پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

چترال کا بونی بوزند تورکھو روڈ اور سیاسی بیانیہ

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

چترال کے بالائی علاقوں کو مرکزی چترال سے جوڑنے والا بونی بوزند تورکھو روڈ کئی سالوں سے ایک بنیادی انفراسٹرکچر کی ضرورت رہا ہے۔ تورکھو، بوزند، کھوت، ریچ اور تریچ جیسے حسین مگر پسماندہ علاقے دشوار گزار راستوں، معاشی محرومی اور ترقیاتی عدم توجہی کا شکار رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں اس شاہراہ کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنا ایک دیرینہ عوامی مطالبہ تھا، جو مرحوم شہزادہ محی الدین کے دور سے شروع ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے 28 کروڑ روپے منظور کروا کر اس پر ابتدائی کام کا آغاز کیا۔ اب ان کے بیٹے، سابق رکنِ قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین نے اس روڈ کے منصوبے کو مزید وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے چار اہم آر سی سی پل شامل کروا کر پی سی ون کو 1 ارب 11 کروڑ روپے تک بڑھوایا، جو ایک قابلِ قدر اقدام تھا۔

حالیہ دنوں میں یہ منصوبہ ایک بار پھر سیاسی کشمکش اور عوامی بیانیے کا مرکز بن چکا ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت اور اس کے حامی اس منصوبے کو اپنی قیادت، عوامی خدمت اور وژن کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں بالخصوص شہزادہ افتخارالدین کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ کبھی بھی PSDP سے خارج نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی فنانسنگ، ریویژن اور شفافیت پر مسلسل کام ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق بونی بوزند روڈ کو PSDP 2025-26 میں دوبارہ شامل کرانا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور ڈپٹی اسپیکر محترمہ ثریا بی بی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے چند دن پہلے اس منصوبے کو نکالا تھا لیکن پی ٹی آئی نے عوامی دباؤ، سیاسی بصیرت اور عزم کے ساتھ اسے واپس منظور کروایا، جس سے ان کی “عوامی خدمت” کی سیاست واضح ہوتی ہے۔ ان کے بیانیے میں عمران خان کا ویژن، عوامی مفاد پر سودے بازی سے انکار اور پارٹی کی قیادت کی قوت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کے ترجمان اور سابق رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ منصوبہ کبھی بھی PSDP سے خارج نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بدستور فنانس ڈویژن کے تحت لسٹ میں موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 70 کروڑ روپے کی اضافی رقم کی منظوری کے لیے چوہدری احسن اقبال نے ہدایات جاری کی ہیں اور یہ منصوبہ عنقریب CDWP اجلاس میں زیر غور آئے گا۔

افتخارالدین نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ 1 ارب 81 کروڑ روپے کی منظوری وفاقی حکومت سے لے چکے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے اس حوالے سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے کو کھوت ویلی، ریچ ویلی اور واشچ پل تک وسعت دے کر صوبائی فنڈنگ بھی فراہم کرے۔

شہزادہ افتخارالدین نے منصوبے کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ موجودہ XEN اور SDO کو تبدیل کر کے دیانتدار آفیسرز تعینات کیے جائیں۔ بصورت دیگر، کرپشن کے خدشات کے تحت یہ منصوبہ یا تو متاثر ہو سکتا ہے یا قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پیمائش کی بنیاد پر شفاف ادائیگیاں یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ علاقے کے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن اس منصوبے کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔ پی ٹی آئی اسے "عوام کا مینڈیٹ” اور "عمران خان کی سیاست” سے جوڑتی ہے، جبکہ مسلم لیگ ن اسے شہزادہ افتخارالدین کی انتھک کوششوں، شریف خاندان کی چترال دوستی اور وفاقی اداروں کے تعاون کا ثمر قرار دیتی ہے۔

درحقیقت، یہ منصوبہ ایک عوامی حق ہے، نہ کہ سیاسی کریڈٹ کی جنگ کا میدان۔ دونوں بیانیے اس بات کی دلیل ہیں کہ بونی بوزند روڈ کی اہمیت غیر معمولی ہے اور یہ علاقے ترقی کے انتظار میں ہیں۔

بونی بوزند تورکھو روڈ صرف ایک شاہراہ نہیں بلکہ چترال کے بالائی علاقوں کی ترقی، تعلیم، صحت، تجارت اور سیاحت کے امکانات کا دروازہ بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کو سیاسی کریڈٹ کے بجائے قومی مفاد کا مسئلہ سمجھا جائے۔
شفافیت، نگرانی اور دیانتداری کو ترجیح دی جائے۔عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے تاکہ افواہیں اور پروپیگنڈہ دم توڑ سکیں۔منصوبے کو تورکھو سے آگے ریچ ویلی اور کھوت ویلی تک وسعت دی جائے۔یہ ایک عوامی منصوبہ ہے اسے عوام کے لیے، عوام کی شرکت اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت مکمل کیا جانا چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button