اسلام آباد(ویب ڈیسک ) پبلک اکائونٹس کمیٹی نے الشفاء آئی ٹرسٹ کی جانب سے پاکستان ریلوے کی زمینوں پر شادی ہال سمیت دیگر کمرشل تعمیرات کرانے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔
کمیٹی کو سیکرٹری ریلوے نے بتایا ریلوے پر 13سے 14ارب روپے پنشن سمیت دیگر واجبات کا بوجھ ہے جبکہ اس وقت اپریٹنگ منافع 1ارب روپے ہے۔ پی اے سی کا اجلاس چیرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا ۔
اجلاس میں پاکستان ریلوے کے مالی سال 2023/24کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ریلوے نے بتایا پاکستان ریلوے کی پنشن کا بجٹ ابھی بھی کافی نہیں ہے اور پنشنرز کو دو سالوں سے پنشن کے فوائد نہیں ملے ہیں ، ابھی 64 ارب کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ13سے 14 ارب کا بوجھ باقی ہے پڑی ہے ۔
ریلوے کا آپریٹنگ منافع ایک ارب کے قریب ہے، ا یم ایل ون اسٹریٹیجک پراجیکٹ ہے جبکہ ایم ایل فور کے تحت گوادر کو مین لائن سے جوڑنا ہے ، تھر کو ریلوے سسٹم سے جوڑ رہے ہیں جبکہ ایم ایل ون کا کراچی سے ملتان تک فیز ون رکھا ہے جس کے بعد ملتان سے پشاور فیز ٹو ہے ۔
اجلاس میں ریلوے کی جانب سے 3 ارب سے زائد کا مٹیریل خریدنے میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے جس پر سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا یہ 100 لوکو موٹو کی مرمت کا پراجیکٹ تھا ۔ اجلاس کے دوران 50کروڑ روپے سے زائد کا ایچ ایس ڈی آئل استعمال کرنے سے متعلق غلط بیانی کے معاملے پر سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ میں نے اس ہفتے انکوائری کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور اگلے دس دنوں میں رپورٹ پی اے سی کو فراہم کردیں گے۔
دریں اثناء پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں گھرکے بجلی کے میٹرز اتارنے پرفیسکوحکام نے ثناء اﷲ مستی خیل سے معافی مانگ لی،جس پر ثناء اﷲ مستی خیل نے معاف کردیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا آئندہ ایسے واقعہ نہ ہواس لیے لیے سب کمیٹی بنائی جائے گی ، کسی ممبر اور پارلیمنٹ کی عزت پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔



