پاک بھارت چار روزہ چھڑپیں ختم ہو چکی ہیں دونوں اطراف فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں بھارت میں آئی پی ایل اور پاکستان میں پی ایس ایل دوبارہ شروع ہو چکی ہے سپہ سالارفیلڈ مارشل بن گئے ہیں میں نہیں جانتا اس کا ملک قوم کو کیا فائدہ ہو گا ، مگر ان چار روزہ جھڑپوں کے بعد وطن عزیز میں 2افسوناک واقعات رونما ہو چکے ہیں ، خیبر پختو نخواہ کے علاقے میر علی میں ڈرون حملے میں بچوں کے بھی شہید ہونے کی اطلاعات ہیں یہ ڈرون حملہ کس نے کیا میڈیا پر خاموشی ہے بلوچستان خضدار میں سکول بس کے قریب دھماکہ میں 6بچے شہید ہوگئے ،فیلڈ مارشل صاحب ادھر بھی توجہ کریں تو عنایت ہو گی ۔
صدر پاکستان آصف علی زراری نے ایک ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ صدر کا دفتر کچھ عرصے کے لئے کوئٹہ منتقل ہو جائے گا وہ وہاں بیٹھ کر بلوچستان کے آنسو خشک کریں گے پتہ نہیں یہ کب ہو گا مگر صدر پاکستان کی خدمت میں کچھ حقائق پیش خدمت ہیں ،بلوچستان میں ماہ اپریل میں 168 افراد لاپتہ جبکہ 67جان سے گئے ۔
ہیومن رائٹس کونسل نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اپریل 2025 میں بلوچستان بھر سے 168 افراد گم ہوئے جن میں سے 42 بازیاب، 13 قتل ہوچکے ہیں جبکہ ایک کو جیل بھیج دیا گیا باقی 112 افراد اس رپورٹ کی اشاعت تک جبراً لاپتہ رہے ،کونسل کے مطابق جبری گم شدگان میں سے 108 افراد کو گھروں سے اٹھایا گیا ، 53 افراد کو عوامی مقامات سے ، 4 شاہراہوں پر قائم چیک پوسٹوں اور 3 افراد کو کیمپوں میں بلا کر غائب کیا گیا ۔
رپورٹ کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے خلاف 90، انٹیلی جنس اداروں پر 44 , کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ 31 اور ریاستی حمایت یافتہ سکواڈ کے خلاف ایک فرد کو جبراً لاپتہ کرنے کی شکایت درج کی گئی ـ سب سے زیادہ طلبا جبری گم شدگی کا شکار ہوئے جن کی کل تعداد 50 ہے ـ
جبری گم شدگی کے بیشتر واقعات ضلع کیچ سے رپورٹ ہوئے جن کی مجموعی تعداد 50 ہے ـ ضلع کوئٹہ سے 22، گوادر سے 20, ڈیرہ بگٹی سے 13, ضلع مستونگ 12, آواران 12, پنجگور 9, بارکھان 8, کراچی سے 5 جب کہ ماشکیل اور کچھی کے اضلاع سے تین، تین افراد کی رپورٹیں سامنے آئیں ـ اس کے علاوہ حب، نوشکی، خضدار اور چاغی کے اضلاع سے دو، دو جب کہ سوراب، واشک اور خاران سے ایک، ایک شخص کی جبری گم شدگی کی رپورٹ درج ہوئی ـ کل ملا کر ماہ اپریل میں 168 افراد جبراً لاپتہ کئے گئے ـ
دیگر واقعات
12 اپریل: گوادر کے نوجوان صحافی اور "گوادر ءِ توار” (صدائے گوادر) کے ایڈمن جاوید ایم بی بلوچ کو نامعلوم فون نمبر سے قتل کی دھمکی ملی ـ
17 اپریل: بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کے وکیل اسرار بلوچ کے گھر واقع کوئٹہ میں نقاب پوش افراد نے حملہ کرکے انہیں اور ان کے بھائی کو یرغمال بنا کر ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور کتابیں بکھیر دیں ـ
19 اپریل: صحافی نیاز بلوچ نے شکایت درج کرائی کہ انہیں جبری گم شدگی سمیت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں ـ
قتل
اپریل 2025 میں 4 خواتین سمیت 66 افراد قتل کئے گئے ـ 21 افراد کو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے فیک انکاؤنٹرز میں قتل کیا ، 16 افراد ہدف بنا کر مارے گئے، 14 افراد فورسز کے مختلف آپریشنوں میں مارے گئے جب کہ 6 افراد مبینہ طور پر حراست کے دوران قتل کئے گئے ـ اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 4 مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں ـ غیرت کے نام پر دو افراد کے قتل کی رپورٹ درج ہوئی ـ
دستیاب ڈیٹا کے مطابق قتل کے زیادہ تر واقعات میں ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا جن میں سے خفیہ اداروں پر 18, ایف سی 12 اور سی ٹی ڈی پر 12 افراد کو مارنے کا الزام لگایا گیا ـ جب کہ مسلح بلوچ تنظیموں نے 7 افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ـ قتل کے زیادہ تر واقعات ضلع کیچ سے رپورٹ ہوئے جن کی مجموعی تعداد 15 رہی ـ
نوٹ: تفصیلی رپورٹ ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے



