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جنگ بندی خطرے میں

یاد رہے کہ اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا تھا۔ اگرچہ اس دوران وقفے وقفے سے حملے ہوتے رہے، تاہم مکمل جنگ سے گریز کیا گیا۔

حالیہ دنوں میں مذاکراتی کوششوں میں تعطل اور حملوں میں اضافے کے باعث صورتحال دوبارہ سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی تشویش

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک گہرے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل کی جانب پیش رفت کریں، کیونکہ موجودہ جنگ بندی اب مکمل امن کے بجائے صرف محدود جھڑپوں تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button