
ہر دن بار بار متضاد باتیں کرنے والے ٹرمپ کے متعلق ہر ذی شعور محسوس تو کر چکا تھا کہ دماغی طور پر کچھ گڑ بڑ ہے مگر اب دنیا کھل کر اسے نفسیاتی کہہ رہی ہے ۔مجھے بیچارے امریکی عوام کی فکر لاحق ہو گئی ہے کیا حال ہوگا ان کا جب ٹرم کے دورحکومت کے اختتام پر انہیں معلوم ہوکہ جو شخص ایک طویل عرصے ان کے سروں پر مسلط رہ کر تگنی کا ناچ نچاتا رہا وہ تو پیدائشی پاگل تھا اگر چند متعلقہ افراد نے اس خبر پر تصدیقی مہر ثبت کر دی تو بس امریکی عوام کو سوائے چلو بھر پانی کے اور کچھ نہیں چاہیے ہوگا۔
ٹرمپ کی لمحہ لمحہ بدلتی ذہنی حالت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کیفیت دو قسم کے لوگوں پر طاری ہوتی ہے ایک وہ جو اپنے ہی دام میں پھنس کر رنگے ہاتھوں پکڑےجائیں اور دوسرے وہ جن کی نسلیں کسی کی جڑیں کاٹنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں و مال صرف کر چکی ہوں اور کامیابی سے چند قدم پہلے انکی تمام ریاضتیں خاک ہو جائیں تو وہ ایسی ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور ٹرمپ بیچارہ تو اس امت مسلمہ کے خلاف کب سے نبردآزما ہے ۔
ٹرمپ پر ہی کیا موقوف وہ تو ایک مہرہ ہے دشمنان دین کی یہ سازشیں صدیوں سے جاری ہیں امت مسلمہ کو ایک طرف سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دوسری جانب سے زیادہ قوت کے ساتھ ابھر آتی ہے ۔ پاکستان تواپنی پیدائش سے ان دشمنان دین کا سامنا کررہا ہے یہ پیروں پر کھڑا نہ ہو سکے اور قرضوں میں دبا رہے اسکے لئے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ دہشت گرد کا لیبل لگا کر دنیا میں تنہا کرنے کے عالمی سازشیں کی گئیں ۔
ایٹمی طاقت بننے کے خلاف رکاوٹوں کے انبار کھڑے کئے گئے مگر حق ہے کہ اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت اور چند گھنٹوں کے پاک بھارت معرکے نے پاکستان کا مورال ایسا بلند کیا کہ آج صرف ایشیاء نہیں ساری دنیا اسے عزت کی نگاہ سے نہ صرف دیکھ رہی ہے بلکہ مذاکرات کا حیرت انگیز ثالث بھی قرار دے رہی ہے اسی پاکستان کو سر انکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے جسے کاٹ کر پھینک دینے کے خواب دیکھے جا چکے تھے بیرون ملک سفر کیلئے گرین پاسپورٹ والوں کو حقیر گردان کر علیحدہ کر کے یہ احساس دلایا جاتا رہا ہے کہ تم قابل اعتماد نہیں مگر اب ساری دنیا میں صرف ایک پاکستان ہے جس پر بھروسہ بھی کیا جا رہا ہےاور مدد بھی طلب کی جارہی ہے۔
عزت ترقی طاقت کسی دوڑ میں شریک مقابلہ نہ سمجھنے والے پاکستان کو خاندان کے اس معتبر فرد کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جس کی خاندان کا ہر چھوٹا بڑا امیر تعظیم اور اسکی بات کی تعمیل کرتا ہے ۔۔بظاہر تو یہود و نصارٰی آگے پیچھے بچھ رہے ہیں مگر دل کا بغض تو ہنوز برقرار ہے تب ہی ٹرمپ کی حالت ابتر ہوجاتی ہے جب جب انہیں لگا کہ جذبہ ایمانی کو ختم کر کے امت مسلمہ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے تب ہی اللہ نے کسی نہ کسی صورت انہیں یکجا کر کے ان کے سامنے لا کھڑا کیا کبھی ناموس رسالت کے ضمن میں تو کبھی فلسطین کے حق میں۔۔ جب انہیں لگا کہ مسلمانوں کی نسل نو سوشل میڈیا کی نذر ہو چکی ہے تب صالح آصف جیسا ذہین نوجوان cursor نامی جدید AI کمپنی قائم کر دیتا ہےکبھی ہم کھیل کے میدانوں میں فاتح قرار پاتے ہیں تو کبھی ہمارے بچے تعلیمی میدان میں دنیا پر حکمرانی کا پرچار کرنے والوں کے بچوں کو مات دے کر تمغے جیت لاتے ہیں۔
ہمارا میڈیا ،سوشل میڈیا، تعلیمی نصاب، صنعتکاری ، حکومتی ادارے، اقتدار غرض کیے جانے والے فیصلوں تک کو کنٹرول کرلینے کے باوجود امت مسلمہ کے جذبہ ایمانی کو ختم نہ کرپانا ان کی ایسا رستا ہوا زخم ہے جس پر دماغی کیفیت کا لرزجانا فطری ہے۔ جہاد کو ہماری زندگیوں کے ہر شعبے سے نکالنے کی ہر کوشش کر لینے کے باوجود مجاہدین کم نہیں ہوتے تو بنتا ہے جناب ایسے دھچکوں پر تو اچھا بھلا دماغ الٹ جاتا ہے۔ پاکستان کی دعوت پر ہر ملک لبیک کہہ رہا ہے۔
دنیا کے لیے بند آبنائے ہرمز پاکستان کے لیے کھول دی جاتی ہے ہر طرف سے سفارتی کوششوں کی تعریف کی جا رہی ہے گرین پاسپورٹ معتبر مانا جا چکا ہے بس یہی وہ وقت ہے جب خوشی و جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے رک کر اپنا جائزہ لینا اور قدموں کو مضبوط جمانا ہوگا،فلسطین و لبنان کو فراموش نہیں کرنا بلکہ ہر فیصلے کے وقت انکو سامنے رکھنا ہے خود کو باور کرانا ہے کہ یہ عزت و مقام اللہ کی طرف سے تحفہ ہے ہمارا کوئی کمال نہیں بلا شبہ پاکستان کے لیے خوشی کا مقام ہے مگر خوشی اور تکبر کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے جسے ملحوظ خاطر رکھنا ہے خوشی حد سے بڑھ کر تکبر میں داخل ہو جاتی ہے اور تکبر رب کو پسند نہیں یاد رہے رائی کے دانے کے برابر تکبر بھی حالات موڑ سکتا ہے وہ صحابہ کرام رضہ جو ایمان کی بلندیوں پر تھے جن کے دل ایمان کی دولت سے لبریز تھے غزوہ حنین میں محض اپنی تعداد پر فخر محسوس کرنے پر اللہ نے تیروں کی بوچھاڑ سے ان کی آنکھیں کھول دیں تو اج کا مسلمان کیا شے ہے آدھے عرب پر حکومت کرنے والوں کی آنکھوں کی جنبش تک سے عاجزی جھلکتی تھی وہ جب جب فتحیاب ہوتے مزید جھک جاتے یادرہے ہم انہی کے پیروکار ہیں ہمیں اس خوشی کو ایسے منانا ہے جیسے فاتح مکہ کا عمل مکہ میں داخل ہوتے وقت تھا۔
یہ عزت و وقار ہماری میراث نہیں رب کی عطا ہے اس کامیابی کو عجزو انکساری اور شکر کیساتھ امت مسلمہ اور انسانیت کی بقاء کے لیے استعمال کریں اللہ کے اس موقع سے اس کی رضا حاصل کرکے اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کی سعی کریں۔ میمز اور بڑے بڑے متکبرانہ دعوئوں سے اللہ کی ناراضگی و غضب کو دعوت نہ دیں۔



