انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ تریندلچسپ و حیرت انگیزعلاقائی خبریںکالم

سکردو کا عجوبہ کٹپانہ،سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ، ریت اور برف ایک ساتھ جلوہ گر ،جادو یاقدرت کا کرشمہ ؟

جیپ سفاری ،ریت کے ٹیلوں پر ڈرائیونگ،طلوع وغروب مہتاب کے نظاروں،فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی،کیمپنگ اور نائٹ سٹے سے لطف اندوز ہونے کیلئے بہترین مقام

لاہور:(میاں محمد کاشف/ولاگر/ڈیجیٹل کریئٹر)پاکستان قدرتی حسن سے مالامال ملک ہے اس کا نگر نگر سحرانگیزہے۔دنیا جہاں سے سالانہ لاکھوں افراد قدرتی حسن کی تلاش میں برف پوش پہاڑوں،صحرائوں،ندیوں اورجھیلوں کا رخ کرتے ہیں۔

 

سی این این اردوڈاٹ کام نے پاکستان کا حسن اور یہاں بسنے والے لوگوں کا تعارف کرانے کیلئے سفرنامہ کا سلسلہ شروع کیا ہے ،ست پارہ جھیل کے بعد اس سفرنامہ کی اگلی قسط اور خوبصورت تصاویر ناظرین وقارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔

katpana-desert-1
سکردو کا کٹپانہ ڈیزرٹ اور سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ ایسے قدرت کے شاہکارہیں جہاں پر ریت اور برف ایک ساتھ جلوہ گر ہیں ،کٹپانہ ڈیزرٹ کی خوبصورتی کو دیکھیں تو کبھی قدرت کا کرشمہ کبھی جادوگری کا گمان ہوتا ہے۔

کٹپانہ ڈیزرٹ دنیا کا بلند ترین صحرا ہے اورسکردو کا حیران کن شاہکار ہے۔

katpana-desert-2

کٹپانہ ڈیزرٹ برف پوش پہاڑوں کے دامن میں پھیلا سنہری صحرا ہے ۔

مقام

katpana-desert-3

گلگت بلتستان کے خوبصورت شہر Skardu کے قریب واقع کٹپانہ ڈیزرٹ دنیا کے بلند ترین صحراؤں میں شمار ہوتا ہے، جو سطح سمندر سے تقریباً 2,226 میٹر (7,303 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔

katpana-desert-4

منفرد خصوصیات
دنیا کے بلند ترین صحراؤں میں شامل ہے۔

سردیوں میں برف سے ڈھک جانے والا نایاب صحرا ہے۔

سنہری ریت اور برف پوش پہاڑوں کا دلکش امتزاج ہے جوسیاحوں کیلئے منفرد فوٹوگرافی پوائنٹ بھی ہے۔

موسم کی جھلک

گرمیوں میں یہاں سنہری ریت کے ٹیلے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں، جبکہ سردیوں میں یہی صحرا سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے جو ایک ناقابلِ یقین منظر پیش کرتا ہے۔

سیاحت اور سرگرمیاں

جیپ سفاری اور ریت کے ٹیلوں پر ڈرائیونگ،سن رائز اور سن سیٹ ویوز،فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی،کیمپنگ اور نائٹ سٹے سے لطف اندوز ہونے کیلئے بہترین مقام ہے۔

katpana-desert-5

اہمیت

کٹپانہ ڈیزرٹ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے ایک منفرد قدرتی عجوبہ ہے، جو Pakistan کی خوبصورتی کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button