تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئے تین سال ہوگئے اس عرصہ میں عوام کو کیا فائدہ پہنچا؟ مہنگائی کم ہوئی؟ بیروزگاری کم ہوئی؟ تعلیم اور صحت کی سہولیات میں اضافہ ہوا؟ ملک میں بدامنی کم ہوئی؟ ہمسایہ ملکوں سے تعلقات میں بہتری آئی؟، صحافی عدنان عادل کی اس پوسٹ کے سوشل میڈیا پر چرچے ہیں۔
جس انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ 3 سال قبل دس اپریل 2022 کو جو آپرشن رجیم چینج کیا گیا اس کا پاکستانی عوام کو کیا فاہدہ ہوا ، اس وقت کی امریکی حکومت کی ایما پر امریکی اہلکار ڈونلڈ لو نے پاکستانی ییت متدرہ اور انکی کٹھ پتلیوں کو ہلایا اور وطن عزیز سے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا نہ یہ دنیا میں اور نہ ہی یہ پاکستان میں پہلا واقعہ تھا کہ مبینہ طور پر امریکی آشیرآباد سے حکومت تبدیل کی گئی ۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے پیچھے بھی مبینہ طور امریکی ہاتھ تھا اس دفعہ فرق صرف یہ تھا پہلے بھٹو حکومت کا خاتمہ کیا گیا تھا اب بھٹو کا داماد اور نواسہ بیت متدرہ کے آلہ کار بن کر عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے مشن پر تھے مگر ہم بھٹو کے داماد آصف علی زرادی اور نواسہ بلاول زردادی کو امریکی چھتر چھایا میں جانے پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے بھٹو صاحب کی بیٹی بے نظیر نے ہی امریکی چھتر چھایا میں جانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا ، آصف علی زردای اور بلاول نے تو بس پیروی کی ہے اور جہاں تک بات شریف برادران کی ہے وہ تو ییت متدرہ کے پرانے نمک خوار ہیں ان کو منانا بہت ہی آسان ہے۔
اس مکس اچار حکمران اتحاد نے 3 سال میں عوام کا کچومر نکال دیا مہنگائی بلند سطح پر ہے روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہے نا تجربہ کاری کاطعنہ دے کر عمران کی کے خلاف بولنے والے اب بالکل خاموش ہیں یا مصلحت کی چادر اوڑھ کر ابدی نیند سو چکے ہیں یہ تجربہ کاروں کی حکومت نے وہ جلوے دکھائے ہیں کہ خدا کی پناہ پھر 8 فرروی 2024 کو عوام نے جوفیصلہ اس قاتل اور مقتول کے جوڑی داروں کے خلاف سنایا تھا ان کے آقائوں نے بدل دیا تھا اور فارم 47 کی حکومت ہم پر مسلط کر دی۔
چند ماہ قبل لاہور کی سٹرکوں پر رنگ کیا گیا جس کو وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تخفہ قراردیا مگر ایک ہی بارش نے وہ رنگ اتار دیا وہ وقت بھی عوام دیکھے گی جب فارم 47 کا رنگ اترے گا اندر سے شکست خوردہ چہرے برآمد ہوں گے ، آج 3 سال بعد وطن عزیز کے سیاسی معاشی حالات دگرگوں ہیں بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ۔
بلوچستان خون آلودہے سوات جلسے میں ہونے والی تقریریں خبیر پختو نخواہ کا مزاج بتا رہی ہیں ، سندھ نئی نہروں کے قیام کے خلاف سراپا احتجاج ہے کشمیر گلگت بلتستان کی بے چینی عیاں ہے پنجاب نے 8 فرروی 2024 کو اس قاتل مقتول اتحاد کو مسترد کر دیا تھا مگر افسوس صد افسوس ہماری ییت متدرہ 77 سالوں سے میر تقی میر کے اس شعر کی علمی تشریخ بنی ہوئی ہے ، میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کےسبب ، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔




زبردست تجریہ۔ ہر لفظ سچائی اور حقائق پر مبنی