پاکستانتازہ ترین

عوام پر مزید ہتھوڑے چلائے جا رہے ہیں، پیٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے: حافظ نعیم الرحمان

لاہور (زبیر اسلم خان) جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر Hafiz Naeem ur Rehman نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے اور قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناجائز ٹیکسز اور لیوی ختم کرنے کے بجائے پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے کر دیے ہیں، جس سے متوسط اور غریب طبقہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صنعتوں اور کاروبار کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگی بجلی اور گیس نے مہنگائی کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور اب عوام پر مزید بوجھ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔
“عوام پر مزید ہتھوڑے چلائے جا رہے ہیں”، انہوں نے کہا۔

حافظ نعیم الرحمان نے تعلیمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، مگر حکومت سنجیدہ اقدامات کے بجائے نمائشی اسکیموں جیسے لیپ ٹاپ تقسیم کر کے سستی شہرت حاصل کر رہی ہے۔

انہوں نے لاہور میں جماعت اسلامی کی ممبرشپ مہم “ساتھ دو، بدل دو نظام” کے آغاز کا اعلان بھی کیا، جو 25 اپریل سے 15 مئی تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں 50 لاکھ نئے ممبران بنانے کا ہدف رکھتی ہے اور نوجوان گھر گھر جا کر عوام کو متحرک کریں گے۔

پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر ہونے کے باوجود کسانوں کو یہ ریٹ بھی نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اشتہارات پر وسائل خرچ کر رہی ہے، جبکہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
“یہ حکمران وڈیروں اور الیکٹیبلز کو نوازتے ہیں جبکہ عام آدمی ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے”، انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول پر تقریباً 125 روپے ٹیکس اور 107 روپے لیوی عائد ہے، جبکہ بڑے قرضے معاف کروا لیے جاتے ہیں۔
آئی پی پیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک اربوں روپے کیپیسٹی پیمنٹس ادا کر رہا ہے، جس کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ کھپت صرف 24 ہزار میگاواٹ ہے، جو پالیسی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے حکمرانوں کی مراعات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ لوکل باڈیز کے انتخابات کیوں نہیں کروائے جا رہے۔

آخر میں انہوں نے عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا زوال نظر آ رہا ہے اور Donald Trump کی پالیسیوں نے عالمی نظام کو متاثر کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button