پاکستانتازہ ترینکالم

تمغے نہیں طوق۔۔۔!!

بے لگام / ستار چوہدری

امام ابو حنیفہ نے فرمایا ! جو عالم دین بادشاہوں کی چوکھٹ پر جائیں،انکے ایمان پر شک کیا جائے،امام زین العابدین کے نام سے بھی ایک قول منسوب ہے،فرمایا ! جو عالم دین بادشاہوں کے درباروں میں جائیں،ان سے دین حاصل نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ کیا بادشاہوں کی چوکھٹ پرسجدے کرنیوالے صحافیوں کو صحافی کہا جاسکتا ہے۔۔۔؟ فرق صرف اتنا بچا ہے،بادشاہ اپنے درباروں میں قصیدہ گوئی اورشغل میلے کیلئے بھانڈ اور مراثی رکھتے تھے،اب درباروں میں بھانڈوں اورمراثیوں کے نام’’ صحافی‘‘ اور ’’ اینکر‘‘ رکھ دیئے گئے ہیں۔۔۔انگریز سرکار نے برصغیر کے اشرافیہ کو جاگیریں اور عہدے کسی بہادری پرنہیں، بلکہ بہترین دلالی پر دیئے تھے،جس طرح تقریب صلہ فرماں برداری اور خدمت گزاری پر اٹھائی گیروں،پالش گیروں،چمچوں،کڑچھوں کو میڈیل اور تمغے دیئے گئے ،قومی اعزازات کے ساتھ اس سے بڑا کوئی مذاق ہوسکتا ہے۔۔۔؟
یہ ہوتے ہیں باضمیرلوگ۔۔۔۔ معروف ناول اور سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز سے کمال فن ایوارڈ لینے سے معذرت کرلی تھی،کہا تھاپاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیے جانے کے ضوابط اور روایات کو توڑا گیا ہے۔۔۔ معروف پاکستانی آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے فن تعمیر کے شعبے کا اہم عالمی ایوارڈ وولف فرائز لینے سے انکارکردیا تھا،اس ایوارڈ میں اسے 2کروڑ 80 لاکھ بھی ملنے تھے۔۔کہا تھا اس ایوارڈ کو وصول کرنا ضمیر کیخلاف تھا۔۔۔لتا نے ایوارڈ لینے سے انکارکردیا تھا مؤقف تھا یہ ایوارڈ ایک عورت کے جسم نما ہے جس کے بدن پر کوئی کپڑا موجود نہیں، اس لیے میں یہ نہیں لے سکتی۔۔۔ معروف سندھی ادیب تاج جویو نے ایوارڈلینے سے انکارکردیا تھا کہا تھا اسکے بیٹے کوکسی نے اغوا کیا ہوا،وہ کیسے ایوارڈ وصول کریں۔۔۔یہاں تک،بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے دوسرے بڑے فلمی ایوارڈ کی تقریب میں ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ کہا تھا،ایوارڈ صرف ریٹنگ بڑھانے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔
ویسے یہ زیادتی ہے،جہاں اتنا کچھ ہوگیا،ان ’’ عظیم ‘‘ لوگوں کو ابھی ایوارڈز دے دیئے جاتے تو کیا بگڑاجاتا۔۔۔ خاور مانیکا، قاضی فائز عیسٰی ، اہم عہدوں پر فائزچنداہم شخصیات ،غریدہ فاروقی ،عاصمہ شیرازی،چاہت فتح علی خان۔۔۔رضی صاحب اور لندن سے احمد چٹھہ کو تو صدارتی ایوارڈ ملنے چاہیے تھے،لیکن نہ جانے کیوں۔۔۔۔؟ممکن ہے انکے’’ ایوارڈز ‘‘ اکاؤنٹس میں بھیج دیئے گئے ہوں۔۔۔چلو ایک اور تاریخی کام ہوگیا،ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ایوارڈ مل گیا،جب زرداری صاحب بھٹو کا ایوارڈ اپنی سالی کو دے رہے تھے،اس کے ساتھ ہی انہوں نے جعلی بینک اکاؤنٹس سکینڈل کے شہرت یافتہ، سندھ میں شوگر ملوں کے مالک، اومنی گروپ کے سربراہ اور اپنے قریبی دوست انور مجید کو بھی پاکستان کے دوسرے بڑے سول اعزاز ’’ہلال امتیاز‘‘ سے نوازدیا۔۔۔۔۔۔؟ بابا جی کہتے ہیں، کاکا،ایسے ناں دل کوجلایا کرو،اگر حکومت ان افراد کو ’’ نشان حیدر‘‘ بھی دے دیتی تو تم کیا کرلیتے،جہاں سترہ سیٹوں والاوزیراعظم بن جائے،جہاں خاتون وزیراعلیٰ بن جائے،جہاں پرچی پر کرکٹ ٹیم بنتی ہو،جہاں جج واٹس ایپ میسج پر فیصلے کرتے ہوں،جہاں پولیس افسر منشیات فروشی اور ڈکیتیوں میں ملوث ہوں،جہاں لوگ ایف اے سے پہلے بی اے کرلیتے ہوں،جہاں چیف جسٹس اپنی ہاتھوں پکڑی ہوئی شراب کو شراب ثابت نہ کرسکے،جہاں ایدھی فاؤنڈیشن سے بھتہ مانگاجاتا ہو،جہاں مسجدوں،مدرسوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوجاتی ہو۔۔۔وہاں آپ ایوارڈز کا رونا رو رے ہیں۔۔۔ انگریز سرکار نے برصغیر کے اشرافیہ کو جاگیریں اورعہدے کسی بہادری پرنہیں، بلکہ بہترین دلالی پر دیئے تھے،جیسے یہ ایوارڈ ملے ہیں۔۔۔۔یہ تمغے نہیں،طوق ہوتے ہیں جو مُردہ ضمیر لوگوں کو دیئے جاتے ہیں۔ طوق کے ڈکشنری پر معنی دیکھے،کیا لکھا تھا’’ لوہے کا بھاری حلقہ جو مجرموں یا دیوانوں کے گلے میں ڈالا جاتا ہے تاکہ گردن نہ اٹھا سکیں‘‘۔۔۔۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button