انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکاروبارکالم

رشتے ،پیسہ اوردوڑتا ہواسایہ

بے لگام / ستار چوہدری

یہاں تک کہ رشتے بھی، جو خون سے بنتے ہیں، آج نوٹوں سے ناپے جا رہے ہیں ۔۔۔۔وہ ماں ۔۔۔۔ جس کی محبت کو بے لوث کہا جاتا تھا، وہ بھی کمائی کے ترازو میں تولی جانے لگی ہے، جو زیادہ لاتا ہے، وہ لاڈلا، جو خالی ہاتھ ہو، وہ بوجھ ۔۔۔ وہ باپ ۔۔۔۔ جس کا سایہ مضبوطی کی علامت ہوتا تھا، آج اس کی جیب کا وزن اس کی عزت کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بھائی ۔۔۔۔ جو ایک وقت میں ایک روٹی بانٹ کر کھاتے تھے، آج ایک دوسرے کی پلیٹوں میں جھانک رہے ہیں، یہ دیکھنے کیلئے کس کے حصے میں زیادہ آیا ہے۔۔۔۔

وہ بہنیں۔۔۔۔ جو ایک دوسرے کے دکھ پر رو پڑتی تھیں، آج ایک دوسرے کی خوشیوں سے جلنے لگی ہیں۔۔۔۔ وہ دوست۔۔۔۔ ان کے درمیان ایک خاموش دیوار کھڑی ہو چکی ہے۔۔۔۔ اوراس دیوارکا نام ہے پیسہ ۔۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، دنیا ایک تلخ سچ پرچل رہی ہے۔۔۔۔ اور وہ سچ ہے ۔۔۔۔۔’’ پیسہ ‘‘۔۔۔ جی ہاں، پیسہ۔ ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ،ایٹم بم نہ ہو تو ملک پھر بھی چل جاتا ہے، لیکن جب خزانے خالی ہو جائیں، تو ایٹم بم بھی صرف لوہے کا ڈھیربن کررہ جاتا ہے۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، سلطنتیں ہتھیاروں کی کمی سے نہیں، خزانے کی خالی جیب سے گری ہیں، فوجیں کمزور نہیں تھیں، لیکن معیشت مر گئی۔۔۔۔ اور ساتھ ہی ریاست بھی۔۔۔ یہ وہ طاقت ہے، جو سچ کو بھی خرید لیتی ہے، اگر جیب خالی ہو، تو آپ کی دانائی بھی مذاق بن جاتی ہے۔۔۔ اوراگرجیب بھری ہو، تو آپ کی بے معنی بات بھی دانش کہلانے لگتی ہے۔۔۔۔ یہ وہ زوال ہے، جو شور نہیں مچاتا، بس خاموشی سے انسان کو انسان سے دور کررہا ہے۔۔۔۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ، ہم سمجھتے ہیں ہم ترقی کررہے ہیں حالانکہ ہم اپنے رشتوں کو کھو رہے ہیں۔۔

رشتے جب بکھرتے ہیں، تو آواز نہیں کرتے،بس دل کے اندر کہیں ایک خاموش دراڑ پڑ جاتی ہے۔۔۔ اور پھر ایک دن وہ دراڑ اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ خون کے رشتے بھی اجنبی لگنے لگتے ہیں۔۔۔ کبھی محبت بے حساب ہوا کرتی تھی، نہ دینے والا گنتا تھا، نہ لینے والا سوچتا تھا۔ مگر اب۔۔۔؟ اب ہر چیز کا حساب ہے۔ کون کتنا دیتا ہے، کون کتنا خرچ کرتا ہے، کون کتنا کماتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ احساس بھی تولے جانے لگے ہیں ،ماں کی دعائیں بھی، کبھی کبھار اس بیٹے کیلئے زیادہ ہو جاتی ہیں، جو مہنگے تحفے لے کر آتا ہے۔ باپ کی آنکھوں میں فخر بھی اکثر اسی بیٹے کیلئے چمکتا ہے جس کی تنخواہ بڑی ہو۔۔۔۔۔ اور باقی۔۔۔۔؟ وہ بس گھر میں موجود ہوتے ہیں، مگر دلوں میں کہیں نہیں ہوتے، یہ وہ مقام ہے جہاں محبت ختم نہیں ہوتی، اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ وہ خالص جذبہ جو کبھی رشتوں کی بنیاد تھا، اب ایک سودے میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔’’ تم نے میرے لئے کیا،کیا۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔

یہ جملہ، آج ہر تعلق کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے۔۔۔۔ اور جب رشتے سوال بن جائیں، تو جواب کبھی محبت نہیں ہوتا، صرف حساب ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ حساب کتاب دلوں کو اتنا تھکا دیتا ہے کہ لوگ رشتے نبھانا نہیں، صرف برداشت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔ اورجہاں برداشت شروع ہو جائے، وہاں محبت زیادہ دیرزندہ نہیں رہتی ۔۔

ہمارا معاشرہ اتنا زوال پذیر ہو چکا، صرف پیسہ ہی معیار بن چکا۔۔۔ بڑے قد دیکھے جاتے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ قد کتنی لاشوں پرکھڑا ہو کرحاصل کیا گیا ہے۔۔۔۔ قیمتی ملبوسات دیکھے جاتے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے غریبوں کو بے لباس کر کے یہ لباس سلے ہیں۔۔۔۔ پیسہ دیکھا جاتا ہے، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے مسکینوں کا، کتنے حق داروں کا خون چوس کر یہ پیسہ نکالا گیا ہے۔۔۔ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں، بنگلوں اور بینک بیلنس کو عزت دیتے ہیں۔ یہ نہیں پوچھتے کہ اس کے پیچھے کتنے گھر اجڑے، کتنے بچے بھوکے سوئے، کتنے لوگوں کے حقوق مارے گئے۔۔۔۔

پیسہ انسان کو اندھا بنا دیتا ہے، وہ دیکھتا ہے تو صرف پیسہ دیکھتا ہے۔ دوست بھی پیسے والے کے ہوتے ہیں، دشمن بھی پیسے والے کے ہوتے ہیں، شادیاں پیسے پر ہوتی ہیں، طلاقیں بھی پیسے پر ہوتی ہیں ،عدالتیں پیسے سے خریدی جاتی ہیں، قانون پیسے کے سامنے جھک جاتا ہے،سیاستدان پیسے سے بنتے ہیں، وزیراعظم اور صدر بھی پیسے کی مرضی سے چلتے ہیں ،پیسہ وہ طاقت ہے جو سب سے بڑے سے بڑے انسان کو بھی اپنے سامنے جھکا دیتا ہے۔۔۔۔ اور سب سے چھوٹے سے چھوٹے انسان کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔۔۔ یہ کیسی دوڑ ہے۔۔۔؟ جہاں ہر شخص بھاگ رہا ہے، مگر منزل کسی کو نظر نہیں آ رہی، راستے میں لوگ گرتے جا رہے ہیں۔۔۔ اور دوڑنے والے انہیں روندتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ انسان کو انسان بھی نظر نہیں آتا، صرف موقع نظر آتا ہے۔

آخرمیں ایک ایسا سچ ہے جسے نہ کوئی جھٹلا سکتا ہے، نہ خرید سکتا ہے۔۔۔ ’’ موت ‘‘۔۔۔یہ وہ لمحہ ہے، جہاں ساری طاقتیں ختم ہو جاتی ہیں ،کوئی شخص اپنے ساتھ ایک روپیہ بھی نہیں لے جا سکا، مگر ایک اورتلخ حقیقت بھی ہے، لوگ مرجاتے ہیں، مگران کا چھوڑا ہوا پیسہ اکثر زندہ لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتا ہے،بھائی بھائی کا قاتل بن جاتا ہے، رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اور وہ دولت جو سکون کے لیے کمائی گئی تھی، تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔۔۔۔ تو پھر سوال یہ ہے، اگر پیسہ سب کچھ ہے، تو آخرمیں کچھ بھی کیوں نہیں رہتا۔۔۔۔؟ شاید اصل مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ ہمارا اس کے ساتھ تعلق ہے،جب پیسہ ضرورت سے بڑھ کر مقصد بن جائے، تو پھر انسان، انسان نہیں رہتا، صرف ایک دوڑتا ہوا سایہ بن جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button