پاکستانتازہ ترینکالم

بجٹ، تنخواہ اور فاقے ۔۔اب غریب کیا کرے

عقیل انجم اعوان

کبھی کبھی ایک سوال ایک جملہ یا ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جو تاریخ کے اوراق میں گم نہیں ہوتا۔ وہ لمحہ یاد رہتا ہے وہ سوال زندہ رہتا ہے اور وہ سچ مسلسل گونجتا رہتا ہے جیسے اذان کی بازگشت کسی سنسان ویرانے میں۔ایسا ہی ایک لمحہ اُس وقت آیا جب ایک سابق وزیرِ خزانہ جو اپنی دانش وری اور معاشی بصیرت کے سبب ٹیکنوکریٹ سمجھے جاتے تھے بجٹ پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سامنے موجود تھے۔

حسبِ روایت اُن کے اردگرد بریفنگ کے صفحات، معاونین کے مشورے اور اعداد و شمار کی قطاریں تھیں۔ مگر اُن تمام کاغذوں کو چیرتا ہوا ایک سوال اُبھراایک نوجوان رپورٹر نے پوچھا’’جناب آپ نے جو کم از کم تنخواہ مقرر کی ہے کیا آپ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی خاندان اسی میں پورا مہینہ کیسے گزار سکتا ہے؟‘‘

وزیرِ خزانہ نے کچھ لمحوں کے لیے توقف کیا۔ ان کے چہرے پر ایک خفیف سی حیرانی ابھری اور پھر وہ وہی جملہ بول گئے جو برسوں سے ہر بجٹ کے بعد دہرایا جاتا رہا ہے۔میرا خیال ہے آپ بجٹ کی تکنیکی زبان کو نہیں سمجھتے۔ ظاہر ہے گزارا ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے کہ صحافی سوال کو دہراتا وزیر موصوف کے ہمراہیوں نے مداخلت کی اور گفتگو کا رُخ بدل دیا۔یہ چھوٹا سا واقعہ شاید اُس دن کسی بڑے اخباری شہ سرخی کا حصہ نہ بن سکا ہو مگر آج کئی سال بعد یہ ایک تمثیل بن چکا ہےایک استعارہ جو ہر سال پیش ہونے والے بجٹ اور قوم کی اکثریت کے کٹھن حقائق کے درمیان موجود گہرے خلا کو بے نقاب کرتا ہے۔

گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے نیا وفاقی بجٹ پیش کیا۔ ایک بار پھر اُمیدوں کے قافلے روانہ کیے گئے، وعدوں کے سفینے بہائے گئے اور اعداد و شمار کے دریا میں غریب کے دُکھوں کی کشتی ڈوبتی چلی گئی۔ بجٹ کی تقریر کے دوران ترقی کی نئی راہیں دکھائی گئیں، مہنگائی میں کمی کا راگ الاپا گیا اور خوشحالی کی دہلیز قریب تر بتائی گئی۔ لیکن جسے یہ بجٹ سب سے پہلے چھونا چاہیے تھا وہ طبقہ یعنی عام آدمی، دہاڑی دار مزدور، کسان، تنخواہ دار ملازم اب بھی اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑ رہا ہے۔حکومتِ وقت کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی میں کمی آئی ہے۔

شماریاتی ادارے گواہی دیتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح کچھ نیچے آئی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ کمی اُس انتہاء کے بعد آئی ہے جہاں 2022 اور 2023 کے دوران مہنگائی نے غریب کے تنفس کو بھی قید کر دیا تھا۔ قیمتوں کا نیچے آنا اس وقت معنی خیز ہوتا اگر بنیادی چیزیں قابلِ رسائی ہوتیں۔ اگر دال، آٹا، دودھ، دوائی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات عام شہری کی دسترس میں ہوتیں تو شاید ہم اِسے کمی کہہ سکتے تھے۔ مگر جب ہر چیز کی قیمت پہلے آسمان پر پہنچ چکی ہو تو پھر اس میں تھوڑی سی کمی بھی کسی ریلیف کے مترادف نہیں۔

دراصل جب مہنگائی کی شدت بڑھی تو اس نے سب سے پہلے اُس طبقے کو زخمی کیا جو پہلے ہی کمزور تھا۔قریباً 10 کروڑ پاکستانی یعنی کل آبادی کا 40 فیصد حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ اس طبقے نے اپنے گھریلو بجٹ میں جو کٹوتیاں کی ہیں وہ محض عددی تخمینے نہیں بلکہ زندگی سے جڑے تلخ حقائق ہیں۔

کسی نے بچوں کی تعلیم چھڑا دی، کسی نے اپنی بوڑھی ماں کی دوائی ختم کی، کسی نے ناشتہ صرف چائے پر محدود کر دیا اور کسی نے اپنے گھر کی اشیا بیچ کر بجلی کا بل ادا کیا۔ان محرومیوں کے سائے تلے اگر ہم بجٹ کی تقریر کے فصیح جملے پڑھیں تو وہ مضحکہ خیز محسوس ہوتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ’’قومی ترقی‘‘ کیسے ممکن ہے جب قوم کی نصف آبادی دو وقت کی روٹی کے لیے مجبور ہو چکی ہو؟ کوئی بجٹ کی ترقیاتی اسکیمیں کیسے تسلیم کرے جب اس کے بچے اسکول چھوڑ کر ورکشاپ میں پنکچر لگا رہے ہوں؟

پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا معاملہ پہلے ہی حساس ہے۔ مگر غربت کے اس سیلاب میں جسے بجٹ کے بند نہیں روک پا رہے سب سے پہلا نقصان بھی اُنہی کو پہنچا ہے۔ والدین نے بیٹوں کی تعلیم کو ترجیح دی اور بیٹیوں کو چولہے کی راہ دکھا دی۔ ملک کے کئی علاقوں میں لڑکیاں اب صرف اسکول کا خواب دیکھتی ہیں اور اُن کا بچپن’’مہنگائی‘‘ نامی بلا کے سامنے سر جھکائے گزرتا ہے۔ایسے میں جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں نہ صرف تعلیم کی بات برائے نام ہے بلکہ صحت، پانی، خوراک، روزگار اور خواتین کے تحفظ جیسے بنیادی انسانی حقوق کا بھی کوئی پائیدار خاکہ نظر نہیں آتا۔

جس معاشرے میں بجٹ صرف بڑی سڑکوں، بلند عمارتوں اور تیز رفتار ریل گاڑیوں کے گرد گھومے وہاں پسے ہوئے طبقات کی آواز ہمیشہ دب جاتی ہے۔یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سخت ترین مالیاتی پروگرام کی گرفت میں ہے۔ ان شرائط کے تحت خسارہ کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں اُن کا بوجھ سیدھا نچلے طبقے کی ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے۔ سبسڈی کا خاتمہ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے خور و نوش پر ٹیکس ۔

یہ سب کسی سرمایہ دار کو نہیں بلکہ اُس مزدور کو دُکھ دیتے ہیں جو روز صبح اُٹھ کر بچوں کے دودھ کے لیے پیسے جوڑتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اس’’ترقیاتی نمو‘‘ کے دھوکے میں جیئیں گے؟ کب تک ہم اس سحر میں رہیں گے کہ سڑکیں بنا کر قومیں ترقی کرتی ہیں؟ کب تک ہم موٹر ویز اور انڈر پاسز کو معاشی خوشحالی کا معیار سمجھتے رہیں گے؟حقیقت یہ ہے کہ ترقی وہ ہے جو انسان کو عزت دے اُس کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔ اُسے روزگار، تحفظ اور انصاف فراہم کرے۔ اگر کوئی ترقی لاکھوں انسانوں کو تعلیم سے محروم کر دے تو وہ ترقی نہیں فریب ہے۔ اگر کوئی بجٹ کروڑوں انسانوں کو دوا، غذا اور صاف پانی جیسی بنیادی چیزوں سے محروم رکھے تو وہ بجٹ نہیں معاشی نابرابری کی دستاویز ہے۔

مالی سال کے اختتام پر ایک جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے بدستور پسماندگی کا شکار ہیں۔ کسان جو کبھی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے آج قرضوں تلے دبے ہیں۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں اور تعلیم یافتہ طبقہ ملک سے ہجرت پر مجبور ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جو ہر باشعور ریاست کو خبردار کرتی ہیں کہ اب ترقی کے راستے پر نئی منزلوں کی نشان دہی کی
جائے۔لیکن ایسا کب ممکن ہوگا؟ تب جب بجٹ سازی کا آغاز اُس بنیادی سوال سے کیا جائے جسے برسوں پہلے ایک نوجوان رپورٹر نے پوچھا تھا’’ایک عام خاندان کے لیے کم از کم تنخواہ کیا ہونی چاہیے؟‘‘یہ سوال اگر پارلیمنٹ، وزارتِ خزانہ اور منصوبہ بندی کمیشن کی بحث کا مرکز بن جائے تو شاید ہم اُس دن کے قریب پہنچ جائیں جب بجٹ صرف کاغذی عیاشی نہیں بلکہ غریب کے لیے امید کا چراغ بنے۔کم از کم تنخواہ صرف ایک عدد نہیں ایک وعدہ ہے۔

یہ وعدہ کہ ہم اپنے ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتے ہیں۔ یہ وعدہ کہ کوئی مزدور اپنا خون پسینہ بہا کر بھی فاقے پر مجبور نہیں ہوگا۔ یہ وعدہ کہ ایک باپ بچوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہوگا کیونکہ اُس کی تنخواہ میں مہینے کے آخری ہفتے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔جب تک پاکستان میں کم از کم تنخواہ پر مکمل اور سنجیدہ عملدرآمد نہیں ہوگا تب تک ہر بجٹ خواہ کتنے ہی فصیح انداز میں پیش کیا جائے حقیقت سے کٹا ہوا ہی رہے گا۔حالیہ بجٹ، تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود پہلا اور سب سے اہم امتحان پاس کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ بجٹ اُس غریب کے لیے کچھ نہیں رکھتا جو دن میں مزدوری کرتا ہے اور رات کو بجلی کے بل سے ڈرتا ہے۔

یہ بجٹ اُس ماں کے لیے کوئی سہارا نہیں جو بچوں کو ایک وقت کی روٹی دے کر باقی دن دعاؤں پر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ بجٹ اُس نوجوان کے لیے کوئی امید نہیں جو ڈگری لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔صاف لفظوں میں کہا جائے تو یہ بجٹ ایک ’’غلط آغاز‘‘ ہے۔ ایسا آغاز جو بنیادی انسانی ضرورت یعنی باعزت روزگار اور زندہ رہنے کی کم از کم سہولت فراہم نہیں کرتا۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا ہم اعداد و شمار کے ہیر پھیر سے خوش رہیں گے یا ان چہروں کو دیکھیں گے جو ہر سال بجٹ کے بعد اور زیادہ بجھ جاتے ہیں؟

کیا ہم ترقی کے اس ماڈل کو جاری رکھیں گے جس میں صرف چند شہر، چند منصوبے اور چند طبقات فائدے میں رہتے ہیں یا ہم وہ راستہ اپنائیں گے جو پاکستان کے ہر فرد، ہر گھر اور ہر دل تک روشنی پہنچاتا ہے؟بجٹ صرف معاشی دستاویز نہیں ایک اجتماعی ضمیر کی ترجمانی ہے۔ اگر یہ ضمیر اب بھی جاگنے سے قاصر ہے تو پھر قومیں صرف ترقیاتی خاکوں میں زندہ نہیں رہتیں بلکہ تاریخ میں دفن ہو جاتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button