لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی )صوبائی خاتون محتسب اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کے درمیان جنسی ہراسانی کے خلاف موثر اقدامات کیلئےمشترکہ لائحہ عمل طے پا گیا۔
اس سلسلے میں آگاہی مہمات اور خصوصی تربیتی پروگرامز کا آغاز کر دیا گیا ہے جن کا مقصد محکمہ پولیس میں خواتین کیلئےمحفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہے۔
آئی جی پنجاب آفس نے اس اقدام کے تحت صوبائی خاتون محتسب سے موثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کیلئے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن برانچ ارسلان سیف اور انسپکٹر لیگل سمینہ مبارک کو بطور فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے۔
مشترکہ حکمت عملی کے تحت پہلے مرحلے میں پنجاب پولیس کے اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کے 100 مرد و خواتین افسران کی تربیت کی گئی ہے۔ یہ تربیتی سیشنز جنسی ہراسانی کی شناخت، اس کے تدارک اور شکایات کے موثر ازالے کے طریقہ کار پر مبنی ہیں۔
خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حکیم علی خان نے اس موقع پر کہا کہ جنسی ہراسانی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا تدارک صرف قانون سازی سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی تعاون، شعور کی بیداری اور عملی اقدامات سے ممکن ہے۔ پنجاب پولیس کے ساتھ اس اشتراک کا مقصد ایسی ورک پلیس تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد خصوصاً خواتین خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کریں۔



